سوریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


عربی: الجمهورية العربية السورية
عرب جمہوریہ سوریہ
سوریہ کا پرچم سوریہ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Wahdah, Hourriah, Ishtirakiah
(اتحاد، آزادی، اشتراکیت)
ترانہ: حماۃ الدیار
سوریہ کا محل وقوع
دارالحکومت دمشق
عظیم ترین شہر دمشق
دفتری زبان(یں) عربی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
صدارتی جمہوریہ
بشار الاسد
محمد ناجی العطری
آزادی
- پہلا اعلانِ آزادی
دوسرا اعلانِ آزادی
تاریخِ آزادی
اقوام متحدہ اور فرانس سے
ستمبر 1936ء
یکم جنوری 1944ء
17 اپریل 1946ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
185180  مربع کلومیٹر (88)
71498 مربع میل
0.06
آبادی
 - تخمینہ:2007 ءء
 - کثافتِ آبادی
 
19,929,000 (54)
103 فی مربع کلومیٹر(101)
267 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ءء

86.59 ارب بین الاقوامی ڈالر (66 واں)
4500 بین الاقوامی ڈالر (109 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007 ءء)
0.724
(108) – متوسط
سکہ رائج الوقت سوری پونڈ (SYP)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی یورپی وقت (EET)
(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
انٹرنیٹ ڈومین .sy
کالنگ کوڈ +963

سوریہ (تلفظ: سنیےi/ˈsɪ.rɪə/; عربی: سوريا یا سورية) (جسے بعض اوقات شام بھی کہا جاتاہے۔ شام دراصل مشرق وسطٰی کے ایک بڑے علاقے کے لیے استعمال ہونے والی ایک غیر واضح تاریخی اصطلاح ہے۔) مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا اور تاریخی ملک ہے۔ اس کا مکمل نام (عربی: الجمهورية العربية السورية) ہے۔ اس کے مغرب میں لبنان، جنوب مغرب میں فلسطین اور اسرائيل ، جنوب میں اردن، مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی ہے۔ سوریہ دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ موجودہ دور کا سوریہ 1946ء میں فرانس کے قبضے سے آزاد ہوا تھا۔ اس کی آبادی دو کروڑ ہے جن میں اکثریت عربوں کی ہے۔ بہت تھوڑی تعداد میں اسیریائی، کرد، ترک اور دروز بھی سوریہ میں رہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم زمانہ[ترمیم]

سوریہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین سامی اقوام اور زبانوں کے آثار سوریہ سے دستیاب ہوئے ہیں۔ مشرقی سوریہ کے شہر عبیل ( عربی: عبيل، انگریزی میں Ebla ) سے 1975ء میں ایک عظیم سامی سلطنت کے آثار ملے ہیں جس میں قدیم ترین سامی زبانوں اور تہذیب کا بہترین نوادراتی اثاثہ سوریہل ہے جس میں 17000 مٹی کی تختیاں ہیں۔ ان پر اس زمانے کی تجارت، ثقافت، زراعت وغیرہ کے بارے میں بیش قیمت معلومات درج ہیں۔ ان کا زمانہ 2500 قبل مسیح سے بھی پہلے کا ہے۔ سوریہ پر یکے بعد دیگرے کنعانیوں، عبرانیوں ، اسیریائی لوگوں اور بابل کے لوگوں نے قبضہ کیا اور نت نئی تہذیبوں کو جنم دیا جن کو آج ہم دنیا کی قدیم تہذیبوں کے نام سے جانتے ہیں۔ بعد میں رومیوں ، بازنطینیوں ، یونانیوں ، ایرانیوں اور عربوں نے بھی سوریہ پر حکومت کی۔

اسلامی عہد[ترمیم]

دمشق جو دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک ہے، 636ء میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ بعد میں 661ء سے 750ء تک وہاں اموی سلطنت قائم رہی جس کی حدود ہسپانیہ سے وسط ایشیا تک تھیں۔ 750ء میں عباسیوں نے امویوں کو سلطنت و خلافت سے بے دخل کر دیا اور سلطنت کا مرکز بغداد بن گیا۔ 1260ء میں مملوکوں نے اسے دوبارہ دارالخلافہ بنایا مگر امیر تیمور نے 1400ء میں دمشق اور گردو نواح کو تباہ کر دیا اور اس کے تمام نابغہ روزگار لوگوں اور ہنرمندوں کو اپنے ساتھ سمرقند لے گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی کے شروع تک یہ زیادہ تر عرصہ سلطنت عثمانیہ کے تحت رہا۔ 1918ء میں وہاں فرانسیسیوں اور برطانویوں کی ایما پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ بعد سوریہ کا زیادہ تر علاقہ فرانسیسیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔

فرانسیسی اختیار[ترمیم]

شریف مکہ نے برطانوی سامراج کی ایما پر ترکی خلافت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے 1918ء میں دمشق میں ایک قومی حکومت قائم کرنے میں مدد دی جو فیصل بن حسین نے قائم کی جس کے تحت سوریہ کے کچھ علاقے، لبنان، اردن اور فلسطین کے کچھ علاقے آتے تھے۔ 1919ء میں انتخابات ہوئے اور ایک مجلس (پارلیمنٹ) قائم ہوئی مگر اصل طاقت برطانوی سامراج اور اس کے دوستوں کے پاس رہی۔ 1916ء میں برطانیہ اور فرانس میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا جسے سائیکس پیکوٹ معاہدہ کہتے ہیں۔ جس کے بعد مجلس اقوام عالم (لیگ آف نیشنز)، جو اقوام متحدہ کی ابتدائی شکل تھی، کے ذریعے یہ اقتدار فرانس کو سونپ دیا گیا۔ 1920ء میں فرانسیسی افواج نے سوریہ پر مکمل قبضہ کر لیا اور سوریہ کو 1921ء میں چھ ریاستوں میں تقسیم کردیا جن میں لبنان بھی سوریہل تھا۔ فلسطین کے بارے میں انگریزوں نے 1917ء میں ہی ایک خفیہ معاہدہ (بالفور کا معاہدہ) کیا تھا جس میں وہاں ایک یہودی ریاست کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ وہ عہد تھا جس میں فرانس ، برطانیہ اور دیگر سامراجی اور سرمایہ دار ممالک نے مشرق وسطی کو مختلف خفیہ معاہدوں کی مدد سے آپس میں بانٹ لیا تھا۔ اس اثناء میں سوریہ میں کئی مزاحمتی تحریکوں نے جنم لیا۔ فرانس نے سوریہ کو کئی دفعہ مصنوعی آزادی کا فریب دیا۔ 1932ء میں سوریہ میں پہلی دفعہ آزادی کا اعلان ہوا مگر پارلیمنٹ فرانس کی مرضی کی تھی اور تمام کابینہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو فرانس کے حواری تھے۔ اسی وجہ سے سوریہ اس وقت ایک آزاد ملک نہ بن سکا۔ آزادی کی تحریکیں چلتی رہیں حتیٰ کہ یہ پارلیمنٹ فرانس نے 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے بہانے ختم کر دی۔ فرانس خود 1940ء میں جرمنی کے قبضہ میں آ گیا مگر سوریہ پھر بھی آزاد نہ ہو سکا اور برطانوی اور فرانسیسی افواج نے 1941ء میں سوریہ کو روند ڈالا۔ اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فرانس نے کئی پارلیمنٹیں بنوائی اور مصنوعی حکومتیں تشکیل دیں۔ ایسی ایک پارلیمنٹ 1943ء میں تشکیل دی گئی جس کے ساتھ 1944ء میں فرانس نے ایک معاہدہ آزادی کیا۔ مگر 1945ء میں فرانسیسی افواج نے دمشق کے ارد گرد گھیرا ڈال کر زبردست بمباری کی اور پارلیمنٹ کی عمارت تباہ کر دی۔ اس بمباری میں سوری حکومت کے افراد کے علاوہ 2000 سے زیادہ عام لوگ، عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے۔ اس وقت سوریہ کے صدر شکری القوتلی تھے جن سے برطانوی سفیر نے ان سے ملاقات کی اور فرانس کے ساتھ صلح نامے پر دستخط یا کسی محفوظ مقام پر منتقلی کی تجویز دی جو انہوں نے رد کردی۔ ان کے اس عزم و حوصلے کے باعث ہی فرانس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے اگلے سال سوریہ خالی کرنا پڑا۔

آزادی[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ دونوں کمزور ہو گئے تھے۔ فرانس نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ مزید سوریہ پر اپنا قبضہ نہیں رکھ سکتا تو اس نے سوریہ کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا۔ 1946ء میں فرانس نے 1944ء میں کیے جانے والے معاہدہ آزادی کو دوبارہ تسلیم کر لیا اور 15 اپریل 1946ء کو فرانسیسی اور برطانوی افواج سوریہ سے نکل گئیں۔ 17 اپریل 1946ء کو سوریہ نے آزادی کا اعلان کر دیا اور بیسویں صدی کا ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس کا نام الجمہوریہ السوریۃ رکھا گیا۔ بعد میں 30 مارچ 1949ء کو برطانیہ، فرانس اور سی آئی اے (CIA) کی مدد سے ایک فوجی بغاوت ہوئی جس نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور کم و بیش وہی کہانی شروع ہو گئی جو نو آزاد مسلمان ملکوں کی مشترکہ داستان ہے۔

سوریہ بطور آزاد ملک[ترمیم]

قنیطرہ کا ہسپتال۔اسرائیلی بمباری سے چھلنی

سوری افواج نے 1948ء کی عرب اسرائیلی جنگ میں حصہ لیا جس کے بعد برطانیہ، فرانس اور امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے اس کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس سازش نے مارچ 1949ء کی فوجی بغاوت کو جنم دیا۔ (1952ء میں ایسی ہی فوجی بغاوت مصر میں بھی ہوئی)۔ جنرل حسنی الزعیم ( جنرل زعیم) نے اقتدار سنبھالا۔ جنرل زعیم 25 جولائی 1949ء کو ایک استصواب رائے (ریفرینڈم) کے ذریعے 99 فی صد ووٹ لے کر صدر بن گیا۔ (بعینہ یہی کہانی پاکستان اور دوسرے کئی ممالک میں بھی دہرائی گئی ہے)۔ اگست میں ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس کے بعد جنرل زعیم کو قتل کر دیا گیا۔ ایک نئی حکومت بن گئی۔ اس حکومت نے عراق کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جسے برطانیہ، فرانس اور امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے سخت ناپسند کیا حالانکہ عراق میں بھی انھی کی کٹھ پتلی حکومت قائم تھی۔ مگر وہ اسلامی ممالک کے اتحاد کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ اسی سال دسمبر میں ایک اور فوجی بغاوت میں جنرل ششکالی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت نے 1953ء میں ایک آئین بھی منظور کیا۔ عوامی دباو پر 1955ء میں انتخابات ہوئے اور ایک غیر فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ جس نے مصر کی حکومت سے تعلقات قائم کیے۔ روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 22 فروری 1958ء کو مصر اور سوریہ نے اتحاد کیا اور ایک متحدہ ملک قائم ہو گیا جس کا نام متحدہ عرب جمہوریہ تھا۔ یاد رہے کہ مصر میں بھی امریکی اور برطانوی حمایت یافتہ قوتیں ختم کر کے جمال عبد الناصر برسراقتدار آچکے تھے جن کی وجہ سے یہ اتحاد ممکن ہوا۔ مگر 28 ستمبر 1961ء میں سامراجی قوتوں کی ایما پر ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس نے یہ اتحاد ختم کر کے سوریہ کو دوبارہ ایک الگ ملک کی حیثیت دے دی۔ ملک میں روسی حمایت یافتہ لوگوں اور سامراجی حمایت رکھنے والوں کے درمیان رسہ کشی جاری رہی اور 8 مارچ 1963ء کو بعث پارٹی کے لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ بعث پارٹی نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور عیسائی مشنری سکولوں کو بند کر دیا۔ 23 فروری 1966ء کو اسی پارٹی کے حافظ الاسد نے حکومت پر قبضہ کر کے صدر امین حفیظ کو برطرف کر دیا۔ انہی حافظ الاسد کے بیٹے بشار الاسد آج کل سوریہ کے حاکم ہیں۔ 1973ء میں سوریہ نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ کی اور گولان کی پہاڑیوں کا کچھ حصہ آزاد کروایا ۔ اس موقع پر روس اور امریکہ دونوں ایک ہو گئے اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی ممالک نے مصر اور اسرائیل کی صلح کروائی اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اس مین بنیادی کردار امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ادا کیا جو خود ایک سابق جرمن یہودی تھا۔ مگر سوریہ اس حد تک جانے پر تیار نہ ہوا اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ 1976ء میں سوری افواج لبنانی حکومت کی درخواست پر لبنان میں داخل ہوئیں اور لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 10 جون 2000ء کو سوریہ کے صدر حافظ الاسد طویل بیماری کے بعد 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ حافظ الاسد سنہ 1964ء میں سوریہ کی فضائیہ کے کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس کے تین سال بعد وزير دفاع بنے۔ سنہ 1970ء میں انہوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر سوریہ کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر بعث پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے۔ ایک سال کے بعد وہ ریفرینڈم کے ذریعے سوریہ کے صدر بنے اور پھر کئی ریفرینڈموں کے ذریعے آخری دم تک عہدۂ صدارت پر باقی رہے ۔سنہ 1967ء میں عربوں اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران حافظ الاسد سوریہ کے وزير دفاع تھے۔ اس جنگ میں صیہونی حکومت نے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن سنہ 1973ء میں حافظ الاسد اپنی فوج کو مضبوط کرکے جولان پہاڑیوں کے ایک حصے کو واپس لینے میں کامیاب ہوگئے۔ صیہونی حکومت کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور اسلامی جمہوریۂ ایران جیسے، صیہونیت مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا، حافظ الاسد کے دور کی، سوریہ کی خارجہ پالیسی کی خصوصیات میں سوریہل ہیں۔ حافظ الاسد کے بعد ان کے بیٹے بشار اسد کو صدر منتخب کیا گيا۔ انہوں نے بھی اپنے والد کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا خطے میں جاری صیہونیت مخالف محاذ میں سوریہ کے بنیادی کردار کو محفوظ رکھا جو امریکا، اسرائیل اور خطے میں ان کے حامی ممالک کو ایک آنکھ نہيں بھاتا چنانچہ اس وقت صدر بشار اسد کو ایک ایسی خانہ جنگی کا سامنا ہے کہ جس میں ترکی، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ديگر ممالک کا ہاتھ نمایا ں ہے۔ تاہم صدر بشار اسد کی حکومت گراکر ان کی جگہ کسی مغرب نواز ایجنٹ کو اقتدار میں لانے کی ان کی کوئی بھی کوشش تابحال کامیاب نہيں ہوسکی ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

بائیں طرف دیے گئے نقشے کے مطابق سوریہ کو چودہ مختلف صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں محافظات (محافظہ کی جمع) کہا جاتا ہے۔

شمار محافظہ
1 محافظہ لاذقیہ لاذقیہ
2 محافظہ ادلب ادلب
3 محافظہ حلب حلب
4 محافظہ الرقہ الرقہ
5 محافظہ الحسکہ الحسکہ
6 محافظہ طرطوس طرطوس
7 محافظہ حماہ حماہ
8 محافظہ دیر الزور دیر الزور
9 محافظہ حمص حمص
10 محافظہ دمشق
11 محافظہ ریف دمشق
12 محافظہ قنیطرہ قنیطرہ
13 محافظہ درعا درعا
14 محافظہ السویداء السویداء

انٹرنیٹ[ترمیم]

سوریہ میں ٹیلی مواصلات اور ٹیکنالوجی کی وزارت کی طرف سے نگرانی کر رہے ہیں. اس کے علاوہ، حکومت کو انٹرنیٹ تک رسائی کی تقسیم میں ایک لازمی کردار ادا کرتا ہے. انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے قوانین کی وجہ سے، 13،000 انٹرنیٹ کے کارکنوں نے مارچ 2011 ء اور اگست 2012ء کے درمیان گرفتار کیا گیا ہے.[1]><ref>http://www.ste.gov.sy>/ref<

معیشت[ترمیم]

سوریہ ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کی معیشت سوشلسٹ نظریات پر مبنی ہے۔ زیادہ تر صنعتیں قومی ملکیت میں ہیں۔ ساٹھ فی صد لوگ بیس سال سے کم عمر ہیں یعنی کام نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ خواتین میں بھی کام کرنے کا رحجان کم ہی ہے۔ اس کے باوجود بے روزگاری کی شرح بیس فی صد سے زیادہ رہتی ہے۔ سوریہ کچھ تیل برامد کرتا ہے۔ جس میں صرف اسی صورت میں اضافہ کی توقع ہے اگر بین الاقوامی تیل کمپنیاں سرمایہ کاری کریں جو آج کل امریکی دباو کی وجہ سے بند ہے۔ اس طرح کی معیشت بار بار فوجی انقلاب اور بعد میں انتہائی سخت پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ سوریہ کی صنعت کچھ ترقی یافتہ ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی ہے۔ سوریہ کی صرف ایک تہائی زمین قابل کاشت ہے جس کا زیادہ انحصار بارش پر ہے۔ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں نجی ملکیت کی شرح زیادہ ہے مگر زرعی اشیا کی درآمد و برآمد پر حکومت کا اختیار زیادہ ہے۔ فی کس آمدنی پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ مگر شہری لوگوں اور دیہاتیوں کی آمدنی میں بہت فرق ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

سوریہ ایک گرم اور خشک ملک ہے۔ سردیاں ہلکی ہوتی ہیں مگر کبھی کبھی بحیرہ روم اور لبنان کی سرحد کے قریبی علاقوں میں برفباری بھی ہو جاتی ہے۔ سوریہ کا زیادہ حصہ بنجر ہے اور ایک تہائی زمین قابل کاشت ہے۔ قابل ذکر دریا دریائے فرات ہے جو ملک کے مشرق میں بہتا ہے جس سے ملک کا شمال مشرقی حصہ جو الجزیرہ کہلاتا ہے کچھ سرسبز ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے بیشتر ذرائع پر ترکی کا کنٹرول ہےکیونکہ وہ ترکی کے علاقوں سے بہہ کر آتے ہیں۔ بڑے شہر زیادہ تر ساحل سمندر کے پاس ہیں یا دریائے فرات پر۔ دمشق سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے جو لبنان کی سرحد کے بہت قریب ہے۔

اہم اعداد و شمار[ترمیم]

سوریہ کے 80 فی صد کے قریب لوگ پڑھے لکھے ہیں جن کی فی کس آمدنی پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ سوریہ میں 92 فی صد سے زیادہ مسلمان اور تقریباًً آٹھ فی صد عیسائی، علوی اور دروز ہیں۔ عربی النسل لوگ 85 فی صد ہیں اور کرد لوگ 10 فی صد ہیں۔ باقی لوگوں میں آرمینیائی، اسیریائی اور دیگر لوگ سوریہل ہیں۔ سوریہ میں عراقی اور فلسطینی مہاجرین کی تعداد بھی تقریباًً بیس لاکھ کے قریب ہے۔ عربی سب سے اہم زبان ہے لیکن دیہات میں کچھ علاقوں میں سوریہ کی قدیم زبانیں مثلاً آرامی بھی سننے کو مل سکتی ہیں مگریہ قدیم زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔

سیاست[ترمیم]

سوریہ میں ایک پارلیمانی جمہوری نظام قائم ہے۔ بعث پارٹی کو قانوناً سب سے زیادہ اختیار ہے۔ اگرچہ چھ دیگر پارٹیاں بھی کام کرتی ہیں اور حکومتی نظام کا حصہ ہیں مگر بعث پارٹی کو ایک قانون کے تحت برتری حاصل ہے اور عملاً اسی کے نظریات کے تحت حکومت چلتی ہے۔ یہ پارٹیاں مل کر ایک کونسل بناتی ہیں جس کا انتخاب ہر چار سال بعد ہوتاہے مگر اس کونسل کو محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اصل اختیارات صدر کو حاصل ہیں جس کی صدارت کی توثیق کے لیے ہر سات سال بعد ایک ریفرینڈم ہوتا ہے۔ صدر کابینہ کا انتخاب کرتا ہے۔ صدر ہی فوج کا سربراہ ہوتا ہے اگرچہ خود فوجی نہیں ہوتا۔ یہ نظام بعث پارٹی کی حیثیت کو مضبوط رکھتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

سوریہ کے شہر[ترمیم]

  • دمشق (عربی میں دمشق یا السوریہ ۔ انگریزی میں Damascus )
  • حلب (عربی میں حلب ۔ انگریزی میں Aleppo )
  • درعا (عربی میں درعا ۔ انگریزی میں Daraa )
  • دير الزور (عربی میں دير الزور ۔ انگریزی میں Deir ez-Zor )
  • حماہ (عربی میں حماة ۔ انگریزی میں Hama )
  • حسکہ (عربی میں الحسكة ۔ انگریزی میں Al Hasakah )
  • حمص (عربی میں حمص ۔ انگریزی میں Homs )
  • ادلب (عربی میں إدلب ۔ انگریزی میں Idlib )
  • اذقیہ (عربی میں اللاذقية ۔ انگریزی میں Latakia )
  • قنیطرہ (عربی میں القنيطرة ۔ انگریزی میں Al Qunaytirah )
  • رقہ (عربی میں الرقة ۔ انگریزی میں Ar Raqqah یا Rakka )
  • سویدا (عربی میں السويداء ۔ انگریزی میں As Suwayda )
  • طرطوس (عربی میں طرطوس ۔ انگریزی میں Tartous )
  • تدمر (عربی میں تدمر ۔ انگریزی میں Palmyra )
  • قامشلی (عربی میں القامشلي ۔ انگریزی میں Qamishli )
  • عبیل ( عربی میں ع إبلا ف، انگریزی میں Ebla )

سوریہ تصویروں میں[ترمیم]

تصویر کو بڑا کرنے کے لیے اس پر کلک کریں۔

بیرونی روابط[ترمیم]