سمپردائے
سمپردائے (سنسکرت: सम्प्रदाय) ہندوستانی الاصل مذاہب خصوصاً ہندومت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت میں مذہبی روایت یا روحانی سلسلے کو کہا جاتا ہے۔ [1][حاشیہ 1] اس سے مراد ایسا فکری یا روحانی مکتب ہوتا ہے جو کسی خاص تعلیم، روایت یا استاد کے سلسلۂ شاگردی کے ذریعے آگے منتقل ہوتا ہے۔ دھرم کی بقا اور اس کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف سمپردائے عموماً ’گُرو شِشْیَہ پرمپرا‘ (یعنی استاد اور شاگرد کے سلسلے) پر قائم ہوتے ہیں۔ اس نظام میں گرو (استاد) اور ششیہ (شاگرد) کی پے در پے نسلیں ایک روحانی سلسلہ بناتی ہیں جس کے ذریعے تعلیمات منتقل ہوتی ہیں اور مذہبی شناخت کو استحکام ملتا ہے۔ لفظ ’شرمن‘ ویدک اصطلاح ہے جس کا مفہوم طلب گار یا شِشْیَہ کے قریب ہے۔ سمپردائے سے وابستگی جامد نہیں سمجھی جاتی بلکہ اس میں لچک پائی جاتی ہے؛ یعنی کوئی شخص ایک سمپردائے کو چھوڑ کر دوسرے میں شامل ہو سکتا ہے یا بیک وقت ایک سے زیادہ سمپردائے کی پیروی کرتے ہوئے مذہبی امتزاج اختیار کر سکتا ہے۔
پنجابی زبان میں ’سمپردا‘ کی شکل بھی مستعمل ہے، جو سکھ مت میں سمپردائے کے مفہوم ہی میں استعمال ہوتی ہے۔
حواشی
[ترمیم]- ↑ یہ لفظ ہندوستانی تناظر میں اپنے اردو مترادفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ احترام اور اثر و نفوذ کا حامل ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- R. Gupta (2002), Sampradaya in Eighteenth Century Caitanya Vaisnavism (بزبان انگریزی), ICJ