سلیمان بن یسار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سات فقہائے مدینہ

”سلیمان بن یسار“ آپ فقہائے سبعہ میں شمار ہوتے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

سلیمان بن یسار کی ولادت 34ھ -(654ء)ایرانی نژاد یسار کے ہاں عثمان غنی کے زمانۂ خلافت کے اواخر میں ہوئی۔ وہ ام المومنین سیدہ میمونہ ہلالیہ کے غلام تھے اس لیے ہلالی کہلاتے تھے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ سیدہ میمونہ نے سلیمان کی ولایت عبد اللہ بن عباس کو سونپ دی تھی۔

نام ونسب[ترمیم]

سلیمان نام، ابو تراب کنیت،ام المومنین حضرت میمونہ کی غلامی کا شرف رکھتے تھے،پھر انہوں نے ان کو مکاتب بنادیا تھا، اس غلامی نے سلیمان کو علم و عمل کی دولت سے مالا مال کردیا تھا۔

کنیت[ترمیم]

سلیمان کی کنیت ابو ایوب ،ابو عبد الرحمٰن اور ابو عبد اﷲ بیان کی گئی ہے۔

فقہائے سبعہ[ترمیم]

سلیمان مدینہ کے مفتی تھے اور ان کا شمار اس شہر کے فقہاے سبعہ میں ہوتا تھا، اس اعتبارسے ان کی نسبت مدنی تھی۔

کثیر الحدیث[ترمیم]

سلیمان کثیر الحدیث تھے۔ انہوں نے امہات المومنین سیدہ عائشہ،سیدہ ام سلمہ اورسیدہ میمونہ سے، جلیل القدر صحابہ جابر بن عبداﷲ،حسان بن ثابت ،حمزہ بن عمرو، رافع بن خدیج، زیدبن ثابت ،عبد اﷲبن حارث بن نوفل،عبد ا للہ بن عمر،مقدادبن اسود، ابو سعید خدری ،عبد اللہ بن عباس، ابو ہریرہ،مسعو د بن حکم، سے حدیث روایت کی ۔ ان سے حدیث رسول سیکھنے والوں میں یہ بڑے بڑے نام ہیں:ان کے بھائی عطا بن یسار،اسامہ بن زید،بکیر بن اشج شامل ہیں سلیمان بن یسار کو ثقہ اورحجت مانا جاتا تھا ۔ انتہائی خوبرو جوان تھے۔ ایک عورت نے ان کو بہکانے کی کوشش کی تو اسے گھر میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہ کہتی رہ گئی کہ میں تجھے رسوا کر دوں گی۔ حامل علم ہونے کے ساتھ سلیمان عابد وپرہیزگا ر بھی تھے۔ اکثر روزے سے رہتے۔ انھوں نے دمشق کا سفر بھی کیا اور یزید بن جابر کے مہمان ہوئے ۔

وفات[ترمیم]

سلیمان107ھ- (725ء) میں فوت ہوئے۔ اسی سال سعید بن مسیّب ،علی بن حسین زین العابدین اور ابوبکر بن عبد الرحمان مخزومی نے وفات پائی، اس لیے یہ عام الفقہا کے نام سے مشہور ہے۔ ۔،[1] [2] [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاعلام خیر الدین زرکلی
  2. طبقات ابن سعد
  3. سیراعلام النبلاء،ذہبی