سلمی ممتاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلمی ممتاز
سلمی ممتاز

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1926[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 21 جنوری 2012 (85–86 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات ذیابیطس  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلمی ہدایت کارہ، اداکارہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں ہیر سیال، ہیر رانجھا (پاکستانی فلم)، وڈا خان  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلمیٰ ممتاز 1926ء میں جالندھر (برطانوی راج) میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق بے حد غریب گھرانے سے تھا۔ ان کے ماں کے رول پر مبنی تقریباً 300 فلمیں بنیں۔ سلمیٰ ممتاز ایک ایسی فنکارہ تھیں جنہوں نے تین دہائیوں تک پاکستان کی اسکرین پر راج کیا اپنے ابتدائی دور میں تو وہ اردو فلموں میں آئی تھیں مگر وہ پنجابی فلموں کی سب سے سپر کیریکٹر اداکارہ بنیں۔

فلمی کیریئر[ترمیم]

سلمی ممتاز کے ساتھ ان کی بڑی بہن شمی بھی تھیں جو پاکستان کے ابتدائی فلمی دور میں کئی فلموں میں ہیروئن آئیں، جنہوں نے اس دور میں فلم ’’محبوبہ‘‘ ’’تڑپ‘‘ ’’خزاں کے بعد‘‘ اور ’’روحی‘‘ وغیرہ میں بطور ہیروئن کام بھی کیا تھا اور 1963ء تک یہ فلموں میں ہیروئن آتی رہیں۔ انہوں نے معروف اداکار لالہ سدھیر سے شادی بھی کرلی تھی مگر سلمیٰ ممتاز کو ان دنوں فلموں میں کام نہیں ملا تھا اور وہ بطور ڈانسر اپنی ریہرسل کرتی رہتی تھیں۔ سلمیٰ ممتاز کی پاکستان میں پہلی فلم ’’نیلوفر‘‘ تھی جو 1960ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کو رتن کمار فیملی نے بنایا تھا اور اس فلم کے ہیرو رتن کمار تھے اور ہیروئن نیلو تھیں۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کو بطور سپورٹنگ ایکٹریس کے رول میں لیا گیا تھا۔ فلم ’’نیلوفر‘‘ کے پروڈیوسر وزیر اعلیٰ تھے۔ ہدایتکار رفیق رضوی تھے۔ موسیقی سردار حسن کی تھی۔ اس فلم میں نیلو، رتن کمار، ناصرہ، اسد جعفری وغیرہ تھے۔ یہ فلم سلمیٰ ممتاز کی پہلی فلم تھی جو حیات فلمز کی جانب سے 16 دسمبر 1960ء کو ریلیز ہوئی تھی مگر یہ فلم فلاپ ہو گئی تھی۔ اس دور کی ایک مشہور فلم ’’سہیلی‘‘ سپرہٹ ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ فلم ’’رات کے راہی‘‘ ’’سلمیٰ‘‘ اور فلم ’’سلطنت‘‘ وغیرہ بھی سپرہٹ ہوئی تھیں جن میں یہ نہیں تھیں۔ اسی سال ان کی بہن اداکارہ شمی کی فلم ’’ساحل‘‘ بھی ریلیز ہوئی تھی جس کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ان کے بہنوئی لالہ سدھیر تھے اور ان کی بہن شمی جو اس فلم کی ہیروئن تھیں، وہ فلم بھی فلاپ ہو گئی تھی جو سدھیر فلمز کی جانب سے 18 نومبر 1960ء کو ریلیز ہوئی تھی یعنی سلمیٰ ممتاز کی فلم ’’نیلوفر‘‘ سے ایک ماہ پہلے ریلیز ہوئی تھی۔ 1960ء میں ان دونوں بہنوں کی فلمیں فلاپ ہو گئی تھیں۔ سلمیٰ ممتاز کی فلم ’’سہیلی‘‘ سپرہٹ ہوئی تھی جو ان کی شناخت بنی۔ سلمیٰ ممتاز کی دوسری سپرہٹ فلم ’’قیدی‘‘ تھی جس کے ہدایتکار نجم نقوی تھے۔ موسیقار رشید عطرے تھے۔ اس فلم میں درپن، شمیم آرا، لہری، آغا طالش، نذر، علاؤالدین اور سلمیٰ ممتاز وغیرہ تھے۔

فلم ’’قیدی‘‘ رومانٹک میوزیکل فلم تھی۔ اس فلم کے گانے سپرہٹ ہوئے تھے جن میں یہ گانا ’’ایک دیوانے کا اس دل نے کہا مان لیا‘‘ اور نورجہاں کی آواز میں یہ گانا ’’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘، سلمیٰ ممتاز اپنی انہی دونوں فلموں سے فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بنی تھیں جبکہ اس سال پانچ فلمیں سپرہٹ ہوئی تھیں جن میں فلم ’’اولاد‘‘، ’’شہید‘‘، ’’موسیقار‘‘، ’’مہتاب‘‘ اور سلمیٰ ممتاز کی فلم ’’قیدی‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ پانچوں فلمیں عیدالاضحی کے دن 15 مئی 1962ء کو ریلیز ہوئی تھیں۔ فلم ’’قیدی‘‘ سے سلمیٰ ممتاز عروج پر پہنچ گئی تھیں۔

اس سال اور بھی کئی فلمیں ایسی تھیں جو بڑا بزنس کررہی تھیں۔ ان میں فلم ’’بنجارن‘‘ ’’دال میں کالا‘‘ ’’میرا کیا قصور‘‘ ’’عذرا‘‘ ’’سسرال‘‘ ’’گھونگھٹ‘‘ اور ’’چراغ جلتا رہا‘‘ اور اداکارہ شبنم کی پہلی فلم ’’چندا‘‘ بھی ان میں شامل تھی۔ انہی میں سلمیٰ ممتاز کی ایک اور فلم ’’آنچل‘‘ کے نام سے بھی تھی جو ہِٹ ہوئی تھی۔ جس کے ہدایتکار الحمد تھے، موسیقی خلیل احمد کی تھی جو ان کی بطور موسیقار پہلی فلم تھی۔ اس میوزیکل رومانٹک فلم میں شمیم آرا، درپن، پنا (زرّین)، اجمل، طالش، لہری، آزاد اور سلمیٰ ممتاز وغیرہ تھیں۔ یہ فلم سلمیٰ ممتاز کی تیسری سپرہٹ فلم تھی۔ اس فلم کے بعض گانے بھی ایسے تھے جو آج بھی سنے جاتے ہیں، خاص کر احمد رشدی کی آواز میں یہ المیہ گانا ’’کسی چمن میں رہو بہار بن کے رہو‘‘۔ واضح رہے کہ اس گانے کی ریکارڈنگ گلوکار سلیم رضا اور مہدی حسن سے بھی کروائی گئی تھی مگر یہ دونوں اس گانے پر (بقول خلیل احمد مناسب نہیں تھے) ناموزوں تھے۔ اسی فلم کا دوسری سپر ہٹ گیت جو ناہید نیازی اور مہدی حسن کی آواز میں الگ الگ گایا گیا تھا، وہ یہ تھا ’’تجھ کو معلوم نہیں مجھ کو بھلا کیا معلوم‘‘ یہ ہٹ فلم ’’آنچل‘‘ 7 دسمبر 1962ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ ان تینوں فلموں کے ہٹ ہوجانے پر ظاہر سی بات ہے کہ سلمیٰ ممتاز بھی فلمی شائقین کی ہردلعزیز فنکارہ بن گئی تھیں کیونکہ ان فلموں کے ہٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اس فلم کے گانے بھی ہٹ ہوئے تھے اور ان فلموں میں سلمیٰ ممتاز نے بھی کھل کر اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جو ناقابل فراموش ہیں۔

سلمیٰ ممتاز کی پہلی پنجابی فلم ایورنیو پکچرز کی جانب سے ’’موج میلہ‘‘ تھی جو 26 فروری 1963ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ یہ بھی سلمیٰ ممتاز کی سپرہٹ فلم تھی جبکہ اس سال دو اور پنجابی فلمیں سپرہٹ ہوئی تھیں۔ ان میں ایک فلم ’’تیس مار خان‘‘ جو اداکارہ شیریں کی پہلی فلم تھی اور دوسری فلم ’’چوڑیاں‘‘ تھی۔ ان تینوں سپرہٹ فلموں میں سلمیٰ ممتاز کی فلم ’’موج میلہ‘‘ بھی سپرہٹ فلموں میں شامل تھی۔ اسی سال کئی اردو فلمیں بھی سپرہٹ ہوئی تھیں جن میں ’’دامن‘‘ ’’تلاش‘‘ ’’عشق پر زور نہیں‘‘ ’’کالا پانی‘‘ ’’ماں کے آنسو‘‘ ’’یہودی کی لڑکی‘‘ اور فلم ’’شکوہ‘‘ وغیرہ شامل تھیں۔ ان میں فلم ’’شکوہ‘‘ میں بھی سلمیٰ ممتاز تھیں۔ فلم ’’شکوہ‘‘ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر حسن طارق تھے، کہانی ریاض شاہد نے لکھی تھی جبکہ ڈائیلاگ علی سفیان آفاقی کے تھے۔ اس فلم کے موسیقار حسن لطیف اور دیبو تھے۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کے ساتھ صبیحہ خانم، نیلو، درپن، اسد جعفری، علاؤالدین، اسلم پرویز، نذر اور ایمی مینولا وغیرہ تھے۔ فلم ’’شکوہ‘‘ میں سنتوش کمار بطور مہمان اداکار شامل تھے۔ فلم ’’شکوہ‘‘ میں بھی میڈم نورجہاں کا ایک گانا بڑا مقبول ہوا تھا جس کے بول ہیں ’’آج محفل سجانے کو آئی‘‘۔ فلم ’’شکوہ‘‘ 5 اپریل 1963ء کی سلمیٰ ممتاز کی ہٹ فلم تھی جبکہ ان کی بہن اداکارہ شمی کی آخری فلم ’’بغاوت‘‘ کے نام سے دو ماہ قبل عیدالفطر 26 فروری 1963ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر لالہ سدھیر تھے اور ہیروئن شمی تھیں مگر یہ فلم فلاپ ہو گئی تھی جبکہ سلمیٰ ممتاز ہٹ فنکارائوں میں شامل تھیں۔

اسی سال عیدالاضحی کے موقع پر 23 مئی 1963ء کو سلمیٰ ممتاز کی ایک اور فلم ’’باجی‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی تھی۔ ’’باجی‘‘ کی کہانی اور اسکرین پلے انور بٹالوی کے تھے مگر یہ فلم باکس آفس پر ہٹ نہ ہو سکی جبکہ اس فلم کے گانے سپرہٹ ہوئے تھے، خاص کر ملکہ ترنم نورجہاں نے اپنی سریلی آواز میں گایا تھا۔ وہ یہ تھا ’’دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے‘‘۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا تھا کہ فلم کے گانے ہٹ ہوں اور فلم ناکام ہو۔ فلم ’’باجی‘‘ درمیانی درجے سے آگے نہ بڑھ سکی جبکہ اس فلم کے اداکاروں میں زیبا، نیئر سلطانہ، درپن، لہری، ببو، نندا، سلمیٰ ممتاز اور پنا وغیرہ تھے اور مہمان فنکاروں میں سنتوش کمار، نورجہاں، وحید مراد، اعجاز درانی، حبیب، یاسمین، لیلیٰ وغیرہ تھے۔ اس فلم کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ سنتوش کمار فیملی کے تمام فنکار اس فلم سے وابستہ تھے۔ سلمیٰ ممتاز کی فلموں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے۔ ان میں ان کی چند فلموں کے نام یہ ہیں جو اردو زبان میں ریلیز ہوئی تھیں۔ فلم ’’بھائی بھائی‘‘، ’’ایک ہی راستہ‘‘ ’’ظالم‘‘، ’’آوارہ‘‘، ’’میرے ہمسفر‘‘، ’’پاک دامن‘‘، ’’جان آرزو‘‘ اور فلم ’’دل میرا دھڑکن تیری‘‘ وغیرہ۔ پنجابی فلموں میں ’’لٹیرے‘‘، ’’بول بچن‘‘، ’’شابو‘‘، ’’مقابلہ‘‘ ’’میری دھرتی میرا پیار‘‘، ’’دو رنگیلے‘‘، ’’لمبے ہاتھ قانون دے‘‘، ’’خونی خط‘‘، ’’پتر دا پیار‘‘، ’’ات خدا دا ویر‘‘، ’’چن مکھناں‘‘ ،’’جند جان‘‘ اور ’’وریام‘‘ شامل ہیں۔ سلمیٰ ممتاز نے پشتو فلموں میں بھی کام کیا تھا جن میں ان کی ایک فلم ’’جانن‘‘ تھی جس کے پروڈیوسر فاروق خان تھے۔ ہدایتکار جلال الدین خٹک تھے، موسیقی فضل ربی کی تھی۔ اس پشتو فلم میں سلمیٰ ممتاز کے ساتھ یاسمین خان، بیدار بخت، شہناز اور اس فلم کے ہدایتکار جلال الدین خٹک شامل تھے۔ یہ فلم یکم جنوری 1983ء کو ریلیز ہوئی تھی۔

سلمیٰ ممتاز نے ایک پشتو فلم بھی بنائی تھی جس کا نام ’’دازوئے مینا‘‘ تھا۔ اس فلم کے ہدایتکار اعجاز میر تھے، موسیقی جی اے چشتی کی تھی۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کے ساتھ سدھیر، فرودوس، اقبال حسن، علی اعجاز، عالیہ، ننھا، منور ظریف اور اجمل خان وغیرہ تھے۔ اس فلم کی پروڈیوسر سلمیٰ ممتاز تھیں، اس کے علاوہ سلمیٰ ممتاز نے اور بھی کئی فلمیں پروڈیوس کی تھیں جن میں پنجابی فلم ’’بے اولاد‘‘ اور ’’پتر دا پیار‘‘ شامل ہیں۔ سلمیٰ ممتاز نے اپنی زندگی میں اردو، پنجابی اور پشتو سبھی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور شائقین فلم سے کافی داد بھی وصول کی۔ ان کی چند شاہکار فلموں میں ’’دل میرا دھڑکن تیری‘‘، ’’نئی لیلیٰ نیا مجنوں‘‘، ’’عندلیب‘‘، ’’آنسو‘‘، ’’ہتھ جوڑی‘‘، ’’دیا اور طوفان‘‘، ’’ہیر رانجھا‘‘، ’’دھی رانی‘‘ اور ’’ماں پتر‘‘ شامل ہیں۔ سلمیٰ ممتاز کی غالباً آخری اردو فلم ’’میں بنی دلہن‘‘ تھی جو 22 مارچ 1974ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے پروڈیوسر مسعود خان تھے، ہدایتکار ایس۔اے بخاری تھے۔ کہانی آغا حسین نادر نے لکھی تھی اور موسیقی نذیر علی کی تھی۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کے ساتھ شبنم، فرح جلال، منور سعید، شاہد، ساقی، افضال احمد، منزلہ، عشرت چوہدری اور عطیہ شرف وغیرہ تھے اور اس فلم کے بعد سلمیٰ ممتاز نے تقریباً سبھی پنجابی فلموں میں کام کیا تھا۔

ان کی آخری پنجابی فلم ’’پیسہ ناچ نچاوے‘‘ تھی جس کے پروڈیوسر فیروز خان تھے۔ ہدایتکار محمد رشید ڈوگر تھے، کہانی ناصر ادیب نے لکھی تھی اور موسیقار مشتاق علی تھے۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز کے ساتھ سلطان راہی، انجمن، جاوید شیخ، ہمایوں قریشی، شکیلہ قریشی، افضال احمد اور ان کی بیٹی ندا ممتاز وغیرہ تھے۔ یہ فلم 31 اگست 1990ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ سلمیٰ ممتاز کی ایک بیٹی ندا ممتاز بی شوبز کی طرف ہیں۔ ان کا ایک ڈراما ’’سہیلی‘‘ کے نام سے بڑا مقبول ہوا تھا۔ ان کے ایک بھائی پرویز ناصر بھی فلم پروڈیوسر ہیں۔ سلمیٰ ممتاز نے اپنے فلمی کیریئر میں پاکستان کے کئی سپر اسٹارز اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور اس میں ان کی ماں کا رول بھی پلے کیا۔ ان میں اداکار محمد علی، وحید مراد، شاہد اور اکمل وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح سلمیٰ ممتاز کئی سپر اسٹار ہیروئنوں کی ماں بھی بنی تھیں۔ سلمیٰ ممتاز کی دو فلمیں ایسی تھیں جو ایک ہی موضوع پر بنی تھیں، اس میں ایک فلم ’’ہیر سیال‘‘ کے نام سے 3 ستمبر 1965ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں سلمیٰ ممتاز نے اداکارہ فردوس بیگم کی ماں کا رول پلے کیا تھا۔ اس فلم کے ہیرو اکمل خان تھے اور اسی پنجابی فوک اسٹوری پر دوسری فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کے نام سے 19 جون 1970ء کو ریلیز ہوئی تھی اور سپر ہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم میں بھی سلمیٰ ممتاز نے فردوس کی ماں کا رول پلے کیا تھا اور اس فلم کے ایک گیت نے بھی بہت نمایاں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بول ہیں۔ ’’سن ونجلی دی مٹھری تان وے‘‘ نورجہاں کی آواز میں گایا ہوا یہ گانا بھی اپنے دور کے سپرہٹ گانوں میں شمار ہوتا ہے۔ سلمیٰ ممتاز کی بیٹی ندا ممتاز بھی کئی فلموں میں نظر آئی تھیں۔

وفات[ترمیم]

پاکستانی فلموں کی اس فنکارہ نے پاکستان کے ہر ہیرو اور ہیروئن کی ماں کا رول پلے کیا اور آج تک کسی بھی اداکارہ نے مائوں کے اتنے رول ادا نہیں کیے تھے جو سلمیٰ ممتاز کے حصے میں آئے۔ پردئہ اسکرین کی یہ ماں 20 جنوری 2012ء کو لاہور میں 85 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ ان کی بڑی بہن شمی بھی 11 سال قبل 8 جولائی 2001ء کو لاہور میں انتقال کر گئی تھیں۔ سلمیٰ ممتاز کے انتقال کو تو پانچ برس ہو گئے ہیں مگر آج بھی ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو انہیں نہیں بھولے ہیں۔ سلمیٰ ممتاز کا نعم البدل ان کی بیٹی ندا ممتاز بنتی ہیں یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ بہت سے فلمسازوں اور ہدایتکاروں نے انہیں طویل عرصے سے نظرانداز کیا ہوا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سلمی ممتاز ”آرٹسٹ میگزین“ ◄ PakFilms.png پر

  • آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0612619 — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جنوری 2016
  • Veteran actress Salma Mumtaz passes away — اخذ شدہ بتاریخ: 28 اکتوبر 2012 — سے آرکائیو اصل — ناشر: دکن کرانیکل