سمتیہ فضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term
سمتیہ فضا
لکیری فضا
Vector Space
Linear Space

ایسے عناصر کا مجموعہ جہاں جمع/تفریق کے عمل ممکن ہوں، اور عناصر کو چھوٹا بڑا کیا جا سکتا ہو، سمتیہ فضا کہلاتا ہے۔ اب ہم مکمل تعریف دیتے ہیں۔ اگر کسی مجموعہ V کے عناصر X، Y، Z، وغیرہ مندرجہ ذیل قواعد پر پورے اتریں، تو ایسے مجموعہ کو سمتیہ فضا کہیں گے، اور عناصر کو سمتیہ:

قواعد[ترمیم]

  • جمع
  1. X+Y   مجموعہ V کا عنصر ہو
  2. X+Y = Y+X   (مبدلی)
  3. (X+Y) + Z = X + (Y+Z)   (مشارکی)
  4. X+0=X   ( صفر شناخت عنصر (0) کی موجودگی)
  5. X+(-X)=0   (جمعیاتی اُلٹ، تفریق ممکن)


اعداد a، b، وغیرہ کے لیے

  • اعداد سے ضرب
  1. aX   مجموعہ V کا عنصر ہو
  2. (ab)X=a(bX)‬   (مشارکی)‬
  3. (a+b)X=aX+bX ‬   (توزیعی )‬
  4. a(X+Y)=aX+aY‬   (توزیعی)
  5. 1 X=X‬   ضربی شناخت عنصر (1) کی موجودگی

انگریزی میں سمتیہ کو vector اور سمتیہ فضا کو vector spaceکہتے ہیں۔

مثال  \mathbb{R}^2 [ترمیم]

Simtia vetor single.png ایک پلین میں کسی بھی نکتہ کو دو پیمائشوں کے زریعہ ڈھونڈا جا سکتا ہے، ایک ابتداء (origin) مقرر کر کے، افقی پیمائیش کو عموماً x لکھا جاتا ہے اور عمودی پیمائیش کو y ۔ اس طرح اس نکتہ کو عموماً ‭(x, y)‬ لکھا جاتا ہے۔ ان دو اعداد (جو میدان  \mathbb{R} میں ہیں) کو ایک \ 2 \times 1 میٹرکس کے بطور یوں \left[\begin{matrix} x \\ y\end{matrix}\right] لکھا جا سکتا ہے ۔ یعنی پلین کے کسی بھی نکتہ کو بطور سمتیہ یوں \left[\begin{matrix} x \\ y\end{matrix}\right] لکھا جا سکتا ہے۔ اب چونکہ یہ سمتیہ ایک میٹرکس ہیں، اس لیے میٹرکس حساب کے قائدے استعمال کرتے ہوئے سمتیہ فضا کی تمام لوازمات پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے  \mathbb{R}^2 کے نکتے ایک سمتیہ فضا بناتے ہیں۔  \mathbb{R}^2 میں سمتیہ کی قطبی صورت کے لیے دیکھو۔ سمتیہ U=\left[\begin{matrix} x \\ y\end{matrix}\right] کو قطبی صورت میں مطلق قیمت  r = {(U^tU)}^{1/2} = \sqrt{x^2 + y^2} اور زاویہ  \theta = \tan^{-1}\frac{y}{x} سے دیا جاتا ہے، اور سمتیہ کو تصویری صورت میں ابتداء (0,0) سے نکتہ (x,y) تک ایک تیر کے نشان سے دکھایا جاتا ہے، جس کی لمبائی r اور دائیں افقی دھُرا (x-axis) سے زاویہ \theta ہوتا ہے۔ غور کرو کہ قطبی صورت میں بھی نکتہ کو دو اعداد سے لکھا جاتا ہے (مطلق قیمت اور زاویہ) مگر ان دو مقداروں کو بطور میٹرکس نہیں لکھا جا سکتا (یعنی میٹرکس حساب کے قاعدے لاگو نہیں کیے جا سکتے)۔

شکل ۲ میں نکتہ ‭(x=a, y=b)‬ کو سمتیہ U سے دکھایا ہے، جہاں ابتداء ‭(x=0, y=0)‬ پر ہے۔ اسی طرح شکل ۲ کے نکات کو سمتیہ کے روپ میں (بطور میٹرکس) یوں لکھتے ہیں: 
U=\left[\begin{matrix} a \\ b \end{matrix}\right] \,,\,
V=\left[\begin{matrix} c \\ d \end{matrix}\right] \,,\,
W=\left[\begin{matrix} e \\ f \end{matrix}\right]

شکل ۲ شکل ۳
Simtia vector add.png Simtia translated.png

اب سمتیہ U سے سمتیہ V کی طرف ہٹاؤ سمتیہ R سے دکھایا گیا ہے۔ اسے میٹرکس ریاضی کے قواعد کے مطابق یوں لکھا جا سکتا ہے 
R= V - U = 
\left[\begin{matrix} c \\ d \end{matrix}\right] -
\left[\begin{matrix} a \\ b \end{matrix}\right] =
\left[\begin{matrix} c-a \\ d-b \end{matrix}\right] 
غور کرو کہ سمتیہ R کی سمت نکتہ ‭(x=a, y=b)‬ سے نکتہ ‭(x=c, y=d)‬ سیدھی لکیر کی طرف ہے، اور سمتیہ کی لمبائی (مطلق قیمت) ان نکات کے درمیان سیدھی لکیر میں فاصلہ ہے۔ اس لیے اس سمتیہ کو ان نکات کے درمیان ہٹاؤ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھو کہ سمتیہ R چونکہ دو نکتوں کے درمیاں ہے، اس لیے اگر ابتداء کو کسی اور نکتہ پر لے جایا جائے، تو اس کا اس سمتیہ R پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس لیے اکثر کہا جاتا ہے کہ سمتیہ ایسی شئے ہے جو کہ ایک مطلق قیمت (magnitude) اور فضا میں ایک رُخ (direction) سے تعریف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح نکتہ ‭(x=c, y=d)‬ سے نکتہ ‭(x=e, y=f)‬ کے درمیان ہٹاؤ سمتیہ G ہے، جو سمتیہ V کو سمتیہ W میں سے تفریق کر کے حاصل ہوتا ہے۔ 
G= W-V  = 
\left[\begin{matrix} e \\ f \end{matrix}\right] -
\left[\begin{matrix} c \\ d \end{matrix}\right] =
\left[\begin{matrix} e-c \\ f-d \end{matrix}\right] 
فرض کرو کہ ہم نکتہ ‭(x=a, y=b)‬ سے نکتہ (x=c, y=d) ہٹتے ہیں (سمتیہ R )، اور پھر نکتہ (x=e, y=f) کی طرف ہٹ جاتے ہیں (سمتیہ G )۔ اب ہمارا کُل ہٹاؤ سمتیہ B ہے جو کہ سمتیہ R اور سمیتہ G کی جمع ہے۔ 
B= R + G  = 
\left[\begin{matrix} c-a \\ d-b \end{matrix}\right] -
\left[\begin{matrix} e-c \\ f-d \end{matrix}\right] =
\left[\begin{matrix} e-a \\ f-b \end{matrix}\right]  = 
W - U
غور کرو کہ سمتیہ B صرف اپنے شروع اور آخر کے نکات سے نکل آتا ہے (سفر کی ابتدا اور آخری منزل، اور درمیانی منزل سے آزاد ہے)۔

اب چونکہ سمتیہ اپنی مطلق قیمت اور رُخ سے تعریف ہو جاتا ہے، اس لیے کسی سمتیہ کو اس کے متوازی گھسیٹا جا سکتا ہے۔ شکل ۳ میں ہم نے سمتیہ R، B ، W ، کو گھسیٹ کر ان کی دُم ابتداء پر رکھ دی ہیں۔

سمتیہ تفریق: جیومیٹری[ترمیم]

اب جیومیٹری کے نقطہ نظر سے سمتیہ تفریق پر نظر ڈالتے ہیں۔ سمتیہ B میں سے R کو تفریق کر کے سمتیہ G ملتا ہے، G=B-R ۔ اس کا طریقہ یوں ہؤا کہ B اور R کی دُمیں ملا دو، اور R کے سر سے B کے سر تک سمتیہ فرق G ہے۔

سمتیہ جمع: جیومیٹری[ترمیم]

اسی طرح جیومیٹری کے نقطہ نگاہ سے سمتیہ جمع پر نظر ڈالتے ہیں۔ سمتیہ R اور G کو جمع کر کے سمتیہ B ملتا ہے، B=R+G ۔ اس کا طریقہ یوں ہؤا کہ سمتیہ G کی دُم سمتیہ R کے سر کے ساتھ جوڑو، اور پھر R کی دُم سے G کے سر تک سمتیہ جمع B ہے۔

مثال  \mathbb{R}^n [ترمیم]

بعینہ  \mathbb{R}^n فضا میں نکتوں کو بطور \ n \times 1 میٹرکس لکھا جا سکتا ہے، اور یہ نکتے ایک سمتیہ فضا بناتے ہیں۔ (یاد رہے کہ بعض اوقات نکات کو بجائے \ n \times 1 میٹرکس کے ایک \ 1 \times n میٹرکس کے بطور بھی لکھا جاتا ہے۔) ایک سمتیہ کو یوں لکھا جائے گا: 
X = \left[\begin{matrix}
x_0 \\
x_1 \\
\vdots \\
x_{n-1}
\end{matrix}\right]\,\,,\, x_k \in \mathbb{R}

مثال کے طور پر تین رُخی مستطیل فضا میں کسی جسم کا مقام تین پیمائیشوں z، y ،x، سے دیا جا سکتا ہے، اور اس طرح اس جسم کی سمتار بھی تین اعداد سے دی جا سکتی ہے۔ اس طرح وقت k پر جسم کے مقام اور سمتار پر مبنی 6رُخی سمتیہ یوں لکھا جا سکتا ہے: 
X_k = \left[\begin{matrix}
x \\
y \\
z \\
v_x \\
v_y \\
v_z
\end{matrix}\right]

مدیدی سمتیہ[ترمیم]

تفصیلی مضمون : مدیدی سمتیہ

ایسے سمتیہ کا مجموعہ، جن کے لکیری تولیف سے فضا کا کوئی بھی سمتیہ بن جاتا ہو، اس فضاء کے لیے مدیدی سمتیہ (spanning vectors) کا مجموعہ کہلاتا ہے۔

شکل 4
Simtia basis r2.png

شکل 4 میں \mathbb{R}^2 کا مستوی دکھایا گیا ہے۔ سرخ دھُرا پر واقعہ سمتیہ e_0=\left[\begin{matrix}1 \\ 0 \end{matrix}\right] اور e_1=\left[\begin{matrix}0 \\ 1 \end{matrix}\right] (شکل 4 میں سرخ نکتے) \mathbb{R}^2 کے قدرتی بنیاد سمتیہ کہلاتے ہیں، کیونکہ \mathbb{R}^2 فضاء کا کوئی بھی نکتہ ان دو سمتیوں کے لکیری تولیف کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً نکتہ‭(x,y)‬ یوں لکھ سکتے ہیں: \left[\begin{matrix}x \\ y \end{matrix}\right] = x e_0 + y e_1

غور کرو کہ سرخ دھُرا کے بجائے ہم سبز دھُرا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے شکل ۴ میں سبز نکتوں سے دو سمتیہ دکھائے گئے ہیں، جو (سرخ دھُرا کے حوالے سے) یوں ہیں: v_0=\left[\begin{matrix}1/\sqrt{2} \\ 1/\sqrt{2} \end{matrix}\right] اور v_1=\left[\begin{matrix}-1/\sqrt{2} \\ 1/\sqrt{2} \end{matrix}\right] اب نکتہ ‭(x,y)‬ کو ان سبز سمتیہ کے لکیری تولیف کے طور پر یوں لکھا جا سکتا ہے: \left[\begin{matrix}x \\ y \end{matrix}\right] = a v_0 + b v_1
= a \left[\begin{matrix}\frac{1}{\sqrt{2}} \\ \frac{1}{\sqrt{2}} 
\end{matrix}\right]
+ b \left[\begin{matrix}
-\frac{1}{\sqrt{2}} \\ \frac{1}{\sqrt{2}}
\end{matrix}\right] 
یعنی سرخ دھُرا کے نکتہ ‭(x,y) ‬ کو سبز دھُرا میں نکتہ ‭(a,b)‬ کہا جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں جو نکتہ مدیدی سمتیہ ‭e0, e1 ‬ کے حوالے سے ‭(x=0.8, y=1.4)‬ تھا، وہی نکتہ مدیدی سمتیہ ‭v0, v1 ‬ کے حوالے سے ‭(a=1.56, b=0.42)‬ کہلائے گا۔

اب ‭e0, e1, v0, v1‬ بھی ایک مدیدی سمتیہ کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ کی مدد سے ہم اسی ‭(x=0.8, y=1.4) ‬ نکتہ کو لکھ کر دیکھتے ہیں: 
\left[\begin{matrix}
0.8 \\ 1.4 \end{matrix}
\right] 
= c_0 e_0 + c_1 e_1 + c_2 v_0 + c_3 v_1
= c_0 \left[\begin{matrix}1 \\ 0 \end{matrix}\right]  +
c_1 \left[\begin{matrix}0 \\ 1 \end{matrix}\right]  +
c_2 \left[\begin{matrix}\frac{1}{\sqrt{2}} \\ \frac{1}{\sqrt{2}} 
\end{matrix}\right] +
c_3 \left[\begin{matrix}
-\frac{1}{\sqrt{2}} \\ \frac{1}{\sqrt{2}}
\end{matrix}\right]
یا

\left[\begin{matrix}
1 & 0 & \frac{1}{\sqrt{2}} & -\frac{1}{\sqrt{2}} \\ 
0 & 1 & \frac{1}{\sqrt{2}} & \frac{1}{\sqrt{2}} 
\end{matrix}\right] 
\left[\begin{matrix}
c_0 \\ c_1 \\ c_2 \\ c_3 
\end{matrix}\right] =
\left[\begin{matrix}0.8 \\ 1.4 \end{matrix}\right] 
غور کرو کہ اس میٹرکس کے ستون مدیدی سمتیہ ہیں، اور ہمیں یہ یکلخت لکیری مساوات کا نظام  \begin{matrix}
c_0 + \frac{1}{\sqrt{2}} c_2   - \frac{1}{\sqrt{2}} c_3  &=& 0.8 \\
c_1 + \frac{1}{\sqrt{2}} c_2  + \frac{1}{\sqrt{2}} c_3  &=& 1.4
\end{matrix}
حل کر کے ‭c0, c1, c2, c3‬ نکالنا ہیں۔ اب چونکہ مساوات صرف دو ہیں جبکہ متغیر چار، اس لیے ہم کسی بھی دو متغیر کو اپنی مرضی کی قیمت دے کر باقی دو متغیر کی قیمتیں مساوات سے نکال سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مساوات کے لامحدود حل ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

Possible representations of (x,y) w.r.t. spanning vectors e0, e1, v0, v1
c0 c1 c2 c3
0.5 0.5 0.85 0.42
0.1 0.7 1.0 0
2 ‎-3 2.26 3.96

اس سے پتہ چلا کہ مدیدی سمتیہ‭e0, e1, v0, v1‬ کے حوالہ سے نکات کا ایک واحد روپ نہیں۔ شکل ۴ سے ظاہر ہے کہ \mathbb{R}^2 میں کوئی بھی دو سمتیہ جو آپس میں متوازی نہ ہوں، نکات کا واحد روپ نکالنے کے لیے کافی ہیں۔ \mathbb{R}^2 میں دو سے زیادہ سمتیہ چننے سے ایک ہی نکتہ کے بہت سے روپ ممکن ہو جاتے ہیں۔ یہ بات ہمیں اگلے موضوع بنیاد سمتیہ کی طرف لے جاتی ہے۔

بنیاد سمتیہ[ترمیم]

تفصیلی مضمون: بنیاد سمتیہ

جیسا کہ اوپر بیان ہؤا کہ ایسے سمتیہ کا مجموعہ v_0, v_1, \cdots, v_{n-1} جن کے لکیری تولیف (linear combination) سے سمتیہ فضاء کا کوئی بھی سمتیہ v یوں لکھا جا سکے:
v= c_0 v_0 + c_1 v_1 + \cdots + c_{n-1} v_{n-1}
ایسے مجموعہ کو مدیدی سمتیہ کہتے ہیں، اور کو ان مدیدی سمتیے کے حوالے سے \begin{matrix}c_0, c_1, \cdots, c_{n-1}\end{matrix} کو سمتیہ v کی صورت (representation) کہتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی مدیدی سمتیہ مجموعہ کے حوالہ سے ایک ہی سمتیہ کی ایک سے زیادہ صورتیں ممکن ہوں۔

بنیاد سمتیہ (تعریف)[ترمیم]

مدیدی سمتیہ کا ایسا مجموعہ جس کے حوالہ سے فضاء کے کسی بھی سمتیہ کی صرف ایک واحد صورت ممکن ہو، ایسے مجموعہ کو سمتیہ فضاء کا بنیاد سمتیہ مجموعہ (basis vectors) کہتے ہیں۔

مسلئہ اثباتی (بنیاد سمتیہ کی لکیری آزادی)[ترمیم]

بنیاد سمتیہ مجموعہ کے تمام سمتیہ آپس میں باہمی لکیری آزاد ہوتے ہیں۔ یعنی بنیاد سمتیہ مجموعہ میں سے کسی سمتیہ کو باقی ماندہ بنیاد سمتیہ کے لکیری تولیف کے طور پر نہیں لکھا جا سکتا۔ دوسرے الفاظ میں اگر v_0, v_1, \cdots, v_{n-1} بنیاد سمتیہ کا مجموعہ ہے، تو درج زیل مساوات کا کوئی حل ممکن نہیں
c_0 v_0 + c_1 v_1 + \cdots + c_{n-1} v_{n-1} = 0
یعنی ایسے کوئی \begin{matrix}c_0, c_1, \cdots, c_{n-1}\end{matrix} نہیں جو کہ اس مساوات کی تسکین کر سکیں۔

\mathbb{R}^n میں قدرتی بنیاد سمتیہ[ترمیم]

\mathbb{R}^n میں نیچے دیے قائم الزاویہ بنیاد سمتیہ کے مجموعہ کو \mathbb{R}^n کا قدرتی بنیاد سمتیہ (مجموعہ) کہا جاتا ہے۔ \begin{matrix}
e_0 = \left[\begin{matrix}1 \\ 0 \\ \vdots \\ 0 \end{matrix}\right], 
e_1 = \left[\begin{matrix}0 \\ 1 \\ \vdots \\ 0 \end{matrix}\right],
\cdots ,
e_{n-1} = \left[\begin{matrix}0 \\ 0 \\ \vdots \\ 1 \end{matrix}\right]
\end{matrix}

مثال[ترمیم]

شکل ۴ میں \mathbb{R}^2 کے لیے یہ جوڑے بنیاد سمتیہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں:

  1. e0, e1
  2. e0, v0
  3. e0, v1
  4. e1, v0
  5. e1, v1

یعنی کوئی بھی دو ایسے سمتیہ جو آپس میں متوازی نہ ہوں، بنیاد سمتیہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بنیاد سمتیہ کے حوالے سے (منفرد) صورت[ترمیم]

فرض کرو کہ سمتیہ فضا V کے بنیاد سمتیہ کا ایک مجموعہ v_0, v_1, ..., v_{n-1} ہے (ان بنیاد سمتیہ کی تعداد n ہے)۔ اب V کے کسی بھی سمتیہ v کو ان بنیاد سمتیہ کے لکیری تولیف کے طور پر یوں لکھا جا سکتا ہے:
v = c_0 v_0 + c_1 v_1 + ... + c_{n-1} v_{n-1}
گویا اس بنیاد سمتیہ مجموعہ کے حوالے سے سمتیہ v کی صورت کو \mathbb{R}^n کے ایک رکن کے بطور یوں لکھا جا سکتا ہے: c=\left[\begin{matrix} 
c_0 \\
c_1 \\
\vdots \\
c_{n-1}
\end{matrix}\right]

\mathbb{R}^n کے بنیاد سمتیہ کے حوالے سے صورت نکالنے کا طریقہ[ترمیم]

\mathbb{R}^n میں دیے گئے بنیاد سمتیہ کے مجموعہ کے حوالے سے کسی سمتیہ X= 
\left[\begin{matrix} x_0 \\ x_1 \\ \vdots \\ x_{n-1}
\end{matrix}\right] کی صورت نکالنے کا طریقہ یہ ہے۔ بنیاد سمتیہ کے مجموعہ v_0, v_1, \cdots, v_{n-1} کو میٹرکس صورت میں لکھو، یعنی ایسی میٹرکس جس کا ہر ستون ایک بنیاد سمتیہ ہو: 
V= \left[\begin{matrix}
v_0 \, v_1 \cdots v_{n-1}
\end{matrix}\right]
جسے زیادہ تفصیل میں یوں لکھا جا سکتا ہے (ہر ستون ایک سمتیہ ہے) 
V= \left[\begin{matrix}
v_{0,0} & v_{1,0} & \cdots & v_{n-1,0} \\
v_{0,1} & v_{1,1} & \cdots & v_{n-1,1} \\
\vdots    & \vdots    & \cdots & \vdots \\
v_{0,n-1} & v_{1,n-1} & \cdots & v_{n-1,n-1} 
\end{matrix}\right]
اب درج ذیل یکلخت لکیری مساوات کا نظام کا حل نکالو

V  \left[\begin{matrix}
c_0 \\ c_1 \\ \vdots \\ c_{n-1}
\end{matrix}\right] = X
یہ حل \begin{matrix}c_0, c_1, \cdots, c_{n-1}\end{matrix} ان بنیاد سمتیہ کے حوالے سے سمتیہ X کی صورت (representation) ہو گا۔

قائم الزاویہ بنیاد سمتیہ[ترمیم]

ایسے بنیاد سمتیہ کا مجموعہ v_0, v_1, \cdots, v_{n-1} جس میں شامل تمام سمتیہ آپس میں قائم الزاویہ ہوں، ایسے مجموعہ کو قائم الزاویہ (orthogonal) بنیاد سمتیہ کا مجموعہ کہا جاتا ہے۔ یعنی
v_{i}^t v_{j} = 0 \,,\, i \ne j
v_{i}^t v_{i} = 1
دوسرے الفاظ میں قائم الزاویہ بنیاد سمتیہ کی میٹرکس V=[v_0 \, v1 \cdots v_{n-1}] کے لیے ضروری ہے کہ V^t V = I جہاں I شناخت میٹرکس ہے۔

شکل ۴ میں یہ جوڑے (جو کہ آپس میں نوے درجہ کے زاویہ پر ہیں) قائم الزاویہ بنیاد سمتیہ کا جوڑا بناتے ہیں:

  1. e0, e1
  2. v0, v1

یعنی \mathbb{R}^2 میں قدرتی بنیاد سمتیہ e0, e1 کی میٹرکس \left[\begin{matrix}
 1 & 0 \\
 0 & 1
\end{matrix}\right]
قائم الزاویہ (میٹرکس) ہے۔ اسی طرح \mathbb{R}^2 میں بنیاد سمتیہ v0, v1 کی میٹرکس V= \left[ \begin{matrix}
\frac{1}{\sqrt{2}} & -\frac{1}{\sqrt{2}} \\
\frac{1}{\sqrt{2}} &  \frac{1}{\sqrt{2}}
\end{matrix}\right] قائم الزاویہ (میٹرکس) ہے۔ یعنی V^t V = I جہاں I شناخت میٹرکس ہے۔

اوپر ہم نے "بنیاد سمتیہ کے حوالے سے صورت نکالنے کا طریقہ" دیکھا۔ قائم الزاویہ بنیاد سمتیہ کی صورت میں c_0 کی مساوات یوں بنتی ہے: 
c_0 =X^t v_0= x_0 v_{0,0} + x_1 v_{0,1} + ... + x_{n-1} v_{0,n-1}
دوسرے الفاظ میں نکتہ (سمتیہ) X کی سمتیہ v_0 پر پروجیکشن (projection) c_0 ہے۔

سمتیہ ذیلی فضا[ترمیم]

تفصیلی مضمون: لکیری ذیلی فضا

تعریف: ذیلی مجموعہ (subset): ایک مجموعہ (set) کا ذیلی مجموعہ میں اصل مجموعہ مٰٰیں موجود عنصر میں سے کچھ عناصر ہونگے۔

سمتیہ فضا کے مجموعہ کا ایسا ذیلی مجموعہ جو خود بھی ایک سمتیہ فضا ہو، کو سمتیہ ذیلی فضا کہتے ہیں۔ انگریزی میں اسے vector subspace کہتے ہیں۔ کوئی بھی ذیلی مجموعہ سمتیہ فضا کے قواعد 2 سے 5 پورے کرے گا۔ یہ جاننے کے لیے ذیلی مجموعہ ایک سمتیہ فضا ہے یا نہٰیں، ہمیں صرف اسے قواعد 1 کے لیے پرکھنا ہوتا ہے۔

مثال: اگر \ m \le n ، تو سمتیہ فضا \mathbb{R}^n کی سمتیہ ذیلی فضا \mathbb{R}^m ہو گی۔
Simtia planes 3 2.png مثال: تصویر میں معکب فضا \mathbb{R}^3 کی ایک سمتیہ ذیلی فضا نیلے پلین سے دکھایا گئی ہے۔ \mathbb{R}^3 میں سمتیہ تین اعداد (معکب کی تین سمتوں X، Y، Z، کی اطراف پیمائیش، ابتداء سے) سے یوں دیا جاتا ہے، \left[\begin{matrix}x \\y \\z \end{matrix}\right] ، جبکہ سمتیہ ذیلی فضا (نیلا پلین) پر سمتیہ یوں ہے \left[\begin{matrix}x \\y \\-6x+17y \end{matrix}\right]
جو میٹرکس تفاعل کے زریعے یوں لکھا جا سکتا ہے \left[\begin{matrix}x \\y \\-6x+17y \end{matrix}\right] 
=\left[\begin{matrix}
1  & 0   & 0 \\
0  & 1   & 0 \\
-6 & 17 & 0
\end{matrix}\right]
\left[\begin{matrix}x \\y \\z\end{matrix}\right]
غور کرو کہ اگرچہ نیلا پلین صرف دو رُخی ہے مگر" قدرتی بنیاد سمتیہ" (e0,e1,e2) کے لحاظ سے پھر بھی اس کا کوئی نکتہ ڈھونڈنے کے لیے تین عدد چاہیے ہیں۔ اگر ہم ان قدرتی بنیاد سمتیہ کو ایسے گھمائیں کر دو بنیاد سمتیہ نیلے پلین کے متوازی ہو جائیں، تو ان نئے بنیاد سمتیہ کی رو سے نیلے پلین کا کوئی بھی نکتہ لکھتے ہوئے تیسرا عدد صفر ہو گا۔ اس تناظر میں لکیری استحالہ میں مثال ۱ بھی دیکھو، جس کی رو سے نیلے پلین کے کسی نکتہ کو لکھنے کے لیے دو عدد کافی ہو سکتے ہیں۔ گویا نیلا پلین \mathbb{R}^3 کی سمتیہ ذیلی فضا ہے جس کا بُعد (ڈائیمینشن) 2 ہے۔

اور دیکھو[ترمیم]

Linear Space / Vector Space


E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے     ریاضی علامات