سلیم رضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلیم رضا
معلومات شخصیت
پیدائش 4 مارچ 1932(1932-03-04)ء
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 نومبر 1983(1983-11-25) (عمر  51 سال)
وینکوور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
پیشہ گلو کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صنف پس پردہ فلمی گلوکاری
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلیم رضا (انگریزی: Saleem Raza) (پیدائش: 4 مارچ، 1932ء - وفات: 25 نومبر، 1983ء) پاکستان کے نامور پس پردہ فلمی گلوکار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

سلیم رضا 4 مارچ، 1932ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام Noel Dias تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے، لاہور میں سکونت اختیار کی اور اپنا نام تبدیل کرکے سلیم رضا رکھ لیا۔[1][2]۔ انہوں نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ فلم نوکر سے ان کی فلمی کیریئر کا آغاز ہوا اور پھر ان کی آواز ہر فلم میں جادو جگانے لگی۔[2]

سلیم رضا کے مشہور فلمی نغمات میں یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (سات لاکھ)، اے دل کسی کی یاد میں، جان بہاراں رشک چمن (عذرا) اور کہیں دو دل جو مل جاتے (سہیلی) جیسے متعدد یادگار نغمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جادو یہ نگاہیں (گلفام)، تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم (جب سے دیکھا ہے تمہیں)، میرے دل کی انجمن میں (قیدی) اور مشہور نعت شاہ مدینہ (نوراسلام) سرفہرست ہیں۔ تاہم 1966ء میں فلم پائل کی جھنکار کے گیت حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں کے بعد ان کا زوال شروع ہو گیا۔[2]

فلمی صنعت میں احمد رشدی، مہدی حسن، مسعود رانا، مجیب عالم اور دیگر گلوکاروں کی آمد کے بعد ان کی مانگ میں کمی آتی چلی گئی اور وہ مایوس ہو کر کینیڈا چلے گئے جہاں انہوں نے 1975ء میں موسیقی کا ایک اسکول قائم کیا۔[1]

وفات[ترمیم]

سلیم رضا 25 نومبر 1983ء میں گردوں کے امراض میں مبتلا ہو کر 51 سال کی عمر میں وینکوور، کینیڈا میں انتقال کر گئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]