سومرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سومرہ قوم
گنجان آبادی والے علاقے
زبانیں
سندھی، سرائیکی، پنجابی، گجراتی، کچھی
مذہب
اسلام
متعلقہ نسلی گروہ
دیگر سندھی قبائل

سومرہ، (سومرو، سامرہ، سمرہ، سومرا، سمرو، Sumra، Soomro) سندھ کی قدیم قوم یا نسل ہے جو سندھ، کچھ، کاٹھیاواڑ، گجرات، بلوچستان میں کثرت سے آباد ہے۔[1]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

سومرہ قوم، سامرہ کے عربوں سے نکلی ہے، جو حجاج بن یوسف کے دنوں میں تسخیر سندھ کے موقع پر عراق کے شہر سامرہ (سرمن رائے) سے ہجرت کر کے سندھ میں آئے۔ یہاں انہیں سامری کہا جاتا تھا لیکن بعد میں تلفظ و لہجہ کے تغیر کی وجہ سے سومرہ کہا جانے لگا۔[2]

معروف محقق و مؤرخ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اپنی کتا ب سومروں کا دور میں لکھتے ہیں [3]

سومروں کا پرانا اور پہلا مشہور سردار سومار تھا، جس کے بعد اس کا بیٹا اپنے نام کے ساتھ ابنِ سومار (سومار کا بیٹا) کہلاتا تھا، حالانکہ اس کا ذاتی نام راجپال تھا، سومار کا لقب راء (رائے) تھا اسی لیے سومارراءکے بعد اس کی اولاد سومرا کہلانے لگی۔ سومرا لفظ یقینی طور پر سومارراء کا ہی مخفف یا مختصر تلفظ ہے۔

اصل نسل[ترمیم]

سومرہ حجازی عربی النسل، مسلم، ھوازنیہ القریشی قوم کے لوگ ہیں جو اپنے آپ کو محض سومرو / سومرہ لکھتے اور کہلاتے ہیں۔ اس مسلم قریش قوم سومرا کے مؤرث اعلیٰ حضرت سمرہ بن جندب بن ھوازن ہیں۔ اسی نسل کے قریشی سومرہ حاکموں نے کبھی محض اندرونِ سندھ اور کبھی پورے سندھ پر، دو (2) دؤر میں منصورہ سن 134ھ / 752ء سے لیکر، دوسرے دؤر کے سن 441ھ - 445ھ کے ابتدا تخت گاہ تھری / تھرڑی سے سومروں کے دوسرے تخت گاہوں ملتان، اسکندریہ (اُچ)، پتن پور، محمدطور،وگھ کوٹ، عمر کوٹ، روپا ماڑی،دیبل، ساموئی، برہمن آباد، الور، سہون، نانکی، گونڈل اور دمریلہ وغیرہ پر 1591ء تک 839 سال لگاتار بغیر کسی وقفے کے، شروع سے آخر تک، نہایت خود مختاری اور شان و شوکت سے حکومت کی۔،[4] سومروں کے مؤرث اعلیٰ صحابی رسول سمرہ بن جندب کا شجرہ قریش سے اس طرح ملتا ہے[5]

سمرہ بن جندب بن ہوازن بن قیس غیلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ۔

محمد بن قاسم کی آمد سے قبل عربوں نے سندھ سے تجارتی روابط قائم کر لیے تھے اور دیبل، اوکھا منڈل، دیراول، سومنات، منگرول، دوارکا، راندہبر اور کمبھایت وغیرہ جہاں بحری تجارت کا زور تھا وہاں بنی سمرہ اور بنی تمیم کے قبائل نے یہاں تجارتی مراکز بھی قائم کر لیے تھے۔ مصالہ، کپڑا، ہتھیار، برتن، حضر موت، یمن، عراق، یمامہ لے جائے جاتے تھے اور وہاں سے عربی گھوڑے، کھجوریں، یمنی موتی یہاں فروخت کے لیے لاتے تھے۔[6] 34ھ میں عثمان بن عفان کے دور خلافت میں بصرہ کے حاکم عبداللہ بن عامر نے عامل مکران عبدالرحمن بن سمرہ (جو صحابی رسول سمرہ بن جندب کے بیٹے ہیں) کو اجازت دی کی سرحد مکران پر (راجا چچ کے اشتعال پر) حملے کی دھمکی دینے والی سندھ کی افوج کو بھگا دیں، چنانچہ حملہ کرکے سندھ کی افواج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا اور مکران سے سرحد کیکان تک کا تمام علاقہ چھین لیا، یہی وہ علاقہ ہے جو چچ کی حکومت میں چند سال سے شامل تھا۔[7] عبد الرحمٰن بن سمرہ نے کابل فتح کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی سمرہ نے ہر دور میں بڑی بڑی فتوحات میں حصہ لیا۔[8]

سومروں نے حجاج بن یوسف ثقفی کے دور میں تسخیرِ سندھ کے موقع پر شہر سامرہ سے ہجرت کرکے سندھ کی فتوحات میں حصہ لیا۔۔،[9] حجاج بن یوسف ثقفی نے مکران اور سرحد سندھ کا حاکم محمد بن ہارون سمرہ کو مقرر کیا، [10]جن کا تعلق بنی سمرہ سے تھا۔ محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے وقت مکران کی چھاؤنی میں بنی سمرہ کے تین ہزار جوان تیار تھے ۔[11] جنہوں نے محمد بن قاسم کی فوج کے ساتھ شامل ہو کر فتح سندھ میں حصہ لیا۔

علامہ مولوی عبد اللہ شائق سومروں کی اصل نسل کے بارے میں کہتے ہیں کہ،،[12]

سومرا قوم کے مؤرث اعلیٰ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، اسی لیے انہیں علوی کہہ سکتے ہیں۔ سومروں کا سلسلۂ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نامدار فرزندحضرت محمد ابن حنفیہ سے ملتا ہے۔ جنہیں محمد اکبر بھی کہتے ہیں۔ حضرت محمد حنیفہ خولد جعفر بن قیس کی بیٹی سے پیدا ہوئے۔ حضرت محمد بن حنفیہ سےحدیث کی روایتیں آپ کے والد ماجد سے ہیں اورحضرت محمد بن حنفیہ کے بعد آپ کے صاحبزادے ابراہیم نے کی ہیں۔ 65 برس کی عمر میں 81ھ بمطابق 662ء میں مدینہ شریف میں وفات کی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی

۔ حضرت محمد حنفیہ کے دو بیٹے جعفر اور ابراہیم تھے۔ حضرت جعفر بن محمد حنفیہ نے مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے سامرہ (عراق) میں سکونت اختیار کی۔ سلطان ابن سومار سومروں کے پہلے تاجدار کا سلسۂ نسب اس طرح حضرت محمد ابن حنفیہ سے ملتا ہے۔ عصام الدین بھونگر بن سومار بن سحدان بن عبد الرحمٰن بن کعب بن اشرف بن عبد اللہ بن مقداد بن عمر بن مسلام بن مقیس بن نحاض بن حبیب بن ہارون بن جعفر بن حضرت محمد حنیفہ۔[13] عباسی خلیفہ مامون الرشید، علویوں کا بے حد احترام کرتا تھا، جس نے مقداد کو جو حضرت محمدحنفیہ کے بیٹے جعفر کی اولاد سے ساتویں پُشت سے تھا، اسے سندھ کا گورنر مقرر کیا، جو 215ھ میں اپنے اہل و عیال، بھائیوں اور رشتے داروں سمیت سامرہسے ہجرت کرکے سندھ میں آئے، جنہیں بعد میں سندھ کے باشندے سومرہ کہنے لگے۔[14]

معروف مؤرخ اعجاز الحق قدوسی تاریخِ سندھ حصہ اول میں سومروں کے بارے میں کہتے ہیں،[15]

سومرا نہ تو ہندو تھے اور نہ ہندو راجپوت، بلکہ وہ عرب تھے جو ہندوستان میں آباد ہوگئے تھے اور پشت ہا پشت یہاں رہ کر یہیں کے باشندے شمار ہونے لگے۔

روایت کے مطابق سومروں کی نسل کے بارے میں جو اشارے ملے ہیں اُس کے مطابق سومروں کا سلسلہ عربوں سے ملتا ہے۔ سومروں کے عرب ہونے کے بارے میں مندرجہ ذیل ثبوت ملتے ہیں:

  • پہلا یہ کہ سومرہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے ہیں۔
  • دوسرا یہ کہ کے سومروں کے عرب قبیلہ کربلا کی جنگ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑے، سب مارے گئے صرف ایک بزرگ مرد اور اُن کی بزرگ بیوی باقی رہ گئے جن کا ایک"سومرا" نامی کم سن بیٹا تھا، اُسے ماں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جنگ میں قربان ہونے کے لیے پیش کیا لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اُسے دعا دی کہ زندہ رہے اور صاحبِ اولاد ہو۔
  • تیسرا یہ کہ سومروں کا جدِ امجد جو کسی عرب گھرانے کا تھا بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے تھا، مکہ میں پیدا ہوا، بعد میں سندھ آیا یہیں پلا اوربڑھا۔ وہ بڑی طاقت اور کلاں والا تھا اور اس قدر کہ اُسے ہوا اُڑا کر سندھ لیکر آئی۔ دیو اُس کے قبضے میں تھے اور انہوں نے ہی اُس کے پایۂ تخت وگھ کوٹ کی تعمیر کی۔[16]

سومرہ تمیم انصاری حاکمِ سندھ کی اولاد کا نام تھا۔[17]

سومرہ: حاکمِ سندھ[ترمیم]

غزنوی سلطنت، باہمی خانی جنگی کی وجہ سے کمزور ہوچکی تھی اور سلطان عبد الرشید کی عیاشی اور آرام طلبی کی وجہ سے سرحدی علاقے خود مختاری حاصل کر رہے تھے، 444 ہجری میں سندھ میں سومرا خاندان کی مستقل حکومت کی بنیاد پڑی، سومرہ قبیلے کے لوگوں نے تھری (ماتلی، سندھ) میں جمع ہو کر، سومرہ نامی ایک شخص کو سندھ کا حاکم بنایا، سومرہ نے بڑے تُزک و احتشام سے سندھ پر حکومت کی اور مفسدین کا قلع قمع کیا۔ اس کے بعد اس نے اطراف کے ایک طاقتور زمیندار صاد نامی کی لڑکی سے شادی کی، اس کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بھونگر تھا، جو سومرہ کے بعد تخت نشیں ہوا، سومرہ نے 1051ء میں وفات پائی۔[18]

جب غزنوی خاندان کے سندھ اور ملتان کے گورنر کی گرفت حکومت پر کمزور ہو گئی، 423ھ بمطابق 1032ء میں ابن سومار والئ ملتان نے سندھ میں سومرہ حکومت کی بنیاد رکھی نہایت طاقت و خود مختاری کے ساتھ حکومت کی۔[19]

صاحبِ جنت السندھ رحیمداد خان مولائی شیدائی کا بیان ہے کہ سومرہ (ہی وہ) پہلا شخص تھا، جو اُچ کے مشائخ کے ہاتھ پر اسماعیلی عقائد سے توبہ کرکے سُنی ہوا۔[20]

سومروں نے سندھ پر 445ء - 843ء تک21 حکمرانوں نے حکومت کی۔[21] جبکہ ابوالفضل نے آئین اکبری میں سومروں کی حکمرانی 500 سال بتائی ہے۔[22] ابو ظفر ندوی کے مطابق سومروں کے 25 حکمرانوں نے 401ھ سے 752ھ تک سندھ پر حکمرانی کی۔[23]

سومرہ دور میں سندھ کی سرکاری زبان عربی تھی۔ سومروں کے حکمرانی ختم ہوتے ہی سندھ کی سرکاری زبان فارسی ہو گئی۔[24]

سومرہ حکمرانوں کا پایۂ تخت[ترمیم]

منصورہ سومرہ حکمرانوں کا پہلا دار الحکومت تھا۔[25] سومروں کا پایۂ تخت ابتداً تھری تھا، پھر سنگھار کی بیوی ہیموں نے اپنا پایۂ تخت قلعہ واہکہ کو بنایا جسے سندھی زبان میں وگھ کوٹ یا وجہ کوٹ کہتے ہیں اور یہ مقام نہرپران سے مشرق کی طرف پانچ میل دور واقع تھا، اُس وقت جبکہ رن کچھ کشتی رانی کے قابل تھا۔ قلعہ واہکہ ایک بندرگاہ تھا۔ (توضیحات تاریخِ معصومی، مرتبہ عمر بن محمد داؤد پوتہ ص 294)[26]

بیگلار نامہ کے صفحہ 8 میں ہے کہ سندھ میں اسلامی فتح کے بعد عرب قبیلے تمیم نے حکومت کی، تھوڑے دنوں کے بعد سومرہ لوگوں نے قبضہ کیا، یہ پانچ سو برس تک قابض رہے، ان کا پایۂ تخت مہاتم طور یا مھتم طور تھا۔[27]

زبان و ادب میں سومروں کا حصہ[ترمیم]

سومروں کے دور میں سندھ کی تاریخ، سندھی زبان اور ان کے زبانی ادبی روایت والا داستانی دور تھا۔ اس دور میں سندھ کے اکثر عشقیہ داستانوں، جنگ ناموں اور سندھ کے بہادر سرداروں کے کارناموں کو بیان کرنے کی ابتدا ہوئی۔ سومروں کا دور عام فہم سندھی زبان والا دور تھا۔[28]

لوک داستانیں[ترمیم]

عمر مارئی[ترمیم]

بہاولپور سے ایک روایت ملی ہے جس کے مطابق عمر سومرو مروٹ کے قلعہ کا حکمران تھا اور مارئی کو وہیں قید رکھا گیا تھا۔

سوہنی ماہیوال[ترمیم]

یہ قصہ بھی سومروں کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔[29]

سیف الملوک[ترمیم]

یہ قصہ بھی سومروں کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس قصے میں سومرہ دور میں اروڑ کے علاقائی حاکم دلوراء اور اروڑ کے پاس دریا کے رخ بدلنے کاذکر ہے[30]۔

سورٹھ اور رائے ڈیاج[ترمیم]

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی تحقیق کے بموجب یہ داستان سومروں کے دور کی ہے۔[30]

مورڑو مانگرمچھ[ترمیم]

اس قصے کا تعلق حکمرانی میں دلوراء کے دور سے ہے اور اس کا مرکز سون میانی اور کلاچی والا سمندری کنارا ہے، جو سندھ اور عراق کی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس قصے کا مرکزی کردار مورڑو نامی ملاح ہے،جو ساتوں بھائیوں میں سب سے چھوٹا، لنگڑا اور جسمانی لحاظ سے کم تر تھا، جب شکار کے لیے سمندر میں گئے ہوئے بھائیوں کو مگر مچھ نگل گیا تو اس نے تحمل سے کام لیتے ہوئے مگر مچھ کو اپنی عقل مندی اور ترکیب سے پھنساکے مارا اور اس کے پیٹ سے بھائیوں کی لاش نکال کر دفن کیں۔[30]

سومروں کے دور میں صوفیا ئے کرام[ترمیم]

ملتان کے بہاؤالدین زکریا ملتانی (1262ء-1182ءپاک پتن کے بابا فرید الدین گنج شکر (1275ء-1173ء)،اُچ شریف کے سید جلال الدین بخاری (غوث صاحب کے ہم عصر و مرید)، شیخ عثمان قلندر شہباز(وفات 1272ء) اور شیخ حسین المعروف پیر بٹھو (وفات 1248ء) سومرہ دور میں مشہور بزرگ گزرے ہیں۔[31]

موجودہ دور میں سومرو افراد کا سیاسی اثر و رسوخ[ترمیم]

سندھ کے جاگیردار گھرانے سومرہ کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اقتدار میں رہتے آئے ہیں۔ مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرنے کے باوجود وہ آپس میں اتفاق رائے سے رہتے ہیں اور خاندانی وفاداری نبھاتے ہیں۔[32]

نامور شخصیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء،کراچی، ص3
  2. تحفۃالکرام (اردو)، میر علی شیر قانع ٹھٹوی، سندھی ادبی بورڈ، جام شورو، 2006ء، حاشیہ ص15-16
  3. سومروں کا دور (سندھی)، ڈاکٹرنبی بخش خان بلوچ، سندھی ادبی بورڈ جامشورو سندھ، 2006، ص 241
  4. تاریخِ سومرہ سندھ (سندھی) جلد سوم، وزیر علی ولد محمد اسماعیل سمرہ (سومرہ)، دارالاشاعت ابن اسماعیل سمرہ (سومرہ) جڑیا پور چک، ص 65
  5. تاریخِ سومرہ سندھ (سندھی) جلد اول، وزیر علی ولد محمد اسماعیل سمرہ (سومرہ)، دارالاشاعت ابن اسماعیل سمرہ (سومرہ) جڑیا پور چک، ص240
  6. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء،کراچی، ص 44-45
  7. ص 43-44، تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، مطبع 1962ء، کراچی
  8. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء، کراچی، ص 45
  9. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962 ء،کراچی، ص 52
  10. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، مطبع 1962ءکراچی، ص 67
  11. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء،کراچی، ص 77
  12. دولت علویہ(سندھی)، علامہ مولوی عبد اللہ شائق، گلشن پبلیکیشن حیدرآباد، سندھ 2003ء ،ص 23
  13. دولت علویہ(سندھی)، علامہ مولوی عبد اللہ شائق، گلشن پبلیکیشن حیدرآباد، سندھ 2003 ،ص24
  14. دولت علویہ(سندھی)، علامہ مولوی عبد اللہ شائق، گلشن پبلیکیشن حیدرآباد، سندھ 2003 ،ص27
  15. تاریخِ سندھ (حصہ اول)، اعجاز الحق قدوسی، اردو سائنس بورڈ، لاہور، ص 417
  16. سومروں کا دور (سندھی)، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، سندھی ادبی بورڈ جامشورو سندھ، 2006، ص 173-174
  17. مسلمان قبیلوں کی مختصر تاریخ اور روایتی خاکہ (سندھی)، شیخ صدق علی شیر علی انصاری، گلشن پبلیکیشن، حیدرآباد، ص105
  18. تاریخِ سندھ (حصہ اول)، اعجاز الحق قدوسی، مطبع اردو سائنس بورڈ، لاہور،ص 420
  19. A Gazetteer of the Province of Sindh by A. W. Hughes, Second Edition، George Bell and Sons, London, 1876, P 27
  20. تاریخِ سندھ (حصہ اول)، اعجاز الحق قدوسی، اردو سائنس بورڈ، لاہور، ص 421
  21. تحفۃالکرام (اردو) از میر علی شیر قانع ٹھٹوی، مترجم اختر رضوی، مطبع سندھی ادبی بورڈ، جام شورو، 2006ء، ص 115
  22. آئین اکبری حصہ دوم از ابوالفضل، ص 120
  23. تاریخ سندھ، سید ابو ظفر دسنوی ندوی، دارا المصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ (یو پی) ہند، 2012ء، ص 313
  24. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر، مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء،کراچی، ص 4
  25. تاریخِ سومرہ سندھ پر ایک نظر از مہاشے عبد الکریم نظامی، 1962ء،کراچی، ص 142
  26. تاریخِ سندھ (حصہ اول) از اعجاز الحق قدوسی، اردو سائنس بورڈ، لاہور، ص 429
  27. تاریخِ سندھ (حصہ اول)، اعجاز الحق قدوسی، اردو سائنس بورڈ ،لاہور،ص 430
  28. سندھی زبان اور ادب کی تاریخ (سندھی)، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، پاکستان اسٹڈی سینٹر، سندھ یونیورسٹی، جامشورو،1999، ص 153
  29. سندھی ادب کا تاریخی جائزہ (سندھی)، میمن عبد المجید سندھی، روشنی پبلیکیشن کنڈیارو سندھ 2013، ص 28
  30. ^ ا ب پ سندھی ادب کا تاریخی جائزہ (سندھی)، میمن عبدالمجید سندھی، روشنی پبلیکیشن کنڈیارو سندھ 2013، ص 30
  31. سندھی زبان اور ادب کی تاریخ (سندھی)، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، پاکستان اسٹڈی سینٹر، سندھ یونیورسٹی، جامشورو،1999، ص 147
  32. http://tajziat.com/quaterly/issue/2015/04/article.php?id=10