سنت غیر مؤکدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Allah-green.svg

بسلسلہ شرعی علوم
علم فقہ

سنت غیر مؤکدہشریعت اسلامی کی اصطلاح میں اس سے مراد ایسے امور ہیں جن کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پابندی نہ کی ہو، یعنی کبھی کیا ہو اور کبھی نہ کیا ہو، جیسے عصر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت، ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کے روزے، وغیرہ۔ سنت غیر مؤکدہ کو سنت زائدہ بھی کہتے ہیں۔

سنت غیر مؤکدہ کا حکم[ترمیم]

اسلامی فقہ میں سنت غیر مؤکدہ کی اصطلاح مکروہ تنزیہی کے بالعکس ہے۔ سنت غیر مؤکدہ پر عمل کرنا اجر و ثواب کا باعث ہے، جبکہ عمل نہ کرنے سے گناہ نہیں ہوتا۔ سنت غیر مؤکدہ کو دائما ترک کرنے پر ملامت کا استحقاق ہے اور احیاناً ترک کرنے پر ملامت نہیں ہے۔

سنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ کا فرق[ترمیم]

سنت وہ ہے جس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دائمی عمل کیا ہو، لیکن اگر اس کو کبھی ترک نہ کیا ہو تو وہ سنت مئوکدہ ہے اور اگر اس کو کبھی کبھی ترک بھی کیا ہو توہ سنت غیر مئوکدہ ہے اور اگر آپ نے اس پر دائمی عمل کیا ہو اور ترک کرنے والے پر انکار بھی کیا ہو تو وہ وجوب کی دلیل ہے۔[1]

سنت غیر مؤکدہ کی مثال[ترمیم]

سنت غیر مئوکدہ کی مثال عصر سے پہلے چار رکعت ہیں۔ عبد اللہ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ اس شخص پر رحم کرے جو عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتا ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ردالمحتارج 1 ص 198 داراحیاء التراث العربی بیروت
  2. سنن ابو داؤد الحدیث نمبر : 1271