سوامی ابھیدانند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سوامی ابھیدانند
Swami Abhedananda portrait 2.jpg
ذاتی
پیدائش
2 اکتوبر 1866(1866-10-02)
وفات8 ستمبر 1939(1939-90-80) (عمر  72 سال)
مذہبہندومت
فلسفہویدانت
مرتبہ
گرورام کرشن پرم ہنس
بارانگر مٹھ میں 30 جنوری 1887ء کو لی گئی گروپ فوٹو۔
کھڑے ہوئے: (بائیں سے دائیں) سوامی شیو آنند، سوامی رام کرشن آنند، سوامی ویکانند، راندھنی، دیبیندر مجمدار، مہیندر ناتھ گپتا (شری مہیندر)، سوامی تریگناتیت آنند، ایم۔مصطفی
بیٹھے ہوئے: (بائیں سے دائیں) سوامی نرنجن آنند، سوامی ساردانند، ہٹکو گوپال، سوامی ابھیدانند

سوامی ابھیدانند (2 اکتوبر 1866 – 8 ستمبر 1939)، پیدائشی نام کالی پرساد چندر انیسویں صدی کے متصوف رام کرشن پرم ہنس کے ایک صریح شاگرد اور رام کرشن ویدانت مٹھ کے بانی تھے۔ سنہ 1897ء میں سوامی ویویکانند نے ان کو مغرب میں ویدانت سوسائٹی آف نیویارک کی سربراہی کرنے اور ویدانت کا پیغام پھیلانے کے لیے بھیجا۔ ویدانت کے موضوع پر انھوں نے کچھ کتب بھی لکھیں اور بعد میں کلکتہ (موجودہ کولکاتا) اور دارجلنگ میں رام کرشن ویدانت مٹھ قائم کیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

سوامی ابھیدانند، جوانی میں

سوامی ابھیدانند شمالی کلکتہ میں 2 اکتوبر 1866ء کو پیدا ہوئے اور ان کا پیدائشی نام کالی پرساد چندر تھا۔[1] ان کے والد راسک لال چندر تھے اور والدہ ناینترا دیوی تھیں۔ سنہ 1884ء میں 18 سال کی عمر میں وہ اسکول کے امتحانات جو کلکتہ یونیورسٹی کے ماتحت ہونے تھے، کی پڑھائی کرنے کے لیے دکشنیشور گئے اور رام کرشن پرم ہنس سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اپریل 1885ء میں جب رام کرشن پرم ہنس شدید بیمار ہو گئے تو ان کی دیکھ ریکھ کرنے لیے سوامی ابھیدانند نے اپنا گھر چھوڑ دیا۔

سنیاسی زندگی[ترمیم]

1886ء میں اپنے گرو رام کرشن پرم ہنس کی وفات کے بعد انھوں نے بارانگر مٹھ کے کمرے میں خود کو بند کر لیا اور گہری سادھنا (استغراق) میں ڈوب گئے، اس کی وجہ سے ان کے شاگردوں نے انہیں ”کالی تپسوی“ کا نام دیا[1] رام کرشن پرم ہنس کی وفات کے بعد وہ رسمی ویکانند اور دیگر کے ہمراہ سنیاسی بن گئے اور سنیاس کے بعد وہ ”سوامی ابھیدانند“ کے نام سے مشہور ہو گئے۔

اپنی زندگی کے اگلے دس سالوں تک بطور ایک سنیاسی انھوں پورے بھارت کا سفر طے کیا اور وہ دوسرے کے محتاج تھے اور دان (خیرات) پر گزر بسر کرتے تھے۔ ان دس سالوں میں انھوں انھوں نے کچھ بزرگوں مثلاً پوہاری بابا، تریلنگ سوامی اور سوامی بھاسکر آنند سے ملاقات کی۔ وہ دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے ذریعے ہمالیہ گئے اور وہاں پہنچ کر ریاضت کی۔ وہ ایک مؤثر خطیب، کثیر التصانیف مصنف، یوگی اور دانشور تھے۔

انھوں نے 8 ستمبر 1939ء کو رام کرشن ویدانت مٹھ میں وفات پائی۔ وہ رام کرشن پرم ہنس کے واحد زندہ صریح شاگرد تھے، یعنی ابھیدانند کی وفات کے بعد رام کرشن پرم ہنس کا کوئی شاگرد زندہ نہ رہا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • An Apostle of Monism: An Authentic Account of the Activities of Swami Abhedananda in America, by Mary Le Page. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1947.
  • Swami Abhedananda, the Patriot-saint, by Ashutosh Ghosh. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1967.
  • Swami Abhedananda centenary celebration, 1966–67: souvenir, containing the most valuable and authentic records of the glorious life of Swami Abhedananda, by Swami Abhedānanda. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1966.
  • Swami Abhedananda: A Spiritual Biography, by Moni Bagchee. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1968.
  • The Bases of Indian Culture: Commemoration Volume of Swami Abhedananda, by Amiya Kumer Mazumder, Prajnanananda. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1971.
  • The Philosophical Ideas of Swami Abhedananda: A Critical Study; a Guide to the Complete Works of Swami Abhedananda, by Prajnanananda. Published by Ramakrishna Vedanta Math, 1971.
  • Five articles by Swami Abhedananda

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Biography Belur Math Official website.
  2. Swami Abhedananda Biography The Ramakrishna Mission Institute of Culture

بیرونی روابط[ترمیم]

  • Ramakrishna Vedanta Math, official website
  • Public Works on-line
  • Gospel of Ramakrishna by Swâmi Abhedânanda
  • How To Be A Yogi by Swâmi Abhedânanda
  • Swami Abhedananda materials in the South Asian American Digital Archive (SAADA)
  • Swami Abhedananda کی تصنیفات منصوبہ گوٹنبرگ پر
  • سوامی ابھیدانند انٹرنیٹ آرکائیو پر
  • لیبری واکس (دائرہ عام صوتی کتب) پر سوامی ابھیدانند کی تصنیفات
  • ویکی ماخذ پر متن:
    • Letter (of 19 May 1900?) from Vivekananda to Abhedananda
    • Letter of 24 July 1900, from Vivekananda to Abhedananda
    • "Abhedananda, Swami". Collier's New Encyclopedia. 1921. 

سانچہ:Ramakrishna