سنوسی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سنوسی خاندان
Senussi dynasty
(عربی: السنوسية)
Senussi Royal Crest.png
ملک امارت برقہ
طرابلس، علاقہ
Flag of Libya (1951–1969).svg مملکت لیبیا
بانی محمد بن علی سنوسی
آخری حکمران محمد ادریس سنوسی
تخت یا سے معزولی 1969: معمر القذافی نے حکومت کا تختہ الٹ دیا
موجودہ سربراہ محمد الرضا سنوسی;
ادریس بن عبداللہ سنوسی (حریف دعویدار)
خطاب

انیسویں صدی میں لیبیا کے جنوبی صحرائی علاقوں میں شروع ہونے والی ایک تحریک، جس بانی سید محمد ابن علی سنوسی (1787ء تا 1859ء) تھے۔ انہوں نے اس تحریک کی بنیاد 1837ء میں مکہ معظمہ میں اپنا پہلا زاویہ قائم کرکے رکھی۔ بعد میں یہی زاویے یا حلقے سنوسی تحریک میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئے۔ انہوں نے مختلف مقامات پر اپنے قیام کے دوران اس طرح کے زاویے قائم کیے اور ان زاویوں سے انہوں نے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانا شروع کیا۔ آخر میں انہوں نے برقہ یا سائرنیکا کے صحرا میں جغبوب کے نخلستان میں 1853ء میں اپنی دعوت کا مرکز قائم کیا اگرچہ بعد میں انہوں نے یہ مرکز جنوب میں کئی سو میل کے فاصلے پر نخلستان کفرہ میں منتقل کر دیا لیکن جغبوب کو سنوسی تحریک میں ہمیشہ اہم مقام حاصل رہا۔ سنوسی تحریک کا مقصد کتاب و سنت کی بنیاد پر عالم اسلام کا دینی احیاء تھا۔ وہ احمد بن حنبل، امام غزالی، ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب سے بہت متاثر تھے اور ان کی تحریک محمد بن عبد الوہاب کی ہمعصر نجدی تحریک سے بہت زیادہ مشابہ تھی۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے علاوہ محمد سنوسی نے صحرائے اعظم میں خانہ بدوشوں کی بستیاں آباد کرنے اور کھیتی باڑی شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی، دراصل سنوسیوں کی یہی بستیاں زاویہ کہلاتی تھیں۔ ہر زاویہ اقتصادی لحاظ سے خود کفیل ہوتا تھا۔ یہی زاویے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے مرکز بن گئے۔ اخوان کی طرح سنوسی ایک ہی وقت میں مبلغ، معلم اور کسان تھے اور جب انہیں جہاد کی دعوت پہنچتی تو وہ میدان جنگ کا رخ اختیار کرلیتے۔

سید محمد سنوسی کے صاحبزادے سید مہدی (1824ء تا 1902ء) کے زمانے میں سنوسی تحریک کی قوت اور اثر و نفوذ عروج پر پہنچ گیا۔ کفرہ نے ایک دار العلوم کی شکل اختیار کرلی۔ وہاں کے کتب خانے میں مختلف علوم کی آٹھ ہزار کتب تھیں۔ صحرائے اعظم میں کتب کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کرنا انتہائی حیرت انگیز تھا۔ سنوسی مبلغین کی کوششوں سے دنیا کے سب سے بڑے صحرا میں چوری، قتل و غارت اور دوسرے جرائ ختم ہو گئے اور صحرا کے جنوبی حصوں میں آباد سیاہ فام باشندوں میں اسلام بھی پھیلا۔

انیسویں صدی کے آخر میں جب فرانس نے مغربی افریقہ پر قبضہ کرنا چاہا تو سنوسیوں سے اس کا تصادم ہو گیا۔ سیدمہدی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے محمد ادریس کی عمر صرف 12 سال تھی۔ اس لیے تحریک کی قیادت ان کے چچا زاد بھائی سید احمد شریف (1873ء تا 1933ء) نے سنبھالی۔ فرانس نے سنوسیوں کے خلاف 1902ء میں فوجی کارروائی شروع کی۔ سید احمد شریف دس سال کا فرانس کا مقابلہ کرتے رہے لیکن اس جنگ میں سنوسی تحریک کو نقصان پہنچا اور صحرائے اعظم کے جنوبی علاقوں میں اس تحریک کا زور ٹوٹ گیا۔

فرانس سے جنگ کا ابھی خاتمہ ہی نہیں ہوا تھا کہ سنوسیوں کا تصادم اٹلی سے ہو گیا۔ یہ حملہ شمال کی سمت سے لیبیا پر ہوا تھا۔ سنوسی اگرچہ لیبیا کی صحرائی زندگی پر چھائے ہوئے تھے لیکن لیبیا انتظامی لحاظ سے عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تھا اور ساحلی علاقوں اور شہروں میں ترکی حکومت مستحکم تھی۔ اطالوی باشندے کچھ سے ساحلی علاقوں میں آباد ہونا شروع ہو گئے تھے اور انہوں نے کاروباری دنیا پر غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ اٹلی نے اپنے سیاسی عزائم کو پورا کرنے کے لیے انہی اطالوی باشندوں کی جان و مال کی حفاظت کے بہانے سے لیبیا میں مداخلت شروع کردی۔ یہ وہی طریقہ تھا جس پر برطانوی حکومت مصر میں اور فرانسیسی حکومت شمالی افریقہ میں عمل کرچکی تھی۔ اٹلی نے 26 ستمبر 1911ء کو ترکوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور 5 اکتوبر کو طرابلس پر قبضہ کر لیا۔

ترکوں کے لیے لیبیا سے جنگ جاری رکھنا بہت مشکل تھا کیونکہ بلقان کی صورت حال نازک تھی اور بحری راستے سے کمک بھی نہیں بھیجی جاسکتی تھی۔ اس لیے ترکوں نے اکتوبر 1912ء میں اطالویوں سے صلح کرلی اور لیبیا سے تمام فوجیں واپس بلانے کا وعدہ لیا۔ اس دوران سید احمد شریف کفرہ سے جغبوب آئے اور وہاں ترک رہنما انور پاشا سے ملاقات کی جو بھیس بدل کے مصر کے راستے لیبیا پہنچے تھے۔ اٹلی کو امید تھی کہ عربوں اور ترکوں کی نسلی کشمکش کی وجہ سے لیبیا کے عرب اطالویوں کا خیرمقدم کریں گے لیکن لیبیا کے حالات شام، عراق اور حجاز سے مختلف تھے، یہاں سنوسی تحریک نے اسلامی اخوت کا رشتہ اتنا مضبوط کر دیا تھا کہ نسلی اور علاقائی مفادات اور تعصبات اس کو نہیں توڑ سکتے تھے۔ لیبیا کے باشندوں سے سنوسی قیادت میں ترکوں کی بھرپور مدد کی اور قدم قدم پر اٹلی کا مقابلہ کیا۔

1914ء کے شروع تک بیشتر ترک فوجیں لیبیا سے واپس چلی گئیں اس لیے اٹلی سے جنگ کا سارا بوجھ سنوسیوں کے کاندھوں پر آپڑا۔ اس جنگ میں جو اب لیبیا کی آزادی کی جنگ بن چکی تھی، سید احمد شریف کی قیادت میں سنوسیوں نے 1912ء سے 1918ء تک اٹلی سے جنگ کی۔ 1915ء میں اٹلی اتحادیوں کی طرف سے جنگ عظیم میں شامل ہو گیا جس کی وجہ سے سنوسی مجاہدوں کا برطانیہ سے بھی ٹکراؤ ہو گیا اور فروری 1916ء میں برطانوی افواج نے حریت پسندوں کو شکست دے دی۔ سید احمد شریف اب لیبیا سے نکل کر نخلستانِ داخلہ (مصر) میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے جہاں سے ستمبر 1918ء میں وہ ترکی چلے گئے۔ یہ وہی سید احمد سنوسی ہیں جو عرب قوم پرستوں کے مقابلے میں برابر ترکی خلافت کی تائید کرتے رہے۔

اب سنوسی تحریک کی قیادت سید محمد ادریس کے ہاتھ آگئی۔ اٹلی اور محمد ادریس کے درمیان صلح کے مذاکرات شروع ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں اٹلی نے محمد ادریس کو صحرائی علاقوں میں سنوسی تحریک کا امیر تسلیم کر لیا لیکن اٹلی نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ جس کی وجہ سے پھر لڑائی شروع ہو گئی اور محمد ادریس سنوسی کو دسمبر 1922ء میں مصر میں پناہ حاصل کرنی پڑی جہاں سے وہ سنوسیوں کی تحریک مزاحمت کی رہنمائی کرتے رہے۔

محمد ادریس کے مصر چلے جانے کے بعد مارچ 1923ء میں اٹلی نے لیبیا پر مکمل تسلط حاصل کرنے کی غرض سے ایک نئی مہم شروع کی۔ سنوسیوں نے حسب سابق ان جارحانہ کارروائیوں کا نہایت دلیری سے مقابلہ کیا۔ جنگ کا یہ سلسلہ 1933ء تک جاری رہا۔ اس جنگ میں سنوسی حریت پسندوں کی قیادت ایک اور سنوسی شیخ عمر مختار نے کی۔ اس جنگ میں اٹلی کی فوجوں سے سخت ظلم و ستم اور بربریت کا مظاہرہ کیا۔ سنوسی زاویے ڈھا دیے گئے، کنوؤں کو پاٹ دیا گیا، تاکہ مجاہد صحرا میں پیاس سے مرجائیں، جائیدادیں ضبط کرلی گئیں اور عمر مختار اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ عمر مختار کی شہادت کے ساتھ سنوسی تحریک کی مسلح مزاحمت کا خاتمہ ہو گیا۔ آج طرابلس کی سب سے بڑی شاہراہ اسی مرد مجاہد کے نام پر شارع عمر مختار کہلاتی ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]