مندرجات کا رخ کریں

سناتن دھرم کے سنسکار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سَنسکار (سنسکرت: संस्कार) ہندو مت اور دیگر ہندوستانی مذاہب میں انجام دی جانے والی مقدس رسومات و عبادات کو کہا جاتا ہے جنھیں قدیم سنسکرت متون میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہندوستان فلسفوں کے نظریۂ کرم میں بھی ایک تصور کے طور پر موجود ہے۔ سنسکرت اور پالی کے قدیم متون میں یہ لفظ ”چیزوں کو یکجا کرنا، انھیں کمال تک پہنچانا، مکمل تیار کرنا یا کسی عمل کے لیے موزوں بنانا“ یا ”مقدس تقریب“ کے معنی میں آیا ہے۔

کرم (عمل) کے فلسفے میں سنسکار ان داخلی اثرات، عادات یا رجحانات کو کہتے ہیں جو یا تو انسان کے ساتھ پیدائشی طور پر ہوتے ہیں یا وہ زندگی کے تجربات سے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔ یوگ اور دیگر ہندو مکاتبِ فکر کے مطابق یہ اثرات انسانی لاشعور پر مُرتَسِم ہو کر اس کی طبیعت، رویّے اور ذہنی کیفیت کو متاثر کرتے ہیں۔

ایک اور پہلو سے سنسکار سے مراد ہندو، جین، بدھ اور سکھ مذاہب میں مختلف مذہبی رسوم ہیں۔ ہندو دھرم میں یہ رسوم علاقائی روایات کے مطابق مختلف تعداد اور شکل میں ادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً گوتَم دھرم سوتر (تقریباً پہلی صدی قبل مسیح) میں 40 سنسکار درج ہیں جب کہ بعد کے گرہ سوتروں میں ان کی تعداد 16 ہے۔

ہندو سنسکاروں میں وہ تمام باطنی و ظاہری اعمال شامل ہیں جو زندگی کے مختلف مراحل پر ادا کیے جاتے ہیں جیسے بچے کی پیدائش، نام رکھنے کی رسم یا اخلاقی عہد جیسے تمام جانداروں سے ہمدردی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا۔

حوالہ جات

[ترمیم]