سنت نماز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سنت نمازیں (عربی: صلاة السنة) وہ ہیں جوآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے علاوہ پڑھی ہوں۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کایہ معمول تھا کہ وہ فرض نمازوں سے پہلے یابعد میں دو یا چاریازیادہ رکعتوں کی نمازیں پڑھاکرتے تھے۔ سنت نمازوں کی دو قسمیں ہیں: مؤکدہ اور غیر مؤکدہ۔ سنت نمازوں کامطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ نماز چاہے فرض ہو، سنت یا نفل؛ سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہوتی ہیں۔ فرض نمازوں میں خشوع و خضوع کے ضمن میں جو کمی رہ جاتی ہے اس کو پورا کرنے کے لیے سنتیں اور نفل ہیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کی ادائگی کا حکم دیاگیا ہے۔ امت محمدیہ ان کے اتباع میں وہ نمازیں اداکرتی ہے۔ محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم کثرت سے نمازیں پڑھاکرتے تھے اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین ان کا اتباع کرتے تھے۔

  • دلیلِ قرآن

فَإِذَا فَرَ‌غْتَ فَانصَبْ ﴿ الم نشرح:٧﴾

لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ ۔

سنت نماز مؤکدہ[ترمیم]

جو نمازیں محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم نے تواتر اور اکثر پابندی کے ساتھ ادا کی ہوں؛ وہ سنتِ مؤکدہ کی ذیل میں آتی ہیں۔ امت محمدیہ کے لیے ان نمازوں کے ترک کو لائقِ ملامت قرار دیا گیا ہے۔ سنتِ مؤکدہ کا چھوڑنا بُرا ہے اور اس کے چھوڑنے کی عادت بنالینا گناہ میں شمار ہے۔ سفر، مرض یا وقت کی تنگی کے باعث نہ پڑھ سکے تو ملامت نہیں ہے۔

سنت نماز غیر مؤکدہ[ترمیم]

یہ وہ نمازیں ہیں جو محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے علاوہ پڑھیں لیکن ان کی پابندی نہیں کی۔ جن نمازوں کی ترغیب دی گئی ہو مگر ان کے چھوڑنے پر ملامت نہ کی گئی ہو، وہ سنتِ غیر مؤکدہ ہیں اور اسی کو مستحب اور مندوب بھی کہا جاتا ہے۔ سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل میں اختیار ہے، خواہ پڑھے یا چھوڑ دے۔

نماز فجر کی سنتیں[ترمیم]

فجر کی سنتوں کی تاکید بہت زیادہ ہے، اس لیے اگر نمازِ فجر فوت ہو جائے تو سورج طلوع ہونے کے بعد زوال سے پہلے اس کو سنتوں سمیت پڑھنے کا حکم ہے۔ اگر زوال سے پہلے نمازِ فجر کی قضا ادا نہیں کی تو بعد میں صرف فرض پڑھے جائیں۔ وقت نکل جانے کے بعد فجر کی سنتوں کے علاوہ باقی کسی سنت کی قضا نہیں۔ فرض کے بعد طلوع سے پہلے فجر کی سنتیں پڑھنا بھی دُرست نہیں۔ اگر جماعت کی دوسری رکعت (بلکہ تشہد بھی) مل جانے کی توقع ہو تو کسی الگ جگہ پر فجر کی سنتیں پہلے ادا کرے(خارجِ مسجد یا کسی اوٹ میں پڑھی جائیں)، تب جماعت میں شریک ہو، ورنہ جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں سورج نکلنے کے بعد اشراق کے وقت پڑھے۔ فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز ممنوع ہے، البتہ قضا نمازیں، سجدہٴ تلاوت اور نمازِ جنازہ جائز ہے۔

  • ترمذی (ج:1 ص:57، باب ما جاء فی اعادتھما بعد طلوع الشمس)
  • إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلٰوةُ فَـ لَا صَلٰوةَ إِلَّا الْمَکْتُوبَةُ صحيح مسلم، صلاة المسافرين، باب کراهة الشروع فی نافلة بعد شروح الموذن… ح:710۔

’’جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پھر فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘

سنت نمازوں کے مسائل[ترمیم]

  • وقت گزرنے کے بعد سنت کی قضا نہیں ہوسکتی اور فجر کی سنتیں نصف النہار سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہئیں۔
  • گھر پر سنتیں پڑھنا افضل ہے، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ گھر کا ماحول پُرسکون ہو اور اس کو گھر جاتے ہی گھریلو کاموں کی تشویش لاحق نہ ہو جائے، اگر ایسا اندیشہ ہو تو مسجد میں سنتیں پڑھنا افضل ہے۔
  • سنت و نفل کے لیے مطلق نماز کی نیت کافی ہے، اس میں وقت اور رکعات کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں۔
  • اذان پر سنتوں کی نماز ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر غیر مؤکدہ سنتوں یا نفلوں کی نیت باندھ رکھی ہو اور اقامت ہونے لگے تو دو رکعت پوری کرکے سلام پھیردے۔ اگر ظہر یا جمعہ سے پہلے کی چار سنتیں پڑھ رہا تھا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہو گئی یا جمعہ کا خطبہ شروع ہو گیا تو ان کو پورا کرے۔ بعض کے مطابق پہلے دوگانے میں ہو تو دو رکعت پوری کرکے سلام پھیردے اور بعد میں چار رکعتیں پڑھ لے۔ اگر دوسرے دوگانے میں ہو تو چار رکعتوں کو پورا کرلے، درمیان میں نہ توڑے۔
  • ظہر میں فرض سے پہلے کی سنتیں رہ جائیں تو فرض کے بعد ادا کی جاسکتی ہیں۔
  • سنتِ مؤکدہ، غیر مؤکدہ، نفل اور وتر کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ کے بعد سورة ملانا واجب ہے، ورنہ نماز نہیں ہوگی اور اگر سورہٴ فاتحہ بھول گیا یا سورة ملانا بھول گیا تو سجدہٴ سہو واجب ہوگا۔
  • فرض نماز سے فارغ ہوکر امام اور مقتدی دونوں کے لیے جگہ بدل لینا مستحب ہے۔ سنن ابوداوٴد (ج:1 ص:144) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے:

”ایعجز احدکم ان یتقدم او یتأخر عن یمینہ او عن شمالہ یعنی فی السبحة۔“ ترجمہ:”کیا تم میں سے ایک آدمی اس بات سے قاصر ہے کہ فرض نماز کے بعد جب سنت شروع کرے تو ذرا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہولیا کرے۔“

  • غیر مؤکدہ سنتوں اور نفلوں کی دو رکعت پر التحیات کے بعد دُرود شریف اور دُعا پڑھنا اور تیسری رکعت میں ”سبحانک اللّٰہم“ سے شروع کرنا افضل ہے، اگر صرف التحیات پڑھ کر اُٹھ جائے اور تیسری رکعت الحمدشریف سے شروع کر دے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
  • سنت کے لیے مطلق نماز کی نیت کافی ہے، وقت اور رکعات کے تعین کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کوئی کرنا چاہے تو پہلی سنت میں ”سنت قبل از جمعہ“ کی اور بعد والی سنتوں میں ”بعد از جمعہ“ کی نیت کرلی جائے، جمعہ سے پہلے کی سنتیں رہ جائیں تو ان کو بعد کی سنتوں کے بعد ادا کرلے اور ان میں قبل از جمعہ کی نیت کرے۔

حوالہ جات[ترمیم]

مسائل اور ان کا حل از ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر