سلیمان بن مہران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیمان بن مہران
معلومات شخصیت
لقب اعمش

(اعمش) سلیمان بن مہرانؒ جلیل القدر تابعی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

سلیمان نام،ابو محمد کنیت،اعمش کے لقب سے زیادہ مشہور ہیں،ان کے والد کانام مہران تھا،مہران عجمی النسل تھے،ان کا آبائی وطن طبرستان تھا،ایک روایت یہ ہے کہ مہران ویلم کے کسی معرکہ میں گرفتار ہوئے،دوسرا بیان یہ ہے کہ اعمش کو کوفہ کے بنی کاہل کے ایک شخص نے خریدا تھا اور خریدکر آزاد کر دیا،بہرحال اتنا مسلم ہے کہ اعمش ابتدا میں غلام تھے اوراس غلامی کی نسبت سے وہ کاہلی اوراسدی کہلاتے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

اعمش حضرت حسینؓ کی شہادت کے دن یعنی عاشورہ 61 میں پیدا ہوئے۔ [1]

فضل وکمال[ترمیم]

اگرچہ اعمش کا آغاز غلامی سے ہوا،لیکن ان میں تحصیل علم کی فطری استعداد تھی، خوش قسمتی سے مرکز علم کوفہ میں ان کی نشو و نما ہوئی،اس لیے آگے چل کر وہ کوفہ کی مسند علم وافتا کی زینت بنے،ان کے علمی اور عملی کمالات پر تمام ارباب سیروطبقات کا اتفاق ہے،ابن حجر اور حافظ ذہبی ان کو عابد مرتاض علامۃ الاسلام وشیخ الاسلام کے لقب سے یاد کرتے ہیں، [2] عیسیٰ بن یونس کہتے تھے کہ ہم نے اورہمارے قبل والے قرن کے لوگوں نے اعمش کا مثل نہیں دیکھا۔ ان کو جملہ مذہبی علوم میں یکساں دستگاہ حاصل تھی،ابن عیینہ کا بیان ہے کہ اعمش کتاب اللہ کے بڑے قاری،احادیث کے بڑے حافظ اورعلم فرائض کےماہر تھے۔ [3]

قرآن کے ساتھ ان کو خاص ذوق تھا اورعلوم قرآنی میں وہ راس العلم شمار کیے جاتےتھے [4] ہشیم کا بیان ہے کہ میں نے کوفہ میں اعمش سے بڑا قرآن قاری نہیں دیکھا [5] قرآن کا مستقل درس دیتے تھے؛لیکن آخر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے چھوڑدیا تھا،لیکن شعبان میں تھوڑا قرآن ضرور سناتے تھے،قرأت میں وہ عبد اللہ بن مسعودؓ کےپیرو تھے،ان کی قرأت اتنی مستند تھی کہ لوگ اس کے مطابق اپنے قرآن درست کرتے تھے۔ [6]

حدیث[ترمیم]

حدیث رسول میں ان کے معلومات کا دائرہ نہایت وسیع تھا،حافظ ذہبی انہیں شیخ الاسلام لکھتے ہیں،ابن مدائنی کا بیان ہے کہ محمد ﷺ کی امت میں چھ آدمیوں نے علم (حدیث)کو محفوظ کیا تھا، مکہ میں ابن دینار، مدینہ میں زہری،کوفہ میں ابو اسحق سبیعی اوراعمش اوربصرہ میں قتادہ اور یحییٰ بن کثیر نے [7] ابوبکر عیاش کا بیان ہے کہ ہم لوگ اعمش کو سیدالمحدثین کہتے تھے۔ [8]

ان کی مرویات کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے ،ابن مداینی کے بیان کے مطابق ان کی تعداد تیرہ سو ہے [9] اور بعض دوسری روایات کے مطابق چار ہزار محدث زہری اہل عراق کے علم کے قائل نہ تھے،اسحٰق بن راشد نے ایک مرتبہ ان سے کہا کہ کوفہ میں اسد کا ایک غلام ہے جس کو چار ہزار حدیثیں یاد ہیں،زہری نے تعجب سے پوچھا چار ہزار! اسحق نے کہا ہاں چار ہزار ،اگر آپ کہیں تو میں اس کا کچھ حصہ لاکر آپ کے سامنے پیش کروں؛چنانچہ انہوں نے اعمش کی مرویات کا کچھ حصہ ان کے سامنے پیش کیا، زہری اس کو پڑھتے جاتے تھے اور حیرت سے ان کا رنگ بدلتا جاتا تھا ،مجموعہ ختم کرنے کے بعد بولے خدا کی قسم اسے علم کہتے ہیں، مجھے یہ نہ معلوم تھا کہ کسی کے پاس اتنا علم محفوظ ہوگا [10] شعبہ کہتے تھے کہ حدیث میں مجھ کو جو تشفی اعمش سے ہوئی وہ کسی سے نہیں ہوئی [11] عبد اللہ ابن مسعودؓ کی احادیث خصوصیت کے ساتھ ان کے حافظہ میں زیادہ محفوظ تھیں،قاسم بن عبد الرحمن کہتے تھے کہ کوفہ میں اعمش سے زیادہ عبد اللہ بن مسعودؓکی احادیث کا جاننے والا نہیں ہے۔ [12]

مرویات کاپایہ[ترمیم]

ان کی مرویات کیفیت کے اعتبار سے بھی اعلیٰ درجہ کی تھیں ؛چنانچہ وہ اپنی صداقت اور روایتوں کے معیار کی بلندی کے اعتبار سے مصحف کہے جاتے تھے، [13] ابن عمار کہتے تھے کی محدثین میں اعمش سے زیادہ اثبت کوئی نہیں [14] جریران کی روایات کو دیبائے خسروانی کہتے تھے۔ [15]

احتیاط[ترمیم]

اس علم کے باوجود وہ روایت حدیث میں بڑے محتاط تھے اورزیادہ حدیث بیان کرنا اچھا نہ سمجھتے تھے لوگوں سے کہتے تھے کہ جب تم لوگ(حدیث سننے کے لیے) کسی کے پاس جاتے ہو تو اس کو جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتے ہو،خدا کی قسم یہ لوگ اشرالناس ہیں۔

شیوخ وتلامذہ[ترمیم]

حدیث میں انہوں نے زیادہ تر عبد اللہ بن مسعودؓ ،ان کے بعد انس بن مالکؓ عبد اللہ بن ابی اوفی،زید بن وہب،ابو وائل،ابو عمر شیبانی،قیس بن ابی حازم،اسمعیل بن رجاء ابوصخرہ،جامع بن شداد،ابو ذیبان بن جندب،امام شعبی ،ابراہیم نخعی اورمجاہد بن جبیر وغیرہ سے استفادہ کیا تھا، ان کے تلامذہ میں حکم بن عتبہ،زبید الیمامی ،ابو اسحق سبیعی، سلیمان تیمی،سہیل بن ابو صالح، محمد ابن واسع ،شیعبہ،ابراہیم بن طہمان اورجریر بن حازم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ محدثین کے مراتب پر نظر حدیث میں ان کے کمال کی ایک سند یہ بھی ہے کہ وہ اس عہد کے بڑے بڑے محدثین کے علم پر ناقدانہ نظر رکھتے تھے اور ان کے نزدیک سب کا ایک خاص درجہ متعین تھا، ابوبکر بن عیاش کا بیان ہے کہ ہم لوگ اورمحدثین کے پاس سے لوٹ کر آخر میں اعمش کے پاس جاتے تھے،وہ ہم سے سوال کرتے،کس کے پاس سے آئے ہو؟ ہم بتاتے کہ فلاں شخص کے پا س سے نام سن کر وہ کہتے وہ پھٹا ہوا طبل ہے،پھر پوچھتے ان کے بعد کہاں گئے،ہم لوگ بتاتے فلاں کے پاس،وہ کہتے وہ اڑنے والے طائر ہیں،پھر پوچھتے ان کے بعد ہم لوگ نام بتاتے،فرماتے وہ دف ہیں۔ [16]

فقہ وفرائض[ترمیم]

فقہ وفرائض میں بھی پورا درک رکھتے تھے،فقہا ان کو اپنا سردا رکھتے تھے [17]فرائض میں خصوصیت کے ساتھ بڑی مہارت رکھتے تھے،ابن عینیہ کا بیان ہے کہ وہ فرائض کے بڑے عالم تھے،ان سے پہلے ابراہیم فرائض کے عالم مانے جاتے تھے اور لوگ اس فن میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے،ان کی وفات کے بعد اعمش کی ذات مرجوعہ بن گئی تھی۔ [18]

عبادت وریاضت[ترمیم]

علم کے ساتھ وہ عمل میں بھی یہی درجہ رکھتے تھے،یحییٰ قطان کا بیان ہے کہ وہ عابد وزاہد تھے (ایضاً)یحییٰ بن سعید انہیں عباد وقت میں شمار کرتے تھے،خریبی کا بیان ہے کہ اعمش نے اپنے بعد کسی کو اپنے سے بڑا عبادت گزار نہیں چھوڑا [19] حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ وہ علم نافع اورعمل صالح دونوں کے سردار تھے [20] نماز باجماعت میں یہ اہتمام تھا کہ ستر سال تک تکبیر اولیٰ تک قضا نہیں ہوئی۔ [21]

امرا سے استغنا اور بے نیازی[ترمیم]

اعمش خاصان خدا اور صلحائے امت کی طرح دولت دنیاسے بالکل تہی دامن تھے،معیشت کی طرف سے بھی ا ن کو پورا اطمینان نہ تھا، لیکن اس فقروا حتیاج کے باوجود امرا اورارباب دول سے نہ صرف بے نیاز تھے ؛بلکہ ان کو نہایت حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے،عیسی بن یونس کا بیان ہے کہ اعمش کے فقرواحتیاج کے باوجود میں نے ان سے زیادہ امرا اورسلاطین کو کسی کی نگاہ میں حقیر نہیں پایا[22] امام شعرابی لکھتے ہیں کہ اعمش کو روٹی تک میسر نہ تھی، لیکن ان کی مجلس میں اغنیا اورسلاطین سب سےبڑے فقیر معلوم ہوتے تھے۔ [23]

ان کی جرأت کا ایک واقعہ[ترمیم]

امرا کے مقابلہ میں ان کی جرأت وبے باکی کا یہ واقعہ لائق ذکر ہے خلیفہ ہشام نے ایک مرتبہ ان کو لکھا کہ حضرت عثمان ؓ کے فضائل اور حضرت علیؓ کی برائیاں میرے لیے قلمبند کردیجئے، انہوں نے شاہی قاصد کے سامنے اس خط کو بکری کو کھلادیا اورقاصد سے کہا یہ تمہاری تحریر کا جواب ہے،جب قاصد نے جواب کے لیے زیادہ اصرار کیا تو یہ جواب لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم!اما بعد اگر عثمانؓ کی ذات میں ساری دنیا کے انسانوں کی خوبیاں جمع ہوں تو بھی اس سے تمہاری ذات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اوراگر علیؓ کی ذات میں دنیا بھر کی برائیاں مجتمع ہوں تو اس سے تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا،تم کو صرف اپنے نفس کی خبر رکھنی چاہیے۔ [24]

فیاضی[ترمیم]

طبعاً بڑے فیاض تھے،ابوبکر بن عیاش کا بیان ہے کہ ہم لوگ جب اعمش کے پاس جاتے تھے،تو ہم کو کچھ نہ کچھ کھلاتے تھے۔ [25]

نفس کی تحقیر[ترمیم]

ان ظاہری وباطنی کمالات کے باوجود وہ اپنی ذات کو بالکل حقیر اورہیچ سمجھتے تھے؛چنانچہ وصیت کی تھی کہ جب میں مرجاؤں تو کسی کو میری موت کی اطلاع نہ دی جائے اورمجھ کو مرے رب کے پاس لے جاکر لحد میں پھینک دیا جائے میں اس سے بھی فروتر اورحقیر ہوں کہ لوگ میرے جنازہ میں شرکت کریں۔ [26]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (طبقات ابن سعد:6/229)
  2. (تذکرۃ الحفاظ:1/138 وتذیب التہذیب :4/223)
  3. (تذکرہ الحفاظ:1/138)
  4. (تہذیب التہذیب:4/223)
  5. (تاریخ خطیب:9/6)
  6. (ابن سعد:6/238)
  7. (تہذیب التہذیب:4/223)
  8. (خطیب بغدادی :9/11)
  9. (شذرات الذہب :1/231)
  10. (ابن سعد :6/239)
  11. (تاریخ خطیب:9/10)
  12. (تاریخ خطیب:9/10)
  13. (تذکرہ الحفاظ :1/138)
  14. (تہذیب :4/223)
  15. (تاریخ:9/710)
  16. (تاریخ خطیب:9/11)
  17. (تاریخ خطیب:9/8)
  18. (ایضاً:9)
  19. (تہذیب التہذیب :4/224)
  20. (تذکرہ الحفاظ:1/138)
  21. (تاریخ خطبیب :9/8)
  22. (تہذیب التہذیب:4/264)
  23. (طبقات کبریٰ امام شعرانی:1/38)
  24. (شذرات الذہب :1/421)
  25. (تاریخ خطیب :9/11)
  26. (طبقات کبریٰ امام شعرانی :1/38)