سلیم اللہ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیم اللہ خان
Salimullah Khan.jpg
مقامی نام সলিমুল্লাহ খান
پیدائش 18 اگست 1958ء (عمر 61 سال)
کاکس بازار، مشرقی پاکستان، پاکستان
پیشہ پروفیسر، مصنف، محقق، دانشور
زبان بنگالی
قومیت بانگلادیشی
مادر علمی ڈھاکہ یونیورسٹی
دہ نیو اسکول

سلیم اللہ خان (بنگالی: সলিমুল্লাহ খান؛ پیدائش: 18 اگست 1958ء) ایک بانگلادیشی پروفیسر، مصنف، محقق اور دانشور ہیں۔ وہ بانگلادیش کے معزز اور مشہور دانشوروں میں سے ایک ہیں۔‍[1][2][3][4] خان قومی اور بین القوامی سیاست اور تہذیب کو مارکسی اور لاکانی نظریات کے وساطت سے واضح کرتے ہیں۔ وہ احمد صفا کے خیالات سے واقف اور متاثر ہیں۔ بنگلہ دیش کے نوجوان مصنف اور مفکرین میں اُن کے کئی فولوارس ہیں۔ خان نے افلاطون، جیمس رینل، شارل بودلیر، فرانز فانوں، ڈاروتھی ژولہ وغیرہ کے کام بنگالی میں ترجمہ کیے۔[5][6][7][8][9] وہ بنگلہ دیش کے مختلف ٹیلی ویژن چینلوں کے قومی و بین القوامی سیاست و تہذیب سے متعلق ٹاک شوز میں باقاعدہ حاضر رہتے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مصنف زندگی[ترمیم]

سیاسی نظریہ[ترمیم]

بنگالی زبان پر نظریہ[ترمیم]

تنازع اور تنقید[ترمیم]

کتابیں[ترمیم]

نثر[ترمیم]

  • بانگلادیش: جاتیہ اوستھار چالچتر (1983ء)
  • ستیہ صدام حسین و ’سراج الدولہ‘ (2007ء)
  • آمک تمی سے (2008ء)
  • Silence: On Crimes of Power (ء2009)
  • آدمبوما (2009ء)
  • احمد سفا سنجیونی (2010ء)
  • سوادھینتا ویاوسائے (2011ء)
  • فرایڈ پڑار بھومکا (2005ء)
  • بے ہاتھ وپلو 1971 (2007ء)

شاعری[ترمیم]

  • ایک آکاشیر سوپن (1981ء)

ترجمہ[ترمیم]

  • اللاہر بادشاہی: Dorothee Sölle کی منتخب نظمیں (1998ء)
  • Collected Works of Plato , V. 1 (2005ء) (ساتھی مترجم)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ananta Yusuf (24 جنوری 2014)۔ "The Origins of Communalism"۔ The Daily Star (English زبان میں)۔ Dhaka: Transcom Group۔ مورخہ 4 اپریل 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2018۔ Salimullah Khan ... is one of the most respected academics and essayists of the country.
  2. "'Many streams of education are allowed, so why not Dawra?'"۔ Dhaka Tribune (انگریزی زبان میں)۔ 22 اپریل 2017۔ مورخہ 17 اپریل 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2018۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  3. "Salimullah Khan"۔ NTV Online (Bengali زبان میں)۔ مورخہ 17 اپریل 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2018۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  4. Moyukh Mahtab (27 اپریل 2017)۔ "Will this lead to integration?"۔ The Daily Star (English زبان میں)۔ Dhaka: Transcom Group۔ مورخہ 4 اپریل 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2018۔
  5. Salimullah Khan۔ "জেমস রেনেল ও তাঁহার রোজনামচা ১৭৬৪-৬৭"۔ bdnews24.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2012۔
  6. "গ্রীষ্মের কবিতা উৎসব"۔ Prothom Alo۔ 29 مئی 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2016۔
  7. Salimullah Khan۔ "সাম্রাজ্যবাদের যুগে দুই বিশ্বের কবিতা"۔ bdnews24.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 فروری 2012۔
  8. মুস্তাফা সায়ীদ (16 مارچ 1999)، 'বাংলা সাহিত্যে নতুন মেহমানঃ ডরোথি জুল্লে'، শৈলী, বর্ষ ৫, সংখ্যা ৩, পৃষ্ঠা ৪৭-৫০
  9. আলম খোরশেদ۔ "'আল্লাহর বাদশাহিঃ একটি চন্ডাল পুথি'"۔ পরবাস, তৃতীয় বর্ষ, দ্বিতীয় সংখ্যা, শরত, ১৪০৬۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔