مندرجات کا رخ کریں

سماجی لسانیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سماجی لسانیات (انگریزی: Sociolinguistics) (Sociolinguistics) زبان اور معاشرہ کے درمیان تعامل کا تفصیلی مطالعہ ہے، جس میں ثقافتی اصولوں، توقعات اور سیاق و سباق کے ساتھ زبان کے استعمال کو جانچا جاتا ہے۔ یہ میدان لسانیات کا معاشرتی مطالعہ (sociology of language) سے جُڑا ہوا ہے، جو خاص طور پر زبان کے معاشرے پر اثرات پر توجہ دیتا ہے۔

لسانیاتِ معاشرہ کا تعلق عملی لسانیات (pragmatics) سے بھی ہے اور یہ لسانی انسانیات (linguistic anthropology) سے قریبی طور پر وابستہ ہے۔

سماجی لسانیات اور انسانیات کے درمیان تاریخی تعلق کو اس وقت بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف سماجی عوامل جیسے کہ نسل، مذہب، معاشرتی حیثیت، صنف، تعلیم کی سطح، عمر یا جغرافیائی حدود (جیسے پہاڑی سلسلے، صحرا یا دریا) سے الگ الگ گروہوں میں زبان کیسے مختلف انداز سے استعمال ہوتی ہے۔ ان مطالعات میں اس بات پر بھی غور کیا جاتا ہے کہ زبان کے استعمال میں یہ فرق کس طرح معاشرتی یا معاشی طبقات کو پیدا کرتا یا ان کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے زبان کا استعمال مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے، ویسے ہی یہ مختلف سماجی طبقوں میں بھی مختلف انداز سے پایا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین لسانیات انھی بولیوں کا مطالعہ کرتے ہیں، جنھیں معاشرتی بولیاں (sociolects) کہا جاتا ہے۔

سماجی لسانیات کے میدان میں تحقیق کے لیے کئی طریقۂ کار استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں میدانی تحقیق (ethnography)، مشاہدہ، روز مرہ مکالمات یا انٹرویوز کی آواز یا ویڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ شامل ہے۔ بعض محققین ان ریکارڈ شدہ گفتگوؤں سے حاصل شدہ زبان کے تغیرات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ دیگر تحقیقی طریقوں میں matched-guise test (جس میں سامعین مختلف زبانوں یا لہجوں کو سن کر اپنی آراء دیتے ہیں)، بولی کے جائزے (dialect surveys) اور پہلے سے موجود کارپس کا تجزیہ شامل ہے۔ [1]


مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. John J. Gumperz؛ Jenny Cook-Gumperz (2008)۔ "Studying language, culture, and society: Sociolinguistics or linguistic anthropology?"۔ Journal of Sociolinguistics۔ ج 12 شمارہ 4: 532–545۔ DOI:10.1111/j.1467-9841.2008.00378.x