سلمان حسینی ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید سلمان حسینی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1954ء
قومیت بھارتی
نسل حسینی سادات
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ
پیشہ فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سید سلمان حسینی ندوی (ولادت: 1954ء) بھارت کے مشہور عالم اور خطیب ہیں۔ دار العلوم ندوۃ العلماء میں حدیث کے استاذ اور عمید کلیۃ الدعوۃ والاعلام، جامعۃ الامام أحمد بن عرفان الشھید،ملیح آباد،احمد آباد کٹولی، لکھنؤ کے ناظم، جمعیۃ شباب الاسلام کے صدر اور بھارت کے متعدد مدارس کے سرپرست ہیں۔[1] اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ، عالمی رابطہ ادب اسلامی، اسلامی فقہ اکیڈمی اور دیگر کئی تنظیموں اور اداروں کے رکن ہیں۔ بھارت کے مشہور خطیب اور داعی ہیں۔ حدیث اور علوم الحدیث اور شاہ ولی اللہ دہلوی کے علوم سے خصوصی اشتغال ہے۔ تصوف و سلوک میں لاہور کے شاہ نفیس الحسینی اور سید محمد رابع حسنی ندوی کے مجاز بیعت ہیں۔ مولانا کی اسانید حدیث پر محمد اکرم ندوی نے ایک کتاب العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني لکھی ہے جو دار الغرب الإسلامي- بيروتسے 2004ء میں شائع ہوئی۔

حالات زندگی[ترمیم]

سید سلمان حسینی ندوی بن مولانا سید محمد طاہر حسینی کی ولادت 1954ء میں ہوئی۔ منصور پور، مظفرنگر کے سادات بارہہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبد العلی حسنی (برادر اکبر سید ابو الحسن علی ندوی) کے نواسے ہیں۔[2] 1976ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے حدیث میں فضیلت کے بعد ریاض کے جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے 1980ء میں ایم اے کیا، ایم اے کا علمی مقالہ عبد الفتاح ابو غدہ کے زیر نگرانی پورا کیا۔ سید سلمان حسینی علم و فضل اور زور خطابت میں شہرت رکھتے ہیں۔ پہلے بھارت کے شہروں اور دیہاتوں کے خوب دعوتی دورے کیے اور اب دنیا کے ملکوں میں دعوتی دورے ہوتے ہیں۔ لاہور کے بزرگ شاہ نفیس الحسینی سے اصلاح و تربیت کا تعلق تھا اور ان سے مجاز بیعت و ارشاد ہیں۔ ساتھ ہی سید محمد رابع حسنی ندوی کے بھی خلیفۂ مجاز ہیں۔ نیز سوریہ کے نقشبندی شیخ سراج الدین کے بھی مجاز بیعت و ارشاد ہیں۔
مولانا کی اسانید حدیث پر محمد اکرم ندوی نے ایک کتاب العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني لکھی ہے جو دار الغرب الإسلامي- بيروتسے 2004ء میں شائع ہوئی۔ مولانا سلمان حسینی چند چیزوں کی وجہ سے حلقہ اکابر میں کافی شہرت پزیر ہیں آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اصلاح نصاب کے موضوع کو تجدید پسند علما کے درمیان اپنی نگارشات وتقاریر کے ذریعے تحریکی موضوع بناتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ عصر حاضر میں درس نظامی امت مسلمہ کو ایسے افراد مہیا نہیں کرسکتا جو کماحقہ اس کی علمی ،فکری وسیاسی قیادت کرسکیں بلکہ اب ہمیں ایسا وحدانی نظام تعلیم رائج کرنا ہوگا جو صفہ نبوی کے نظام کے موافق ہو اور ثنویت سے پاک ہو ،ورنہ امت کو عروج نصیب نہیں ہوگا - مولانا ہندوستان کے پہلے ایسے عالم ہیں جنہوں نے سعودی عرب کی اسلامی فکر کے خلاف پالیسیوں اور اس کے مغربی فکر کو اپنانے پر کهل کر تنقید کی اور اسلامی قضیوں کے تئیں اس کی سرد مہری ومنافقت کو واشگاف کیا - مولانا ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بابری مسجد -رام مندر کے سلسلے میں باہمی مصالحت کرنے کی پیہم کوشش کی لیکن ہندوستانی اکابر علما نے ان کے نظریہ مصالحت کو قبول نہیں کیا -

تصنیفات[ترمیم]

اردو تصانیف[ترمیم]

  1. اصلاح معاشرہ کے لیے ہم کیا کریں؟
  2. امام بخاری اور ان کی ا لجامع الصحیح (ا یک مختصر اور جامع تعارف)
  3. آزادئ ہند حقیقت یا سراب؟
  4. تقلید و اجتہاد (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے افکار و نظریات کی روشنی میں)
  5. حدیث نبوی کے چند اسباق
  6. خطبات بنگلور
  7. خطبات سیرت
  8. دعوت عمل پیہم
  9. دینی مدارس کا نظام تعلیم، خوب تر سے خوب تر کی تلاش
  10. سفرنامہ ایک طالب علم کا
  11. عصری تعلیم گاہوں میں مسلم طلبہ کے مسائل اور ان کا حل
  12. فارغین مدارس کے ذریعہ اسلامی تمدن کی بازیافت
  13. ماہ رمضان اور پیام قرآن
  14. محدثین کے ہاں فقہ اور فقہا کی اہمیت – مطبوعہ کراچی۔
  15. مسلمان کیا کریں؟
  16. ہمارا نصاب تعلیم کیاہو؟
  17. ہندوستان میں امارت شرعیہ
  18. یہودی خباثتیں (عبد اللہ التل کی کتاب خطر اليهودية العالمية على الإسلام والمسيحية کی اردو ترجمانی)
  19. آخری وحی اردو کے جدید قالب میں

عربی تصانیف[ترمیم]

  1. الأمانة في ضوء القرآن
  2. مشعال المصابيح شرح مشكاة المصابيح للتبريزي
  3. لمحة عن الجرح والتعديل
  4. الإمام ولي الله الدهلوي وآراؤه في التشريع الإسلامي
  5. والتعريف الوجيز بكتب الحديث
  6. المدخل إلى دراسة جامع الترمذي
  7. تعريب: الجزء الثالث والرابع من سلسلة "رجال الفكر والدعوة في الإسلا م" للشيخ أبي الحسن الندوي
  8. تعريب: الجزء الأول والثاني لـ "في مسيرة الحياة" للشيخ أبي الحسن الندوي[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد ثانی حسنی : سوانح مولانا سید محمد الحسنی، سید احمد شہید اکیڈمی، رائے بریلی، دسمبر 2013ء، صفحہ 149 (حاشیہ) ۔
  2. محمد ثانی حسنی : سوانح مولانا سید محمد الحسنی، سید احمد شہید اکیڈمی، رائے بریلی، دسمبر 2013ء، صفحہ 142-143 و 149 (حاشیہ)
  3. سید عبد الماجد الغوری: ابو الحسن الندوي الإمام المفكر الداعية المربي الأدبي، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الثالثة 2005م، صفحہ 911-92

مزید دیکھیے[ترمیم]