سلیمان کا ہدہد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سلیمان علیہ السلام کا ہدہد یہ ایک پرندہ ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں سورہ النمل کی آیت 22 میں آیا ہے۔

  • Ra bracket.png فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ Aya-22.png La bracket.png

حضرت سلمان اور ہد ہد کی بات چیت کا ذکر اس طرح ہے ایک مرتبہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے دربار میں پورے جاہ وجلال کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ انسان، جنات، حیوانات کے نمائندے بھی موجود تھے لیکن پرندوں میں ہدہد موجود نہ تھا۔ فرمایا کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو موجود نہیں پاتا؟ اگر وہ واقعی غیر حاض رہے تو اس کو سخت سزادوں گا یا پھر ذبح کر ڈالوں گا۔ الاّ یہ کہ وہ اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان کرے۔ اسی غضب میں تھے کہ ہدہد حاضر ہو گیا اور حضرت سلیمان کے سوال پر کہنے لگا کہ میں ایک یقینی خبر لایا ہوں جسے آپ نہیں جانتے۔ وہ یہ ہے کہ سبا کے ملک پر ایک ملکہ حکمرانی کرتی ہے۔ اللہ نے اس کو سب کچھ دے رکھا ہے اور اس کا تخت نہایت عظیم الشان ہے ملکہ اور اس کی قوم سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ الٰہ واحدکی عبادت نہیں کرتے شیطان نے ان کی سورج پرستی کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ خبر سن کر فرمایا کہ تیری سچائی کا ابھی علم ہو جائے گا۔ میرا خط لے جا اور اس کو ان تک پہنچا اور انتظار کر کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر اڑا اور خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا ملکہ خط پڑھ کر اہل دربار سے کہنے لگی کہ ابھی ابھی یہ خط سلیمان کی جانب سے آیا ہے۔ جو اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو بڑا مہربان رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ خط کا مضمون یہ ہے کہ تم سرکشی کا اظہار نہ کرو اور میرے پاس تابعدار ہو کر آجاؤ۔[1] وزیروں مشیروں نے کہا جہاں تک مرعوب ہونے کا تعلق ہے اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم طاقت ور اور جنگی قوت کے مالک ہیں البتہ آخری فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں۔ ملکہ نے کہا بیشک ہم طاقتور ہیں لیکن سلیمان کے معاملے میں ہمیں جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ پہلے اپنے نمائندے بھیجوں جو اس کی خدمت میں تحائف پیش کریں۔ اس سے اس کی شان وشوکت اور مزاج کا اندازہ لگائیں کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی قوت وشوکت کے مالک ہیں تو پھر ان سے لڑنا فضول ہے۔ کیونکہ فاتح بادشاہوں کا وتیرہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی شہر میں فاتحانہ طور پر داخل ہوتے ہیں تو اس شہر کو برباد اور باعزت شہریوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔[2] قاضی ثناء اللہ نے ذکر کیا کہ یہ ہدہد یمن کے ہدہد سے خبر لایا تھا ہدہد سلیمان (علیہ السلام) کا نام یعفور اور ہدہد یمن کا نام عنفیر تھا۔[3] سبا ایک قوم کا نام ہے جو یمن میں صنعا سے قریب آباد تھی اور جس کا دارالسلطنت مآرب تھا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. القرآن، سورہ النمل آیت 31
  2. تفسیر فہم القرآن میاں محمد جمیل،سورۃ النمل،آیت22
  3. تفسیر مظہری ،قاضی ثناءاللہ پانی پتی،سورۃ النمل،آیت22
  4. تفسیر دعوت قرآن شمس پیرزادہ سورۃ النمل،آیت22