سنت سنگھ سیکھوں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سنت سنگھ سیکھوں (پیدائش :30 مئی 1908- وفات :7 اکتوبر 1997) ہندوستان کے پنجابی کے ایک ناٹک کار، فکشن رائٹر (گلپ-لکھاری) محقق اور کھوجی تنقید نگار تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سنت سنگھ سیکھوں کا جنم سردار حکم سنگھ کے گھر چکّ نمبر 70 فیصل آباد ضلع (لائلپور) پاکستان میں ہوا۔ بیر خالصہ ہائی اسکول سے دسویں پاس کرکے مزید تعلیم کے لیے وہ ایف. سی. کالج لاہور میں داخل ہو گئے۔ پھر انہوں نے انگریزی اور اقتصادیات میں پوسٹ-گریجوئیشن کی۔ سٹوڈنٹ جیون میں ہی ان کی شادی، 1928 میں، بی بی گرچرن کور کے ساتھ ہو گئی، جس سے ان کے گھر چار لڑکیاں اور ایک لڑکا پیدا ہوئے۔ تسیکھوں نے 1931 سے لے کر 1951 تکّ لگ بھگ 20 سال تک خالصہ کالج امرتسر میں انگریزی کے استاد رہے ۔ اسی دوران 1937 سے لے کر 1940 تکّ انہوں نے 'ناردرن ریویو' نام کا انگریزی ہفتہ وار میگزین بھی کامیابی سےجاری رکھا۔ 1953 سے لے کر 1961 تکّ وہ گورو ہرگوبند خالصہ کالج گروسر سدھار (لدھیانہ) میں انگریزی کے لکچرار رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ اسی کالج کے پرنسپل بھی رہے۔

ادبی زندگی[ترمیم]

سنت سنگھ سیکھوں نے لکھنے کی شروعات انگریزی زبان سے کی مگر پرنسپل تیجا سنگھ کے کہنے پر انہوں نے پنجابی میں لکھنا شروع کر دیا۔ ان کی ادبی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے، جن میں ناٹک (ڈراما)، اکانگی، کہانیاں، ناول، کویتا(شاعری)، نبندھ، آلوچنا(تنقید)، سویجیونی (سوانح عمری)اور ترجمہ وغیرہ شامل ہیں۔ اسکول سے لے کے یونیورسٹی تک کی درسی کتابوں میں ان کی تحریریں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں۔

ان کی ، سادھارن منکھ دی سدھارنتا، ن پیمی دے نیانے، اک یودھے دا چلانا، مڑ ودھوا، مینہہ جاوو ہنیری جاوو ورگیاں جیسی تخلیقات کو پنجابی کہانی میں کلاسک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا ناول 'لہو مٹی' درمیانے طبقے کے پنجابی کسانی خاندان کی جدوجہد بھری زندگی کی دستاویز ہے۔

تخلیقات[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • لہو مٹی
  • بابا اسمان

کہانیاں[ترمیم]

  • کامے تے یودھے
  • سماچار
  • باراندری
  • ادھی واٹ

اک انگی (اک ایکٹی پلے)[ترمیم]

  • چھ گھر (1941)
  • تپیا کیوں کھپیا (1950)
  • ناٹ سنیہے (1954)
  • سندر پد (1956)
  • ویوہلی (نظمیہ ناٹک)
  • بابا بوہڑ (نظمیہ ناٹک)

ڈرامہ[ترمیم]

  • بھومیدان
  • کلاکار (1945)
  • نل دمینتی (1960)
  • نارکی (1953)

تاریخی ڈراما[ترمیم]

  • میاں سار نہ کائی (1954)
  • بیڑا بندھ نہ سکیو (1954)
  • وارث (1955)
  • بندہ بہادر (1985)
  • وڈا گھلوگھارا (1986)
  • متر پیارا (1971)

تحقیق اور تنقید[ترمیم]

  • ساہتارتھ
  • پرسدھ پنجابی کوی
  • پرگتی پندھ
  • پنجابی کاوَ شرومنی
  • ہیر وارث
  • ناول تے پلاٹ

ترجمہ[ترمیم]

٭[1]

حوالہ جات[ترمیم]