سلطنت عثمانیہ کی تقسیم
| تاریخ سلطنت عثمانیہ |
|---|
|
عروج (1299–1453)
|
|
توسیع (1453–1566) |
|
تقلب (1566–1703)
|
|
زوال (1789–1908)
|
|
خاتمہ (1908–1922)
|
| تاریخ نویسی |
تقسیم سلطنت عثمانیہ ایک سیاسی واقعہ ہے جس میں پہلی جنگ عظیم کے بعد مفتوح عثمانی سلطنت کو فاتح ممالک برطانیہ، فرانس اور اٹلی میں سن 1918ء میں بانٹ دیا گیا۔ اس سیاسی بٹوارے کا منصوبہ اتحادیوں نے جنگ عظیم سے پہلے ہی بنا لیا تھا۔[1] جسے عرف عام میں سیک پیکوٹ ایگریمنٹ کہتے ہیں۔ جنگ کے سے پہلے عثمانی حکومت فاتحین سے تحفظ چاہتی تھی لیکن اتحادیوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ سے عثمانیوں نے جرمنی سے گٹھ جوڑ کیا۔ کثیر لسانی ،نسلی اس سلطنت کو کئی نئے ریاستوں میں بدل دیا گیا۔[2] یہ اسلامی سلطنت جغرافیائی ،ثقافتی اور نظریاتی طور پر اس وقت منفرد مقام رکھتی تھی۔ اس کے بعد سے مشرق وسطی میں مغربیوں بالخصوص برطانیہ کی طاقت ابھر آئی۔ نیز اسی نے ترک جمہوریہ اور عرب دنیا کو بیدار کیا۔ ان مغربی اثرات کی مخالفت ترک قومی تحریک کی جانب سے دیکھی گئی لیکن اس کی کوششیں بھی دوسری جنگ عظیم تک باریاب نا ہوسکیں۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]- عرب بغاوت
- سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ
- سائیکس پیکو معاہدہ
- فرانسیسی تعہد برائے سوریہ اور لبنان
- مملکت عراق (تعہدی انتظامیہ)
- تحریک خلافت (برطانوی ہند میں خلافت موومنٹ)
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Paul C. Helmreich, From Paris to Sèvres: The Partition of the Ottoman Empire at the Peace Conference of 1919–1920 (Ohio University Press, 1974) ISBN 0-8142-0170-9
- ↑ Roderic H. Davison; Review "From Paris to Sèvres: The Partition of the Ottoman Empire at the Peace Conference of 1919–1920" by Paul C. Helmreich in Slavic Review, Vol. 34, No. 1 (Mar. 1975), pp. 186–187
- آرمینیا میں بیسویں صدی
- تاریخ جدید ترکیہ
- تاریخ سلطنت عثمانیہ
- ترکیہ مملکت متحدہ تعلقات
- تقسیم (سیاست)
- سلطنت عثمانیہ مملکت متحدہ تعلقات
- سلطنت عثمانیہ میں بیسویں صدی
- سوریہ میں بیسویں صدی
- عثمانی سوریہ
- عثمانی یونان
- عراق- ترکیہ تعلقات
- عراق میں بیسویں صدی
- اسلام میں 1920ء کی دہائی
- سلطنت عثمانیہ کی تحلیل
- تاریخ آرمینیا
- تاریخ روس
- جدید تاریخ روس
- تاریخ لبنان
- تاریخ یمن
- جدید تاریخ آرمینیا
- جدید تاریخ یونان
- سلطنت برطانیہ