سلیم احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیم احمد
پیدائش 27 نومبر 1927(1927-11-27)ء

کھیولی، ضلع بارہ بنکی، برطانوی ہندوستان
وفات 1 ستمبر 1983(1983-90-01) (عمر  55 سال)

کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ پاپوش نگر قبرستان، کراچی
قلمی نام سلیم احمد
پیشہ شاعر، نقاد، ڈراما نویس، کالم نگار
زبان اردو
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف شاعری، تنقید، کالم
نمایاں کام چراغِ نیم شب
بیاض
ادھوری جدیدیت
ادبی اقدار
اہم اعزازات نگار ایوارڈ برائے بہترین کہانی کار

سلیم احمد (پیدائش: 27 نومبر، 1927ء - وفات: یکم ستمبر، 1983ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف شاعر، نقاد، ڈراما نویس اور کالم نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

سلیم احمد 27 نومبر، 1927ء کو قصبے کھیولی، بارہ بنکی ضلع، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک پاس کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے تعلقات استوار ہوئے جو دمِ آخر تک قائم رہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کر دی تھے۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ ان کی وجہ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ، صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔[1]

سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈراما نویس بھی تھے۔ انہوں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے متعدد ڈرامے تحریر کیے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم راز کی کہانی بھی تحریر کی جس ہر انہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔[1]

سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغِ نیم شب اور مشرق، تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟، ادھوری جدیدت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

  • بیاض
  • اکائی
  • چراغِ نیم شب
  • مشرق

تنقید[ترمیم]

  • ادبی اقدار
  • نئی نظم اور پورا آدمی
  • غالب کون؟
  • ادھوری جدیدت
  • اقبال ایک شاعر
  • محمد حسن عسکری آدمی یا انسان

سلیم احمد کے شخصیت و فن پر تحقیقی مقالات[ترمیم]

سلیم احمد: شخصیت اور فن (پی ایچ ڈی مقالہ)، مختار احمد اعظمی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، 1994ء

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

عمر بھر کاوش اظہار نے سونے نہ دیاحرف نا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا
دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتیگھر کی قیدِ در و دیوار نے سونے نہ دیا
تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہتہوس سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا
کبھی اقرار کی لذت نے جگائے رکھاکبھی اندیشۂ انکار نے سونے نہ دیا
ہو گئی صبح بدلتے رہے پہلو شب بھرایک کروٹ پہ دلِ زار نے سونے نہ دیا

وفات[ترمیم]

سلیم احمد یکم ستمبر، 1983ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 547، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء