سوتر
سُوتْر (سنسکرت: सूत्र) ہندوستانی ادبی روایت میں کسی جامع کلمہ یا جامع کلمات کے مجموعے کو کہتے ہیں جو عام طور پر ایک رہنما کتابچہ یا مختصر متن کی شکل میں ہو۔ سوتر قدیم اور قرون وسطیٰ کے ہندوستانی متون کی صنف ہیں جو ہندومت، بدھ مت اور جین مت میں پائی جاتی ہیں۔[1]
ہندو مت میں سوتر مخصوص قسم کی ادبی تخلیق ہے جو مختصر جامع کلمات یا اقوال کے مجموعے پر مشتمل ہوتا ہے۔[2][3] ہر سوتر کوئی بھی چھوٹا اصول یا قاعدہ ہوتا ہے جیسے کہ کسی تھیورم کو چند الفاظ یا ہجوں میں سمیٹ دیا جائے جس کے گرد رسومات، فلسفہ، گرامر یا کسی بھی علم کے شعبے کی تعلیمات پیش کی جا سکتی ہیں۔[1][2] ہندومت کے سب سے قدیم سوتر ویدوں کی براہمن گرنتھ اور آرن یک تہوں میں پائے جاتے ہیں۔[4][5] ہندو فلسفے کے ہر مکتب فکر، ویدک رسومات کے رہنما اصول، فنون و علوم، قانون اور سماجی اخلاقیات کے ہر شعبے نے اپنے مخصوص سوتر ترتیب دیے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک علم و فکر کی روشنی پہنچانے کا کارآمد ذریعہ بنے۔[3][6][7]
بدھ مت میں سوتر جنھیں ”سُتّ“ بھی کہا جاتا ہے مقدس صحائف ہیں جن میں سے کئی گوتم بدھ کی زبانی تعلیمات کے نوشتے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مختصر اقوال نہیں بلکہ تفصیلی تحریریں ہیں جن میں کبھی کبھار تکرار بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی وجوہات میں ممکن ہے کہ یہ ویدک یا سنسکرت کے لفظ سُکْت (اچھے الفاظ میں بیان کیا ہوا) سے ماخوذ ہوں نہ کہ سُوتر (دھاگے) سے۔[8]
جین مت میں سوتر جنھیں ”سویا“ (सुय) بھی کہا جاتا ہے مہاویر کے مقدس خطبات ہیں جو جین آگم میں شامل ہیں نیز کچھ (آگموں کے بعد کے) معیاری متون میں بھی پائے جاتے ہیں۔[9][10]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب Monier Williams, Sanskrit English Dictionary, Oxford University Press, Entry for sutra, page 1241
- ^ ا ب
- ^ ا ب Gavin Flood (1996), An Introduction to Hinduism, Cambridge University Press, ISBN 978-0-521-43878-0, pages 54–55
- ↑
- ↑
- ↑
- ↑ David Gordon White (2014)۔ The Yoga Sutra of Patanjali: A Biography۔ Princeton University Press۔ ص 194–195۔ ISBN:978-0-691-14377-4
- ↑
- ↑
- ↑