سومیانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سومیانی: بندرگاہ ضلع لسبیلہ کے ساحل پر واقع ہے، جو کراچی سے بذریعہ سڑک 45 میل کے فاصلے پر ہے۔

انگریزوں سے پہلے پورے وسط ایشیا میں اس کا شہرہ تھا۔ یہاں سے بڑی بڑی بادبانی کشتیاں جن کو بلوچی میں ’’بوجھی‘‘ کہتے ہیں، ہندوستان، عرب، افریقا اور خلیج فارس کی بندرگاہوں تک جاتی آتی تھیں۔

راجہ داہر کے خلاف کارروائی کے لیے عربوں نے اسی بندرگاہ پر اپنا لشکر اتارا تھا۔ 19 ویں صدی کے آغاز تک بلخ و بخارا افغانستان و ایران کا تجارتی مال کارواں کے ذریعے اس بندرگاہ میں آتا اور یہاں سے ترکمان اور بلوچی گھوڑے بردباری اور اونٹ سبھی سون میانی سے باہر بھیجے جاتے۔ اُن دنوں، بولان اور مولہ کے راستے غیر محفوظ خیال کیے جاتے تھے۔

1805ء میں پرتگال کے بحری قزاقوں نے یہ بندرگاہ لوٹ کر اسے آگ لگا دی۔ گل جنید نے جو کلمتی ہوت بلوچوں کا سردار اور ماہر جہاز ران تھا، ان بحری قزاقوں سے یہاں کئی لڑائیاں لڑی۔

برطانوی تسلط کے بعد اس بندرگاہ کی اہمیت ختم ہو گئی۔ انگریزوں نے کراچی کی بندرگاہ کو جدید بنیادوں پر ترقی دی اور ریل کے ذریعے اسے اندرون ملک بڑے بڑے شہروں سے ملا دیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی سرحدوں کا تعین ہوا، جس سے کارواں کی آمدروفت رک گئی، جس کے نتیجے میں بندرگاہ آہستہ آہستہ اُجڑ گئی۔ آج کل سون میانی ماہی گیری کے لیے مشہور ہے۔ یہاں بڑے بحری جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکتے کیونکہ ساحل کے نزدیک پانی کی گہرائی کم ہے۔[1] قدیم باسیوں کے مطابق ماضی میں اس جزیرے پرمچھلی کے شکار سے واپس آنے والے ماہی گیر آرام کی غرض سے قیام کرتے تھے، سمندر کے درمیان گہرے جزیرے پر سفید کیکڑے، فضاؤں میں محو پرواز سمندری پرندے اور پانی میں اٹکھیلیاں کرتی وہیل شارک سحرزدہ کردیتی ہیں حکومت بلوچستان نے جزیرے پر ٹینٹ سٹی جبکہ جیٹ سکی، (پانی کی موٹر سائیکلیں)، واٹر اسپورٹس، ڈیزرٹ سفاری اور پیرا گلائڈ منصوبے پرکام شروع کر دیا ہے جو مستقبل میں بلوچستان کے ساتھ کراچی کے شہریوں کے لیے بہترین تفریحی مقام ثابت ہوگا۔

کراچی سے لگ بھگ 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع بلوچستان کے ضلع لسبیلہ اور تحصیل سونمیانی کے قرب میں قدرتی جزیرہ چاروں اطراف سے نیلگوں سمندر اور ایک جانب سے لق ودق صحرا سے منسلک ہے جو بہت ہی خوبصورت امتزاج کا حامل دکھائی دیتا ہے۔

جزیرے کے عین اوپرگہرے پانی سے اپنے شکار کو اچک لینے کے لیے فضاؤں میں محو پرواز شور مچاتے سفید براق پرندے جبکہ نیچے ساحل پر دوڑتے بھاگتے سفید اورزردی مائل کیکڑے، وقفے وقفے سے سطح سمندر پر ابھرتی شرارتی وہیل شارک مچھلی کے غوطے ماحول کو سحرزدہ کردیتے ہیں مکینوں کے مطابق یہ قدرتی جزیرہ اس حوالے سے مشہور ہے کہ پورے ضلع لسبیلہ میں چاہے گرمی کا پارہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو اس جزیرے پر درجہ حرارت متوازن رہتا ہے اور ہواؤں میں خنکی محسوس ہوتی ہے خصوصاً شام کے وقت ڈوبتے سورج کا منظر سمندر کی لہروں پر زرد کرنیں بکھیر دیتا ہے۔

اس دلفریب نظارے کولفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ساحلی مقام کے قدیم ماہی گیروں کے مطابق کھاڈی جزیرہ برسوں سے ایسی ہی حالت میں موجود ہے اور ماضی میں گہرے سمندر میں شکار کی غرض سے ایک ماہ اور اس سے کم عرصے کے لیے جانے والے ماہی گیر واپسی پر اپنی تھکن اسی جزیرے پر اتارتے تھے یہاں عارضی قیام کے دوران ماہی گیرکھانے پینے کے علاوہ گپ شپ کرلیتے تھے تازہ دم ہونے کے بعد علاقے کی جیٹی کی جانب رخت سفر باندھا کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پاکستان کی سیر گاہیں شیخ نوید اسلم