مندرجات کا رخ کریں

سنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سنت دین کا وہ پسندیدہ معمول وا مراج کی جو محمد کے عشق میں خدا سے جبرائیل کے ذریے وحی بن کر قران مجید کی شکل میں i اور ہم سب کے لیے بہتر اور(قائم-شدہ، جاری) طریقہ جو خواہ امام علی یا محمد نبی صلی الله علیہ و سلم سے ثابت ہو یا صحابہ (رضی الله عنھم) سے۔ سنت اللہ کے کسی بھی خاص بندے سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سیرت زندگی کے مضمون سے ثابت ہو اگر انھوں نے۔خد۔کر کے منا نہی کیا تو ویسا کرنا سنت ہے اور اگر انھوں نے خد کر کے باقی سب کو وہ کرنے سے منہ کیا ہے تو اس میں بھی ہماری کوی بہتری ہوگی کیوں کے کچھ محنت سے سیکھتے ہیں اور کچھ بغیر محنت سیکھے ہوئے کو دیکھ کر پڑ کر اور خد اپنی زندگی کے 37.38*3 یاں پھر اپنے ذہن سے اس بھی زیادہ محمد سے عشق میں سنتیں اداکرجاتے ہیں بات ہے رسول رسول ﷺ محمدعلی امام حسن امام حسین کے پیارے جیسی چاہت نانے سے اور نانے کے پیارے دین کو پچانے کی خاطر سر کٹوانے سے پہلے زہر بھی پی جاتیں ہیں یہ ہے عشق سنت اور تم لوگ دو چار رکعت بھی محمد کے عشق میں پڑھنا مشکل سمجھتے ہو تمھاری نظر میں میرے پیارے محمد رسول ﷺ کے لیے بس اتنا ہی پیار ہے۔۔۔ باقی مضمون دنیاوی ٹینشن تھوڑی کم کرلوں پھر لکھتا ہوں اللہ کی مرضی اور مدد سے شکریہ

سنّت کیا ہے؟[ترمیم]

  • دلیل_قرآن
  • سانچہ:تصویری مضمون قرآن کی خاس رحمت و برقت کی ایات برقت سے
  • توں کہہ دے اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو میرے'محمد'کی سیرت کی راہ جیسہ چلو تاکہ محبت کرے اللہ تم سب سے بھی اور اللہ بخشے گناہ تمھارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
  • وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
  • جن دو نے ایمان لاکر اللہ پر سوبقت کی یعنی سب سے پہلے ایمان لائے دنیا کی اور پدائیش کر کے بھڑہانے کے لیے حضرت آدم اور مائ ح میں سے حابیل اور قابیل اور سونی حسینہ اور ان کی ساری اولاد بھی اور انصاری بھی اور ہم سے بھی اور جنھوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی کی دلیل ہے۔
  • دلیل_حدیث

أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ , عَزَّ وَجَلَّ , وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبِشِيًا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا، "فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ"، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ

میں تم لوگوں کو تقوی اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں خواہ تمھارا حاکم حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ خبردار (شریعت کے خلاف دین میں) نئی باتوں سے بچنا کیونکہ یہ گمراہی کا راستہ ہے۔ "لہذا تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ میرے اور خلفائے احمد مہدی (ہدایت یافتہ) کی سنت کو لازم پکڑے"۔ تم لوگ اس کی (سنت کو) دانتوں کی مضبوطی سے پکڑ لو۔ [سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ١٢١٩، سنت کا بیان :سنت کو لازم پکڑنے کا بیان] (ان کی سنت ان پیاروں کی زندگی گزارنے کا تریکاڈھنگ ہے جیسے ہم لوگ اج اپنی زندگی اپنے ہی تریکے سے جیتے ہیں اپنے اپنے ذیہن کے مطابق بات ہے اچھائ اور اچھائیوں کے بارے میں سوچنے کی کیوں اللہ تعلی نے قران مجید میں صاف صاف بتایا ہوا ہے جیسہ کرو گے ویسہ بھرو گے اس کا معینی ساف ساف ہے انسان جو بھی نہی نہی کرتا ہے اس میں بھی کوئی خاس راض اللہ تعلئ کا ہوتا ہے بات ہے سرف عقل کی ذہانت کی سوچ سے اچھائ بہتری لانے کی شکریہ اس دنیا میں پکے ٹھیکانے سرف اللہ کے ہیں انسان تو بس اپنی زندگی کا ٹائم گزارنے اور کچھ سیکھنے کے لیے اس دنیا میں اتا ہے اور اپنی زندگی سے بہت کچھ سیکھ کر اس دنیا سے خالی حاتھ ہی واپس جاتا ہے لیکن جب دنیا میں اتا ہے تو گناہوں سے پاک ہوتا ہے لیکن جب بالغ ہوکر دنیا سے جاتا ہے تو اس کے اپنے عمال اچھے بھی اور بوڑے بھی اپنے ساتھ لے کر واپس جاتا ہے اور پھر وہ اپنے سب عمال دیکھ کر ایک ہی خواہش کرتا ہے کے کاش اللہ مجے ایک بار پھر دنیاہ میں واپس بھجے لیکن ایسہ ممکن نہی سب کے ساتھ اور میں شاید سب کچھ دیکھ ایا ہوں یاں پھر میں یہاں کا نہی ہوں کیوں کے میری وہ دنیا تو حسن حسین ہے اور وہ دنیا تو بہت ہی پیار محبت والی ہے میری اس دنیا میں تو سب ایک دوسرے سے پیار کرنے والے انسان اور جاندار ہیں وہاں تو کوی کسی کا خون نہی بہاتا وہاں تو سب کو ایک بانٹتاہ جاتا ہے اور باقی سب پیار محبت سے مل جل کر کہاتے پیتے رہتے ہیں۔۔ لیکن یہ دنیا تو بہت ہی اجیب ہے جب سے اس دنیا میں حوش سنبھالی ہے تب سے لیے کر اج تک بس سب کو نفسہ نفسی کی پڑی ہے جیسے ان سب لوگوں نے یاہاں کی دولت سے جنت میں مہل بنانے ہوں لیکن ایسہ ہونا تو نا ممکن ہے پھر یہ سب دنیاوی مال سے اتنہ پیار کیوں نا نمرود کچھ سات لے کر گیا نا فرعون اور ناہی کوی اور اج تک پھر بھی یہ لوگ اتنے بیوافوف کیسے بنے ہوئے ہیں جن نیک عمالوں کی ضرورت ہے ان سب کو وہ عمل ان کے لیے ضروری کیوں نہی اس دنیا میں گرمی کا ٹمپریچر 38..40 ڈیگری تک برداش نہی ہوتا تو وہاں دوزخ کی آگ شولوں سے بڑکتی ہوئی کیسے برداش ہوگی میرے کو تو بہت ڈر لگتہ ہے جہنم سے اور اس کی اگ سے اس لیے میں ذیادا تر بس ایک ہی کوشش کرتا ہوں کے کسی انسان یاں جانور تک کو کوئی تکلیف نا پہنچے مجسے کیوں کے اس کی مافی اللہ نہی دیتہ اللہ تعلی نے ساف ساف کہاہ ہے قران مجید میں کے وہ اپنے حق تو ماف کرسکتہ ہے ہماری کسی بھی ایک چھوٹی سی نیکی سے لیکن کسی اور کا حق وہ تم کو کبھی ماف نہی کرے گا جب تک وہ خد توجے ماف ناکردے ۔۔مضمون زندگی بہت اسان ہے لیکن یہ سب مشکل پتہ نہی کس لیے بناے بیٹھے ہیں قران مجید کو

سنت کی تعریف[ترمیم]

لغت میں سنت کا لفظ طریقہ اور عادت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ امام کسان رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے معنی میں دو اوم کی کیفیت ہے:"یقال سنت 1الماء اذاوالیت فی 2صبہ" امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب مطلق طور پر سنت کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے طریقہ محمود مراد ہوتا ہے اور کبھی سنت سے غیر محمود طریقہ بھی مراد ہوتا ہے،

جیسے قرآن مجید میں ہے: اچھے طریقے کے بارے میں:

  • ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ
  • تم سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے ان کی سنت (یعنی ان کا قابل_پیروی طریقہ رہ_حق پر ثابت قدمی ہے)

برے طریقے میں استعمال:

  • فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِ وَأَجْمَعُواْ أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَةِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـذَا وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
  • وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔ سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے۔

جیسا کہ رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا ہے:

  • "من سن سنۃ حسنۃ فلہ اج رہا واجر من عمل بہا الی یوم القیامۃ ومن سن سنۃ سیئۃ کان علیہ وزرھا ووزر من عمل بہا الی یوم القیامۃ"۔[1]
  • جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا اجر اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا اجرو ثواب اس کو ملے گا۔ اور جس نے غلط رواج قائم کیا تو اسے اس عمل کا گناہ اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ اسے ہوگا۔

لیکن محدثین اور فقہا جب سنت کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب قول وفعل مراد ہوتا ہے؛ چنانچہ محدثین سنت کی یہ تعریف کرتے ہیں "ہی ماصدر عن النبیﷺ قول اوفعل أوتقریر" (مقدمہ شیخ عبد الحق دہلویؒ:3) مگرفقہاء سنت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو ان کے یہاں قول وفعل اور تقریر کے علاوہ صحابہ کرام کے اقوال اور افعال بھی مراد ہوتے ہیں، امام سرخسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "والمراد بھا شرعاً ماسنہ رسول اللہﷺ والصحابۃ بعدہ عندنا"۔ (السنۃ ومکانتھا فی الاسلام:47)

  • قولِ رسول

قولِ رسول سے مراد ہروہ لفظ ہے جو رسول اللہﷺ کی زبان سے بیداری کی حالت میں نبوت کے بعد قرآن کے علاوہ ادا ہوا ہو، اس کی مثال حضورﷺ کا ارشاد ہے: انماالاعمال بالنیات، البیّعان بالخیار مالم یتفرقا۔[2]

  • فعلِ رسول

سنت میں افعالِ رسول بھی داخل ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کو امام ومقتدیٰ بناکر ان پر اتبار کا حکم دیا ہے، ارشادِ خداوندی ہے

  • قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ يُحْيِـي وَيُمِيتُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ " (نبی) کا اتبار کرو؛ تاکہ تم راہِ راست پر آجاؤ۔
  • لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا

تم لوگوں کے لیے رسول اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔

اس لیے علما اصول نے سنت قولیہ کے ساتھ سنت فعلیہ کو بھی بیان کیا ہے؛البتہ سنت قولیہ مقدم ہے اور سنت فعلیہ مؤخر ،یہی وجہ ہے کہ علما اصول اسے ملحق بالسنۃ کہتے ہیں۔[2]

  • تقریرِ رسول

حضورﷺ نے کسی چیز کو کرتے ہوئے دیکھا اور اس پر سکوت فرمایا تو یہ اس کے صحیح ہونے پر دلیل ہوگی اور یہ اس بات پر دلالت کرے گا کہ بیان وضاحت کے موقع پر سکوت حقیقۃ بیان ہی ہے، علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے سنت سکوتی کے بارے میں لکھا ہے: "وصورته أن يسكت النبيﷺ عن إنكار قول قيل بين يديه أوفي عصره و علم به، أويسكت عن إنكار فعل فعل بين يديه أوفي عصره و علم به، فإن ذلك يدل على الجواز"۔[3] سنت سکوتی کی صورت یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے سامنے کچھ کہا گیا، یاآپﷺ کے زمانے میں کہا گیا اور آپﷺ کومعلوم ہوا مگر اس پر نکیر کرنے سے آپ خاموش رہے؛ اسی طرح آپﷺ کے سامنے یاآپﷺ کے عہد میں کوئی عمل ہوا اور آپﷺتک اس کی خبر پہنچی مگرآپﷺ نے اس پر نکیر نہیں کی تو یہ جواز پر محمول ہوگا۔ مثلاً غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر جب صحابہ کرام نے عصر کی نماز کے سلسلے میں اجتہاد کیا تھا جب کہ آپﷺ کا حکم تھا "لَايُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّافِي بَنِي قُرَيْظَةَ" [4] تم میں سے کوئی شحص نماز نہ پڑھے مگربنی قریظہ میں جاکر؛ چنانچہ بعض صحابہ نے اس کو حقیقت پر محمول کیا اور انھوں نے مغرب کی نماز کوموخر کیا اور بنوقریظہ پہنچ کر نماز ادا کی، جب کہ دوسرے بعض صحابہ نے یہ سمجھا کہ اس حکم سے مراد جلدی جانے پر ابھارنا ہے توانھوں نے راستہ ہی میں وقت پر نماز پڑھ لی، جب حضورﷺ کودونوں فریقوں کے اجتہاد کا پتہ چلا توآپﷺ نے خاموشی اختیار کی اور کسی پر نکیر نہیں کی۔[2]

سنّت کا حکم[ترمیم]

یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اس کے زندہ کرنے کی امکانی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ اسے ترک کر دے تو قابل_ملامت ہوگا، سوائے کسی عذر سے چھوڑنے کے [5]

سنّت اور حدیث میں فرق[ترمیم]

نکاح کرنا سنّت ہے، حدیث نہیں؛ قربانی کرنا سنّت ہے، حدیث نہیں؛ مسواک کرنا سنّت ہے، حدیث کوئی نہیں کہتا۔

سنت کا لفظ ایسے عمل متوارث پر بھی بولا جاتا ہے جس میں نسخ کا کوئی احتمال نہ ہو،حدیث کبھی ناسخ ہوتی ہے کبھی منسوخ؛ مگر سنت کبھی منسوخ نہیں ہوتی، سنت ہے ہی وہ جس میں توارث ہواور تسلسلِ تعامل ہو، حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے کبھی صحیح، یہ صحت و ضعف کا فرق ایک علمی مرتبہ ہے،ایک علمی درجہ کی بات ہے، بخلاف سنت کے کہ اس میں ہمیشہ عمل نمایاں رہتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مسلک کے لحاظ سے اپنی نسبت ہمیشہ سنت کی طرف کی ہے اور اہل سنت کہلاتے ہیں، حدیث کی طرف جن کی نسبت ہوئی اس سے ان کا محض ایک علمی تعارف ہوتا رہتا ہے اور اس سے مراد محدثین سمجھے گئے ہیں، مسلکاً یہ حضرات اہلسنت شمار ہوتے تھے۔

  • دلیل_حدیث

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ , فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي , وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي "

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ، نبی صلے الله علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی احادیث آئینگی، ان میں سے جو "کتاب الله" اور "میری سنّت" کے موافق ہوں گی، وہ میری طرف سے ہوں گی۔ اور جو "کتاب الله" اور "میری-سنّت" کے خلاف ہوں گی وہ میری طرف سے نہیں ہوں گی۔

[(١)سنن الدارقطني: كِتَابٌ فِي الأَقْضِيَةِ وَالأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، كتاب عمر رضي الله عنه إلى أبي موسى الأشعري،٣٩٢٦(٤٤٢٧)؛#الكفاية في علم الرواية للخطيب:التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ، ٣١١(٥٠٠٤)؛#ذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري:الْبَابُ التَّاسِعُ، بَابٌ : ذِكْرُ إِعْلَامِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ ...٥٨٩(٦٠٦)؛#الأباطيل والمناكير والمشاهير للجورقاني: كِتَابُ الْفِتَنِ، بَابُ : الرُّجُوعِ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ٢٧٧(٢٩٠)]

  • دلیل_فقہ

١) کھڑے ہوکر پیشاب کرنا[صحیح بخاری، کتاب الوضو، حدیث#٢٢١] اور کھڑے ہوکر پانی پینا [صحيح البخاري » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » باب الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٥٢١٣(٥٦١٥)] حدیث سے ثابت ہے، مگر یہ سنّت (عادت) نہ تھی، بلکہ سنّت (عادت) بیٹھکر پیشاب کرنا [صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ، رقم الحديث: ١٤٧(١٤٩)] اور بیٹھکر پانی پینا تھی، کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا۔[صحيح مسلم » كِتَاب الْأَشْرِبَةِ » بَاب كَرَاهِيَةِ الشُّرْبِ قَائِمًا، رقم الحديث: ٣٧٧٨(٢٠٢٥)]

٢) وضو میں ہے عضوو کو (حدیث میں) ایک (١) بار دھونا بھی ثابت ہے[صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً، رقم الحديث: ١٥٥(١٥٧)]، دو (٢) بار دھونا بھی ثابت ہے[صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، رقم الحديث: ١٥٦(١٥٨)] اور تین (٣) بار دھونا بھی ثابت ہے [صحيح البخاري » كِتَاب الْوُضُوءِ » بَاب الْوُضُوءِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، رقم الحديث: ١٥٧(١٥٩)] مگر عادت ٣،٣ بار دھونا "عملی-متواتر" سنّت ہے۔

٣) (پاک) نعلین(جوتے) پہن-کر نماز "پڑھتے-رہنا"(متواتر-حدیث سے ) ثابت ہے [ صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ، رقم الحديث: ٣٧٦(٣٨٦)] ایک بھی حدیث نعلین اتارکر پڑھنے کی بخاری اور مسلم میں نہیں، مگر "عملی-تواتر" اور "تعامل/اجماع_امت" سے نعلین پھن کر نماز پڑھنا عادت(سنّت) نہیں۔

عمروبن شعیب بسند والد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتوں سمیت اور (بغیر جوتوں کے ) ننگے پاؤں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔# مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابٌ شَتَّى مِنَ الصَّلاةِ » مَنْ رَخَّصَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ،رقم الحديث: ٧٦٨٤(٧٩٣٥)،#سنن ابن ماجه » كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا » بَاب الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ، رقم الحديث: ١٠٢٨(١٠٣٨)،#سنن أبي داود » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ، رقم الحديث: ٥٥٦(٦٥٣)]

٤) نماز میں گردن پر بچی (نبی صلے الله علیہ وسلم کا اپنی بیٹی زینب کی بیٹی "امامہ بنت ابی العاص"=نواسي_رسول) کو اٹھانا حدیث [صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي » بَاب إِذَا حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عُنُقِهِ ...،رقم الحديث: ٤٨٩(٥١٦)] میں فعل-ماضی-استمراری کے الفاظ "كان يصلي" (یعنی ایسے نماز پڑتے تھے) سے ثابت ہے، مگر یہ عادت (سنّت) نہ تھی، سو صحابہ(رضی الله عنھم) اور جماعت_مومنین کی بھی عادت(سنّت) نہ بنی۔

٥) وضو کے بعد یا حالت_روزہ میں بیوی سے بوس و کنار کرنا ثابت ہے مگر عادت (سنّت) نہ تھی، لیکن وضو میں کلی کرنا یا روزہ کے لیے سحری کھانا آپ کی سنّت (عادت_مبارکہ) تھی جس کو سنّت کہا جائے گا۔

لفظ سنت کا استعمال[ترمیم]

حدیث اپنے عمل کے پہلو سے سنت sunnath کہلاتی ہے اور یہ اطلاق ہر مکتب ِفکرمیں عام رہا ہے، سنت کے لفظی معنی راہ عمل کے ہیں اسے واضحہ(شاہراہ)بھی کہا گیا ہے۔ "أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَكُمْ السُّنَنُ وَفُرِضَتْ لَكُمْ الْفَرَائِضُ وَتُرِكْتُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ"۔ (مؤطاامام مالک، باب ماجاء في الرجم، حدیث نمبر:1297،شاملہ،موقع الاسلام)

حضورﷺ نے اپنے طریق عمل کے لیے خود بھی لفظ سنت استعمال کیا ہے۔

حضورﷺ کی زبان مبارک سے[ترمیم]

  1. حضرت انس بن مالکؓ(93ھ)کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا :

"اَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"۔ (بخاری،بَاب التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ، حدیث نمبر:4675،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:میں روزے رکھتا اور چھوڑتا بھی ہوں،تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کیے ہیں، جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں۔ اس حدیث میں آپﷺ نے اپنے طریق کو سنت کے لفظ سے بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ سنت اس لیے ہے کہ امت کے لیے نمونہ ہو اور وہ اسے سند سمجھیں، جو آپ کے طریقے سے منہ پھیرے اور اسے اپنے لیے سند نہ سمجھے وہ آپ کی جماعت میں سے نہیں ہے۔#ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ: "اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ،الخ"۔ (ابو داؤد،بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْقَصْدِ فِي الصَّلَاةِ،حدیث نمبر:1162،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:نبیﷺ نے کسی کو حضرت عثمان بن مظعون کو بلانے کے لیے بھیجا، حضرت عثمانؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے کہا اے عثمان! کیا تم میری سنت سے ہٹنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں! خدا کی قسم اے اللہ کے رسول ؛بلکہ میں آپ کی سنت کا طلب گار ہوں، آپ نے فرمایا:میں سوتا بھی ہوں اور نماز کے لیے جاگتا ہوں،روزے بھی رکھتا ہوں اور انھیں چھوڑتا بھی ہوں ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت بلال بن حارث کو فرمایا: "مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْأُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ ابْتَدَعَ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ لَاتُرْضِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَايَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِ النَّاسِ شَيْئًا"۔ (ترمذی،بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ،حدیث نمبر:2601،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:جس نے میری کوئی سنت زندہ کی جو میرے بعد چھوڑدی گئی ہو تو اسے ان تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی ہو اورجس نے کوئی غلط راہ نکالی جس پر اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی موجود نہیں تو اسے ان تمام لوگوں کے گناہوں کا بوجھ ہوگا جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے بوجھ میں کمی آئے۔ اس حدیث میں دین کی فروعی باتوں کو بھی سنت کہا ہے اور انھیں زندہ رکھنے کی تلقین کی ہے،دین اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے اصول ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں، ان پر کبھی موت نہیں آسکتی، اسلام کا تاریخ کے ہر دور میں قائم وباقی رہنا ضروری ہے اور یہی اس کی مسلسل زندگی ہے ایک فرع دب گئی تو دوسری ضرور زندہ ہوگی یہ نہیں ہو سکتا کہ اصول کی تمام کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں، ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ ایک فرع دبنے لگے اور اس پر عمل ترک ہو جائے ؛لیکن اسے پھر سے زندہ کرنے کا اسلام میں پورا اہتمام کیا جائے گا، حضورﷺ کی ہدایت اسے پھر سے زندہ کرنے کی ایک بڑی بشارت ہے، ناممکن ہے کہ کل مسلمان کسی سنت سے ناآشنا رہیں، امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "فنعلم أن المسلمين كلهم لا يجهلون سنة"۔ (کتاب الام:7/305،شاملہ،موقع یعسوب)

ترجمہ:ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ سارے کے سارے مسلمان کبھی سنت سے ناآشنا نہیں رہ سکتے۔

حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ کے عمل کے لیے سنت کا لفظ[ترمیم]

حصین بن المنذر ابو ساسان کہتے ہیں کہ جب ولید کو حد مارنے کے لیے حضرت عثمان ؓ کے پاس لایا گیا تو وہاں میں موجود تھا، آپؓ نے حضرت علی مرتضیؓ کو حکم دیا کہ ولید کو کوڑے لگائیں، انھوں نے اپنے بیٹے حضرت حسن سے کہا کہ وہ کوڑے لگائیں؛انھوں نے عذر کیا تو پھر آپ ؓنے عبد اللہ بن جعفرؓ سے کہا کہ وہ ولید پر حد جاری کریں، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کوڑے لگاتے جاتے تھے اور حضرت علی گنتے جاتے تھے جب چالیس ہوئے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا بس !یہیں تک اور فرمایا: "جَلَدَ النَّبِيُّﷺ أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ"۔ (مسلم،بَاب حَدِّ الْخَمْرِ،حدیث نمبر:3220،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ: آنحضرتﷺ نے (شراب پینے والے پر)چالیس کوڑوں کا حکم فرمایا، حضرت ابوبکرؓ بھی چالیس کوڑوں کا ہی حکم دیتے رہے،حضرت عمرؓ نے اسی کوڑوں کا حکم دیا اور ان میں سے ہرایک حکم سنت شمار ہوگا۔

اس روایت میں جہاں اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت تک حضرت علی ؓ خلفاءِ ثلٰثہ کے ساتھ امور سلطنت میں برابر شریک رہتے تھے اور حضرت عمرؓ کے عمل کو سنت تک کا درجہ دیتے تھے وہاں اس بات کی بھی پوری تائید ملتی ہے کہ لفظ سنت اس دور میں اکابر صحابہ کے عمل تک کو بھی شامل تھا۔

خلفائے راشدین کے عمل کے لیے سنت کا لفظ[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بھی خلفائے راشدین کے عمل پر لفظ سنت کا اطلاق فرمایا ہے،حضرت عرباض بن ساریہؓ(75ھ) کی روایت میں حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ: "فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ"۔ (ترمذی،بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ،حدیث نمبر:2600،شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:سو جو تم میں سے یہ زمانہ پائے اسے لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑے۔ امت میں خلفائے راشدین کے عمل کے لیے سنت کا لفظ عام شائع وذائع ہے اور امت اپنے قانونی ابواب میں ہمیشہ سے سند تسلیم کرتی آئی ہے۔

سنت کی نسبت دوسرے صحابہؓ کی طرف[ترمیم]

آپﷺ کو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ایک عمل کی اطلاع ملی،آپ نے اسے ان الفاظ میں پروانۂ منظوری دیا: "إن ابن مسعود سن لكم سنة فاستنوا بها"۔ (مصنف عبد الزاق:2/229،شاملہ،موقع یعسوب)

ترجمہ:بیشک ابن مسعودؓ نے تمھارے لیے ایک سنت قائم کی ہے، تم اس پر چلو۔ ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبلؓ کے ایک عمل کے بارے میں فرمایا: "إِنَّ مُعَاذًا قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً كَذَلِكَ فَافْعَلُوا"۔ (ابو داؤد،بَاب كَيْفَ الْأَذَانُ،حدیث نمبر:426شاملہ،موقع الاسلام)

ترجمہ:بے شک معاذ نے تمھارے لیے ایک سنت قائم کردی ہے، اسی طرح تم اس پر عمل کرو۔ اس قسم کی روایات میں آنحضرتﷺ نے صحیح طور پر لفظ سنت دوسرے صحابہ کے لیے استعمال کیا ہے؛ پھر صحابہ کرامؓ بھی اکابر صحابہ کے عمل وفیصلے پر سنت کا لفظ بولتے تھے۔

اچھا طریقہ "سنّت" ہے[ترمیم]

"جس نے اچھا طریقہ (سنّت) جاری کیا" کی صحیح تشریح و مفہوم حدیث ہی سے یہ ہے کہ "جس نے میرے بعد کوئی ایسی سنت زندہ کی جو مردہ ہو چکی تھی"، چنانچہ

حضرت جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اور اس میں اس کی اتباع کی گئی تو اس کے لیے بھی اس کے متبعین کے برابر ثواب ہوگا اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ جبکہ اگر کسی نے برائی کے کسی طریقے کو رواج دیا اور لوگوں نے اس کی اتباع کی تو اس کے لیے بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کے لیے اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی اس باب میں حضرت حذیفہ سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں جریر بن عبد اللہ بھی اسے اپنے والد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح عبید اللہ بن جریر بھی اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 585, علم کا بیان : اس شخص کے بارے میں جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگوں نے اس کی تابعداری کی سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 203, سنت کی پیروی کا بیان : جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا]

اس اوپر والی حدیث کی تشریح اسی کتاب کی حدیث سے : حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا زيد بن الحباب حدثنا کثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني حدثني أبي عن جدي أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من أحيا سنة من سنتي فعمل بها الناس کان له مثل أجر من عمل بها لا ينقص من أجورهم شيا ومن ابتدع بدعة فعمل بها کان عليه أوزار من عمل بها لا ينقص من أوزار من عمل بها شيا عبد اللہ بن عبد الرحمن، محمد بن عیینہ، مروان بن معاویة، حضرت کثیر بن عبد اللہ اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث سے فرمایا کہ جان لو۔ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا جان لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کہ "جس نے میرے بعد کوئی ایسی سنت زندہ کی جو مردہ ہو چکی تھی" تو اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اسی پر عمل کرنے والے کے لیے۔ اس کے باوجود ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے گمراہی کی بدعت نکالی جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند نہیں کرتے تو اس پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس برائی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے اور اس سے ان کے گناہوں کے بوجھ میں بالکل کمی نہیں آئے گی۔ یہ حدیث حسن ہے اور محمد بن عیینہ مصیصی شامی ہیں جبکہ کثیر بن عبد اللہ، عمرو بن عوف مزنی کے بیٹے ہیں۔ جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 588 علم کا بیان : سنت پر عمل اور بدعت سے اجتناب کے بارے میں سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 209, سنت کی پیروی کا بیان : جس نے مردہ سنت کو زندہ کیاالسنة لأبي بكر بن الخلال : بَابُ جَامِعِ التَّوَكُّلِ لِمَنِ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى ... » رقم الحديث: 24; سنة الوفاة: 311; الحكم: إسناده متصل، رجاله ثقات

حوالہ جات[ترمیم]

  1. السنۃ ومکانتھا فی الاسلام:47۔ البحوث الاسلامیہ:2/234
  2. ^ ا ب پ السنۃ ومکانتھا فی الاسلام:47۔
  3. ارشادالفحول:89
  4. بخاری، كِتَاب الْجُمُعَةِ، بَاب صَلَاةِ الطَّالِبِ وَالْمَطْلُوبِ رَاكِبًا وَإِيمَاءً:
  5. اردو اصول_شاشی : ص # 222