سونا کے اعداد و شمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سونے کے اعداد و شمار سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ایک ٹرائے اونس وزنی (یعنی 31.1 گرام کا) سونے کا بسکٹ۔ سیریل نمبر کی عدم موجودگی اس کی اصلیت کو مشکوک بنا دیتی ہے۔

اعداد و شمار[ترمیم]

  • دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر پاکستان میں بلوچستان میں ہیں مگر پیداوار صفر ظاہر کی جاتی ہے۔worlds-largest-gold-mines-in-pakistan
  • 2007 ء میں دنیا بھر کی کانوں سے نکلنے والے سونے کی مقدار 2415 ٹن تھی۔ 2009 میں یہ مقدار 2448 ٹن تھی۔ [1]۔ 2012 میں یہ 2847.7 ٹن تھی۔
  • ایک ٹن سونا 32150 ٹرائے اونس یا 85735 تولے کے برابر ہوتا ہے۔
  • دنیا بھر میں سالانہ سونے کی کھپت 3722 ٹن ہے۔
  • ہندوستان سونے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور دنیا بھر کی سالانہ پیداوار کا 35٪ خرید لیتا تھا۔ اب چین سب سے بڑا خریدار ہے کیونکہ چینی عوام پر سونا رکھنے کی پابندی جو 1950 میں لگائ گئی تھی 2003 میں ختم کر دی گئی ہے۔[2]
  • سن 2011 میں چین نے گزشتہ سال سے 20 فیصد زیادہ یعنی 769.8 ٹن سونا خریدا جبکہ ہندوستان نے 7 فیصد کم یعنی 933.4 ٹن سونا خریدا۔ سال کے آخری تین مہینوں میں چین نے 190.9 ٹن جبکہ ہندوستان نے 173 ٹن سونا خریدا۔ [3]۔ سن 2013 میں پہلے دس مہینوں میں چینی عوام نے 1750 ٹن سونا خریدا جبکہ اس عرصہ میں دنیا بھر کی کانوں سے سونے کی پیداوار 2176 ٹن رہی۔[1]
  • دنیا میں سب سے زیادہ سونا چین کی کانوں سے نکلتا ہے لیکن چین اپنا ایک تولہ سونا بھی کسی دوسرے ملک کو نہیں بیچتا۔
  • دنیا بھر کی سالانہ پیداوار کا 63٪ حصہ زیورات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
  • آج تک کل ملا کر 165,000 ٹن سونا انسان بازیاب کر چکا ہے جس کی کل قیمت 9150 ارب ڈالر ہے (بحساب 1725 ڈالر فی اونس)۔* جتنا سونا انسان کے پاس ہے اس کا 80 گنا دنیا بھر کے سمندر کے پانی میں حل شدہ حالت میں موجود ہے۔
  • سالانہ پیداوار کی وجہ سے ہر سال انسان کے پاس موجود سونے کے عالمی ذخیرے میں 1.5 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔
  • دنیا میں ہر گھنٹے میں بننے والے اسٹیل کی مقدار دنیا بھر میں بازیاب شدہ سونے کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔[4]
  • بازیاب شدہ سارے سونے کا 85 فیصد سن 1900 کے بعد اور 50 فیصد سن 1950 کے بعد بازیاب کیا گیا۔worlds-gold
  • دنیا کا سارا سونا اگر دنیا کی کل آبادی یعنی سات ارب لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر آدمی کو 24 گرام (یعنی دو تولے سے زیادہ) سونا ملے۔
  • دنیا کا سارا سونا صرف 20 مکعب میٹر کی جگہ میں سما سکتا ہے۔ اگر یہ سارا سونا ایک ہزار گز کے پلاٹ پر رکھا جائے تو بننے والے مکعب نما کی اونچائ 33.5 فٹ ہو گی۔
  • دنیا بھر کی حکومتوں کی تحویل میں کل ملا کر 30 ہزار ٹن سونا ہے۔
  • امریکی حکومت کے پاس 8133 ٹن سونا ہے۔[5]
  • IMF کے پاس 3005 ٹن سونا ہے۔
  • ہندوستان کی حکومت کے پاس 557.7 ٹن سونا ہے۔
  • سن 2009 میں ہندوستان کی حکومت نے IMF سے 200 ٹن سونا 6.7 ارب ڈالر میں خریدا۔
  • سن 2011 میں میکسیکو کی حکومت نے 100 ٹن سونا چار ارب ڈالر میں خریدا۔[6]
  • نومبر 2012 میں جنوبی کوریا کے مرکزی بینک نے 14 ٹن سونا 78 کروڑ ڈالر میں خریدا۔ اب اس کے پاس 84.4 ٹن سونا ہے جس کی مالیت پونے چار ارب ڈالر ہے۔ صرف دیڑھ سال میں جنوبی کوریا نے اپنے سونے کے ذخیرے کو 6 گنا کر لیا۔[7]
  • دنیا میں سب سے زیادہ سونا ہندوستانی عوام کے پاس ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستانی عوام کے پاس 16000 ٹن سونا ہے۔
  • پاکستان کی حکومت کے پاس 65.4 ٹن سونا ہے۔
  • سن 2001 میں پاکستان کے عوام نے 119 ٹن سونا خریدا۔[8]
  • ہندوستان اوسطاً 22 بیلین ڈالر کا سونا سالانہ خریدتا ہے۔ عوام میں طلب بڑھنے کی وجہ سے صرف مئی 2011 میں ہندوستان نے 9 بیلین ڈالر کا سونا خریدا۔[9]
  • چین نے اکتوبر 2011 میں ہانگ کانگ کے ذریعہ 85.7 ٹن سونا خریدا۔ یہ مقدار پچھلے سال کے اکتوبر مہینے سے 40 گنا زیادہ ہے۔Financial Times۔ نومبر میں چین نے مزید 102.8 ٹن سونا خریدا۔Bloomberg
  • امریکی ریاست یوٹاہ نے2011 میں ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق سونا اور چاندی موجودہ قیمت پر لین دین کے لیے رقم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈالر پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ نیو یارک ٹائمز
  • جولائی اگست اور ستمبر 2013 میں پاکستان نے 3286 کلو سونا امپورٹ کیا جبکہ پچھلے سال اسی عرصہ میں صرف 542 کلو امپورٹ کیا تھا۔ (روزنامہ جنگ کراچی 25 اکتوبر 2013)* سن 2012 میں دنیا بھر کے سنٹرل بینکوں نے 534.6 ٹن سونا خریدا۔ سنٹرل بینکوں کی طرف سے اتنا سونا پچھلے 58 سال میں نہیں خریدا گیا تھا۔ اس میں چین کے سنٹرل بینک کی خریداری شامل نہیں ہے۔۔[2] یہ واضح اشارہ ہے کہ سونے کی قیمتیں بہت بڑھنے والی ہیں۔* روس کے سنٹرل بینک نے پچھلے دس سالوں میں 570 ٹن سونا خریدا۔[3]* سن 2012 تک پچھلے پونے تین سالوں میں سنٹرل بینکوں نے 1100 ٹن سونا خریدا جبکہ اس سے پہلے کے تین سالوں میں انہوں نے 1143 ٹن سونا بیچا تھا۔* 2012 تک چین کے عوام نے پچھلے پانچ سالوں میں 4800 ٹن سونا سکوں اور بسکٹ کی شکل میں خریدا۔* دنیا بھر میں سونے میں سرمایہ کاری کا لگ بھگ 80 فیصد حقیقی سونے (physical gold) کی شکل میں ہے جبکہ 20 فیصد کاغذی سونے یعنی ETF کی شکل میں ہے۔* 2012 میں الیکٹرونک انڈسٹری نے 428.2 ٹن سونا ستعمال کیا۔* 2011 میں ہندوستان نے 969 ٹن سونا امپورٹ کیا جبکہ 2012 میں 860 ٹن امپورٹ کیا۔
سن سنٹرل بینکوں کے پاس سونے میں تبدیلی
2003 بیچا 620 ٹن
2004 بیچا 479 ٹن
2005 بیچا 663 ٹن
2006 بیچا 365 ٹن
2007 بیچا 484 ٹن
2008 بیچا 235 ٹن
2009 بیچا 34 ٹن
2010 خریدا 77 ٹن
2011 خریدا 457 ٹن
2012 خریدا 535 ٹن

کاغذی سونا بمقابلہ اصلی سونا[ترمیم]

دنیا کے بہت سارے مالیاتی ادارے (ETF Funds) لوگوں کو سونے کی خریداری پر رقم کے عوض کاغذ کی رسید دیتے ہیں کہ آپ کا اتنا سونا ہمارے پاس محفوظ ہے جسے آپ جب چاہیں ہم سے لے سکتے ہیں۔ چونکہ اصلی سونے کے مقابلے میں ان رسیدوں کی حفاظت کرنا آسان ہوتا ہے اس لیے مغربی ممالک میں یہ رسیدیں کافی تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن مشرقی ممالک میں زیادہ تر لوگ ان رسیدوں پر اعتبار نہیں کرتے اور خریداری پر حقیقی (physical) سونے کی ملکیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مغربی ممالک میں سونے کی قیمتوں پر کومکس (Comex) اور لندن بلین مارکیٹ کی اجارہ داری ہے۔ جبکہ چین میں شنگھائی گولڈ ایکسچینج (SGE) سونے کی قیمت کنٹرول کرتا ہے۔ اپریل 2013 کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں۔

اپریل 2013 Comex شنگھائی گولڈ ایکسچینج
حجم 900 ارب ڈالر 25 ارب ڈالر
حقیقی سونے کی ادائیگی 2.7% 38%
حقیقی سونے کی ادائیگی 3 ٹن 236 ٹن
اوسط قیمت 1487.3 ڈالر فی اونس 1508.6 ڈالر فی اونس

[4]

حکومتی ذخائر[ترمیم]



ملک کا نام سونا۔ ٹنوں میں فارن ریزرو کا فیصد
1 امریکہ 8,133.50 70.4
2 جرمنی 3,406.80 66.1
3 IMF 3,005.30  
4 اٹلی 2,451.80 64.9
5 فرانس 2,435.40 65.7
6 چین 1,054.10 1.6
7 سویٹزرلینڈ 1,040.10 27.1
8 جاپان 765.2 2.5
9 روس 641 5.1
10 نیدرلینڈ 612.5 53.4
11 ہندوستان 557.7 6.9
12 ECB 501.4 25.2
13 تائیوان 423.6 4.1
14 پرتگال 382.5 84.9
15 وینزویلا 360.8 36.8
16 برطانیہ 310.3 16.5
17 لبنان 286.8 25.6
18 ہسپانیہ 281.6 35.7
19 آسٹریا 280 54.6
20 بیلجیم 227.5 33.7
21 الجزائر 173.6 3.9
22 فلپائن 154.4 12.5
23 لیبیا 143.8 4.8
24 سعودی عرب 143 1.2
25 سنگاپور 127.4 2.3
26 سویڈن 125.7 9.3
27 جنوبی افریقہ 124.8 11
28 BIS 120  
29 ترکی 116.1 5.4
30 یونان 112.4 73.2
31 رومانیہ 103.7 8.1
32 پولینڈ 102.9 4.2
33 تھائی لینڈ 84 2
34 آسٹریلیا 79.9 6.7
35 کویت 79 11.9
36 مصر 75.6 7.8
37 انڈونیشیاء 73.1 3.9
38 قازقستان 70.5 9.3
39 ڈنمارک 66.5 3
40 پاکستان 65.4 16.2
41 ارجنٹائن 54.7 3.9
42 فن لینڈ 49.1 16.4
43 بلغاریہ 39.9 7.9
44 WAEMU 36.5 10.3
45 ملائیشیا 36.4 1.3
46 پیرو 34.7 3.7
47 برازیل 33.6 0.5
48 سلواکیہ 31.8 61.5
49 بیلا روس 28.4 18.1
50 بولیویا 28.3 11.6
51 یوکرائن 27 3.4
52 ایکواڈور 26.3 23.3
53 شام 25.8  
54 مراکش 22.1 3.3
55 نائجیریا 21.4 1.6
56 سری لنکا 15.3 10.7
57 کوریا 14.4 0.2
58 قبرص 13.9 36.9
59 سربیا 13.1 3
60 نیدر لیند انٹلیٹیز 13.1 33.5
61 جمہوریہ چیک 12.9 1.1
62 Jordan 12.8 3.9
63 قطر 12.4 2.3
64 کمبوڈیا 12.4 13.2
65 لاؤس 8.8 30.5
66 میکسیکو 8.4 0.3
67 لٹویا 7.7 3.9
68 ایل سیلواڈور 7.3 8
69 CEMAC 7.1 1.7
70 گواتمالا 6.9 4.3
71 کولمبیا 6.9 1
72 مقدونیہ 6.8 10.4
73 تونس 6.8 2.1
74 عراق 5.9 0.4
75 لتھونیا 5.8 3
76 آئر لینڈ 5.5 9.5
77 موریشس 4 6.2
78 بنگلہ دیش 3.5 1.2
79 کینیڈا 3.4 0.2
80 سلوانیہ 3.2 11.1
81 اروبا 3.1 15.8
82 ہنگری 3.1 0.2
83 موزمبیق 2.7 4.7
84 کرغزستان 2.6 5.7
85 تاجکستان 2.3  
86 لکسمبرگ 2.2 9.6
87 ہانگ کانگ 2.1 0
88 آئس لینڈ 2 1.8
89 پاپوا نیو گنی 2 2.7
90 ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو 1.9 0.7
91 سرینام 1.8 8.6
92 البانیہ 1.6 2.4
93 یمن 1.6 0.7
94 کیمرون 0.9 0.9
95 ہونڈوراس 0.7  
96 پیراگوئے 0.7 0.6
97 جمہوریہ ڈومینیکن 0.6 0.7
98 گیبون 0.4 0.7
99 ملاوی 0.4 8.1
100 وسطی افریقی جمہوریہ 0.3 5.5

[10]

مختلف ممالک میں سونے کی خریداری[ترمیم]

اگر 2011ء کی خام ملکی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکیوں کے مقابلے میں بھارتی 35 گنا زیادہ سونا اور زیور خریدتے ہیں، تھائی لینڈ والے 11 گنا، ہانگ کانگ اور چین کے لوگ 4 گنا، ملائیشیا اور انڈونیشیا 3 گنا، سنگا پور اور جرمنی پونے دو گنا جبکہ جنوبی کوریا اور فرانس ڈیڑھ گنا زیادہ سونا خریدتے ہیں۔ یہ اعداد بچت کے رجحان کی بھی عکاسی کرتے ہیں اور کاغذی کرنسی کے مقابلے میں سونے پر زیادہ اعتماد کی بھی۔[5][6]

ہندوستانی حکومت نے بیرونی دباو کے تحت مارچ 2012 میں سونے کی درآمد پر امپورٹ ڈیوٹی (ٹیکس) بڑھا کر 2 فیصد سے 4 فیصد کر دیا تھا۔ جون 2013 میں اسے 4 سے بڑھا کر 8 فیصد کر دیا گیا مگر سونے کی طلب میں خاطر خواہ کمی نہ ہو سکی۔ اس لیے اگست 2013 میں اسے 8 سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا اور سونے کی درآمد کو 80/20 کے قانون سے مشروط کر دیا یعنی درآمد شدہ سونے کی 20 فیصد مقدار زیورات کی صورت میں برآمد کرنا ضروری ہے۔ سونے کے زیورات برآمد کرنے والے جیولرز کے سخت احتجاج کے باعث 80/20 کی شرط دسمبر 2014 میں ختم کر دی گئی۔ اس دوران سونے کی اسمگلنگ میں بڑا اضافہ ہوا اور ہندوستان میں سونے کی قیمت لندن کی قیمت سے 25 فیصد تک زیادہ ہو گئی۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

انگریزی ویکی پیڈیا پر[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالے[ترمیم]