سماجی ممانعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سماجی ممانعت (انگریزی: Taboo) ایک طرح سے بالواسطہ ممانعت ہے کہ سماج کا کوئی فرد کسی معاملے میں لب کشائی نہ کرے یا کسی معاملے میں پہلے نہ کرے۔ مثلًا مغربی دنیا میں عام طور سے کسی کے ازدواجی موقف، تنخواہ وغیرہ پر کچھ بھی بلا وجہ کہنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ اس معاشرے میں ڈیٹنگ اور ایک رات کی صحبت ممنوع نہیں سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بر عکس بہت سے ایشیائی ممالک میں شادی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ زن و مرد کے قریبی تعلق یا غیر زوجی جنسی تعلق نہ صرف یہ کہ ناقابل قبول سمجھے جاتے ہیں، بلکہ انہیں انتہائی گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ کئی بار لوگوں کو اس کے لیے سزا بھی ہو چکی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایران جیسے ملک میں کسی اخبار لڑکا لڑکے کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصویر چھپنے پر مدیر کو قید کی سزا دی گئی تھی۔


شخصی آزادی کے کچھ پہلو اور سماجی ممانعت[ترمیم]

مغربی دنیا میں کام کی عزت کا تصور معاشرے میں کافی چھایا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے سماج میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص کیا کام کرتا ہے، لوگ اس کی ہر حال میں عزت کرتے ہیں۔ تاہم ایشیائی ممالک میں سماج میں درجہ بندیاں ہیں۔ اس وجہ لوگ کچھ پیشوں کو جیسے کہ سرکاری افسر کا عہدہ، بڑی کمپنی میں ملازمت وغیرہ کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے بر عکس حجامت اور بھنگی کا پیشہ کافی مکروہ سمجھے جاتے ہیں۔ لطف تو یہ بھی ہے کہ مغربی دنیا میں بھنگی کا کام یا گھر کی ڈرینج کی صفائی کا کام مغرب میں ایک خصوصی اہمیت کا حامل پیشہ ہے اور اس کے لیے کافی پیسہ دیا جاتا ہے۔ ایشییائی ملکوں میں بھی جاپان جیسے ملک میں لوگ بھنگی کے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس میں شامل لوگ خصوصی تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہیں کافی معاوضہ بھی ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ایشیائی ملکوں میں نہ صرف شادی کو ایک مضبوط اور اٹوٹ رشتہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ طلاق کو مذموم چیز سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بر عکس مغربی دنیا میں طلاق کچھ بھی معیوب نہیں ہے۔ یہاں لوگ شادیاں اور طلاق اسی سکون اور اطمینان سے انجام دیتے ہیں۔ اس کا اندازہ ہالی وڈ کی ادا کارہ الزبتھ ٹیلر کی زندگی سے ہو سکتا ہے جس نے زندگی میں آٹھ بار شادیاں کی اور ہر بار وہ طلاق پر ختم ہوئی، اس کے علاوہ موصوفہ کے زندگی کے کئی معاشقے اخبارات و رسائل کی زینت بن چکے تھے۔

کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستانی خواتین کے موٹرسائیکل چلانے پر غیر اعلانیہ پابندی احساس شرمندگی سے جنم لینے والی سماجی ممانعت کی پیداوار ہے۔ سائیکل چلانا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اس ممانعت سے مراد اخلاقی نکتہ نظر یا مذہبی اعتقاد کی بنا پر کسی عمل کو روکنا ہے۔ ایسے کاموں سے بد حواسی جنم لیتی ہے چنانچہ ان معاملات کو زیر بحث لانے کے بجائے چھپانا اور ان پر بات نہ کرنا ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]