سلیمان بن طرخان تیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ الاسلام[1]
سلیمان بن طرخان تیمی
حافظ البصرہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام سلیمان بن طرخان تیمی
تاریخ پیدائش سنہ 666  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 761 (94–95 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو المعتمر
لقب تیمی بصری
اولاد P40
عملی زندگی
طبقہ تابعین، طبقہ ابن شہاب زہری
ابن حجر کی رائے ثقہ[2]
استاد P1066
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلیمان بن طرخان تیمی بصرہ کے بڑے عابد و زاہد تابعین میں سے تھے۔ ابن سعد کہتے ہیں عابد مجتہدین میں سے تھے۔[3]

ان کی کنیت ابو المعتمر ہے، بنو تمیم سے نہیں تھے البتہ ان کے گھروں میں تربیت پائی تھی اس لیے اس کی طرف منسوب ہوئے۔ بصرہ میں رہتے تھے، نہایت عبادت گزار اور تہجد گزار تھے، عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے، یعنی رات بھر جاگ کر قیام اللیل کرتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

سلیمان نام، ابو معتمر کنیت ،نسبامری تھے،لیکن بنی تمیم میں بودوباش اختیار کرلینے کی وجہ سے تیمی مشہور ہوگئے تھے، بصرہ کے بڑے عابد وزاہد تابعین میں تھے، کان من العباد المجتھد ین [4]

فضل و کمال[ترمیم]

اگرچہ سلیمان کا طغرائے کمال ان کا زہد و ورع اور ریاضت و عبادت ہے لیکن علمی حیثیت سے بھی وہ بصرہ کے بڑے علمی علماء میں تھے۔ حافظ ذہبی امام اور شیخ الاِسلام کے القاب کے ساتھ ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔[5]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے وہ ممتاز حفاظ میں تھے، ابن سعد انہیں ثقہ اور کثیر الحدیث لکھتے ہیں۔[6] حفاظ کے اکابر محدثین ان کی فقط حدیث دانی کے معترف تھے، سفیان ثوری لکھتے ہیں کہ بصرہ کے حفاظ تین ہیں، ان میں ایک سلیمان کا نام تھا۔[7]

صحابہ میں انہوں نے انس بن مالک اور تابعین میں حسن بصری، اعمش، قتادہ، طاووس بن کیسان، ابو اسحاق سبیعی، ابو عثمان نہدی، ابو نضرہ عبدی، نعیم بن ابی ہند، ابو المنہال سیار بن سلامہ، ثابت البنانی، ابو مجلز لاحق بن حمید، یزید بن عبد اللہ بن شخیر، معبد بن ہلال اور یحییٰ بن معمر وغیرہ سے استفادہ کیا تھا۔[8]

ان کی مرویات کی تعداد دو سو تک پہنچتی ہے۔[9] شعبہ ان سے زیادہ کسی کو سچا نہ سمجھتے تھے۔[10] اور ان کے شک کو بھی یقین کا درجہ دیتے تھے۔[11]

اس حفظ کے باوجود وہ حدیث کے بیان کرنے میں اتنے محتاط تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے وقت ان کا رنگ بدل جاتا تھا۔[12]

احتیاط فی الروایہ[ترمیم]

اس حفظ کے باوجود وہ حدیث بیان کرنے میں اتنے محتاط تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے وقت ان کا رنگ بدل جاتا تھا۔ [13] ان کے تلامذہ کا دائرہ خاصہ وسیع تھا،ان میں معتمر،شعبہ،دونوں سفیان،زائدہ، ابیر،حماد بن سلمہ،ابن علیہ،ابن مبارک،عبد الوارث بن سعید، ابراہیم بن سعد،جریر، حفص بن غیاث عیسیٰ بن یونس ،معاذ بن معاذ،ہشیم،قطان اورمحمد بن عبداللہ انصاری لائق ذکر ہیں۔ [14] زہد وورع :لیکن ان کا اصل طغریٰ کمال اُن کا زہد وورع اوراُن کی عبادت وریاضت ہے ،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ وہ بڑے سخت عبادت گزار لوگوں میں تھے [15]ابن عماد حنبلی لکھتے ہیں کہ وہ عابد وزاہد قائم اللیل صائم النہار اور خدا کے مطیع لوگوں میں تھے۔ [16]

خشیتِ الہیٰ[ترمیم]

خدا کا خوف ان کی رگ وپے میں جاری وساری تھا، یحییٰ القطان کہتے تھے کہ میں نے سلیمان سے زیادہ خدا کا خوف کرنے والا نہیں دیکھا۔ [17]

عبادت وریاضت[ترمیم]

ساری ساری رات عبادت کرتے تھے،اکثر عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے،اُن کے صاحبزادے معتمر بھی باپ کا صحیح نمونہ تھے،دونوں باپ بیٹے رات بھر گھوم گھوم کر مختلف مسجدوں میں نماز پڑھتے تھے ، معتمر کا بیان ہے کہ چالیس سال تک انہوں نے عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، ہر سجدہ میں ستر مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ کہتے تھے، اورعصر سے لے کر مغرب تک تسبیح پڑھتے تھے۔ [18] روزوں سے بھی یہی شغف تھا، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ روزہ رکھتے اوربعض سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن ناغہ دے کر۔ [19]

صدقہ وخیرات[ترمیم]

صدقہ بکثرت کرتے تھے،جریر کا بیان ہے کہ سلیمان ہر وقت صدقہ کیا کرتے تھے،جب صدقہ کے لیے کوئی چیز نہ ملتی تھی،تو اس بدلے میں دور کعت نماز ہی پڑھ لیتے۔ [20]

حسنِ عمل[ترمیم]

غرض ان کی زندگی کا ہر لمحہ حسنِ عمل میں گزرتا تھا، حماد بن سلمہ کا بیان ہے کہ جب ہم خدا کی عبادت کے اوقات میں سلیمان کے پاس جاتے ،تو اُن کی اطاعت ہی کرتے پاتے معلوم ہوتا تھا،کہ ان میں معصیت کا مادہ ہی نہ تھا۔ [21]

مواخذہ کا خوف[ترمیم]

لیکن اس زندگی کے باوجود انہیں اپنے اعمال پر اعتماد نہ تھا کہ خدا کے یہاں کیا معاملہ پیش آنے والاہے، فضیل بن عیاض کا بیان ہے کہ سلیمان سے کسی نے کہا کہ آپ آپ ہی ہیں آپ کے مثل کون ہے،فرمایا ایسا نہ کہو مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا،اس نے خود فرمایا ہے کہ بد الھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون ان کے لیے اللہ کی جانب سے ایسی بات ظاہر ہوگی،جس کا وہ لوگ گمان بھی نہ کرتے تھے۔ [22] ادنی ٰ ادنی باتوں میں مواخذہ کا خوف کرتے تھے،سعید بن عامر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بیمار ہوئے،بیماری کی حالت میں رونے لگے،کسی نے پوچھا رونے کا کیا سبب ہے، فرمایا ایک مرتبہ میں ایک قدری کے پاس سے گزرا تھا تو اسے سلام کیا تھا مجھے خوف ہے کہ اس کا مجھ سے مواخذہ نہ کیا جائے۔ [23]

امر بالمعروف ونہی المنکر[ترمیم]

امر بالمعروف اورنہی المنکر بھی حسنِ عمل کا ایک بڑا درجہ ہے،سلیمان اس کو ایک ضروری فرض سمجھتے تھے اورامراء کے قصور ومحلات میں جاکر اس فرض کو ادا کرتے تھے۔

ایک نکتہ[ترمیم]

زمانہ کا کوئی دورسہولت پسند افراد ؛بلکہ جماعتوں تک سے خالی نہیں رہا ہے اور آج کل تو ہر شخص مذہب میں آسانی ڈھونڈھتا ہے اس قبیل کے اشخاص آسانی کے لیے کسی خاص مسلک کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے اوردلیل یہ دیتے ہیں کہ جب تمام ائمہ برحق ان کی رائیں صحیح اوران کے مسلک درست ہیں،تو پھر کسی خاص امام اورخاص مسلک کی پابندی کیوں ضروری ہے اور الدین یسر کے ماتحت ان سب کے آسان مسائل کیوں نہ اختیار کیے جائیں، سلیمان اس قسم کی سہل پسندی کے مفاسد میں ایک دلچسپ نکتہ ارشاد فرماتے تھے کہ اگر تمام علماء کی رخصتوں،یعنی جائز کردہ چیزوں اوران کی لغزشوں کو تم اختیار کرلو تمہاری ذات میں ساری برائیاں جمع ہوجائیں گی۔ [24]

وفات[ترمیم]

143ھ میں وفات پائی۔ وفات کے وقت ستاون سال کی عمر تھی۔[25]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سير أعلام النبلاء، الذهبي الطبقة الرابعة، سليمان بن طرخان، جـ 6، صـ 196: 202، طبعة مؤسسة الرسالة، 2001م آرکائیو شدہ 2018-02-18 بذریعہ وے بیک مشین
  2. معلومات عن الراوي، سليمان بن طرخان، موسوعة الحديث آرکائیو شدہ 2020-01-10 بذریعہ وے بیک مشین
  3. طبقات ابن سعد ج7 ق2 ص18
  4. (ابن سعد،ج ۷،ق اول،ص ۱۸)
  5. تذکرۃ الحفاظ ج1 ص135
  6. طبقات ابن سعد ج7 ق1 ص18
  7. تہذیب التہذیب ج4 ص202
  8. تہذیب التہذیب ج4 ص201
  9. تہذیب التہذیب ج4 ص201
  10. تذکرۃ الحفاظ ج1 ص135
  11. تہذیب التہذیب ج4 ص30
  12. تذکرۃ الحفاظ ج1 ص135
  13. (تذکرہ الحفاظ :۱/۱۳۵)
  14. (تہذیب التہذیب:۴/۲۰۱)
  15. (ابن سعد،جلد،ق۲،ص۱۸)
  16. (شذرات الذہب :۱/۱۲)
  17. (تذکرہ الحفاظ:۱/۴۵)
  18. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۳۵)
  19. (ایضاً)
  20. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۳۵)
  21. (ایضاً)
  22. (ایضاً)
  23. (ایضاً)
  24. (ابن سعد،ج۷،ق۲،ص۱۸)
  25. تہذیب التہذیب ج4 ص201