سمکا سرلما جاترا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Sammakka sarrakka Jatara
سمکا سرلما جاترا
Sammakka gadde at sammakka saarakka jatara.jpg
جاترا کے سمکا گڈے
منانے والے قبائلی لوگ یا درج فہرست قبائل
قسم قبائلی
تقریبات 4 دن
رسومات دیوی پر چڑھاوا
تاریخ دو سال میں ایک بار

سمکا سرلما جاترا یا میڈارم جاترا ایک قبائلی تہوار ہے جنوبی ہند کی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں ایک دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔ اس جاترا کی وجہ سے دنیا کے اعظم ترین اجتماعات میں سے ایک یہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس جاترا کا آغاز میڈارم سے شروع ہوتا ہے جو تاڈوائی منڈل سے ہوتا ہے جو جے شنکر بھوپل پلی ضلع میں واقع ہے۔ دیوی سے متعلق رسوم کی ادائیگی کویا قبیلے کے پجاری کویا رسم و رواج کے حساب سے ادا کرتے ہیں۔

میڈارم ایک بہت ہی دور دراز کے ایتورنگرم جنگل کی محفوظ گاہ میں واقع ہے، جو دنڈاکارنیہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ دکن سطح مرتفع کا سب سے بڑا باقی ماندہ جنگلوں کا قطعہ ہے۔

اس جاترا کو ایسے وقت منایا جاتا ہے جب قبائل یہ سمجھتے ہیں کہ دیوی ان سے ملاقات کرنے پہنچتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کمبھ میلہ کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ عقیدت مند یہاں جمع ہوتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

اس تہوار کے ذریعے ایک ماں اور اس کی بیٹی، جن کے نام سمکا اور سرلما تھے، کی جد و جہد کو یاد کیا جاتا ہے جو کاکتیہ حکم رانوں کے ایک غیر منصفانہ قانون کی مخالفت کر رہے تھے۔

ایسی کئی داستانیں موجود ہیں جو سمکا کی جادوئی طاقتوں کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک قبیلے کی کہانی کی رو سے کوئی چھ سات صدیوں پہلے تیرہویں صدی عیسویں کچھ قبائلی قائدین شکار کے لیے گئے تھے اور انہیں ایک نو زائیدہ بچی (سمکا) ملی جو شیروں کے درمیان اپنے جسم سے ضیاء پاشی کر رہی تھی۔ اس سے متاثر ہو کر ان لوگوں نے اس لڑکی کو اپنے رہائشی علاقے پر لے گئے اور قبیلے کا سردار اسے اپنی بیٹی کے طور پر اپنا لیتا ہے اور اسے سردارنی کے طور پر پرورش کرتا ہے۔ یہی لڑکی آگے چل کر قبیلے کی نجات دہندہ بنتی ہے۔ اس کی شادی پاگی دیدا راجو سے ہوتی ہے جو کاکاتیہ حکم رانوں کا ایک باج گزار سردار تھا۔ یہ حکمران ورنگل شہر اور اس سے متصلہ علاقہ جات کو 1000 عیسویں سے 1380 عیسویں تک حکومت چلاتے رہے۔ سمکا کو دو بیٹیاں اور ایک لڑکا ہوا جن کے نام سرکا، ناگولما اور جمپانا تھے، علی الترتیب۔ جمپانا معرکے میں مارا گیا اور اس کا خون ایک واگو (جھرنے) میں گرا اور بعد میں سمپنگی واگو سرخ ہو گیا، جس کی وجہ سے اسے جمپنا واگو کہا جا رہا تھا۔ یہ اس مقام کے قریب ہے جہاں موجودہ طور میلے کا انعقاد ہوتا ہے۔

جمپنا واگو[ترمیم]

جمپنا واگو گوداوری ندی کی ایک شاخ ہے۔ تاریخ کی رو سے جمپنا ایک قبائلی جنگجو ہے اور قبائلی دیوی سمکا کا بیٹا ہے۔ جمپنا واگو کی وجہ تسمیہ یہی تھی کہ یہ جنگجو کاکتیہ فوجوں سے ببرد آزما ہوتے ہوئے اس جھرنے کے آگے اپنی جان کھو دیتا ہے۔ جمپنا واگو جدید دور میں بھی سرخ رنگ میں ہے جو اس کے خون کی علامت ہے۔ حالاں کہ سائنسی طور پانی کا سرخ رنگ مٹی کے مرکبات کی وجہ سے ہے۔ قبائل کا خیال ہے کہ جمپنا واگو میں ڈُبکی لگانا انہیں ان کے بھگوانوں کی قربانی یاد دلاتی ہے اور ان کی روحوں میں تازہ طور پر بہادری کا جذبہ ابھارتا ہے۔

یہاں ایک پل بھی ہے جسے جمپنا واگو پل کہا جاتا ہے۔

حمل و نقل[ترمیم]

یہ جاترا ورنگل سے تقریبًا 100 کیلو میٹر دور پر واقع ہے؛ یہی کریم نگر سے 170 کیلومیٹر دور ہے؛ یہ سوریا پیٹ سے 220 کیلومیٹر دور ہے؛ اور دار الحکومت حیدرآباد سے 250 کیلومیٹر دور ہے۔

1978ء تک میڈارم تک پہنچنے کا ایک ہی ذریعہ بیل گاڑی تھا۔ اس سال اس وقت کی آندھرا پردیش حکومت نے اس ایک ہزار سالہ تہوار کو سرکاری طور پر تسلیم کی تھی اور یہاں پہنچنے کے لیے گاڑیوں کے چلنے کے قابل سڑک تعمیر کروائی۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی ایس آر ٹی سی) یہاں تک کئی بسیں جاترا کے اوقات کے دوران چلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی نجی شعبے کی گاڑیاں بھی یہاں آنے والوں کی سہولت کے لیے اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

جاترا کی سہولتوں میں اچھی سڑکیں، پینے کا پانی، بیت الخلاء کی سہولت، صحت اور صفائی کا حکومت تلنگانہ خاص خیال رکھتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]