سویتلانا ایلیکسیاوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سویتلانا ایلیکسیاوچ

Svetlana Alexievich

(بیلا روسی میں: Святлана Аляксандраўна Алексіевіч خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
سویتلانا ایلیکسیاوچ

معلومات شخصیت
پیدائش 31 مئی 1948 (71 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ایوانو-فرانکیوسک[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بیلاروسی
نسل یوکرینی[5]،  روسی[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نسل (P172) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صحافی
مصنف
مادری زبان روسی زبان[7][8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان روسی زبان[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
تحریک غیر افسانوی ادب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نوبل انعام برائے ادب (2015)
Peace Prize of the German Book Trade (2013)
Prix Médicis (2013)
دستخط
Svetlana Alexijevich Autograph.jpg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

سویتلانا ایلیکسیاوچ (بیلاروسی: Святлана Аляксандраўна Алексіевіч ،روسی: Светлана Александровна Алексиевич؛ یوکرینی: Світлана Олександрівна Алексієвич) ایک روسی خاتون صحافی اورمصنفہ ہیں، جو 31 مئی 1948ء کو یوکرین میں پیدا ہوئيں، البتہ ان کے والد کا تعلق بیلاروس سے تھا۔[11] سویتلانا کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2015ء کا نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ادب کا نوبل انعام اب تک 13 خواتین کو مل چکا ہے۔ آخری بار امریکی خاتون ایلس منرو کو ادب کا نوبل انعام دیا گيا تھا۔ سویتلانا الیکسیاوچ کو یہ انعام ان کی جنگ کے اثرات سے متعلق کئی کتب اور ناول پر دیا گیا ہے۔ سویتلانا الیکسیاوچ کئی معروف اخبارات سے منسلک رہی ہیں۔[12]

حالات زندگی[ترمیم]

سویتلانا ایلیکسیاوچ مئی 1948ء میں یوکرین (اس وقت سویت یونین کا حصہ تھا) کے گاؤں ایوانو-فرانکیوسک میں پیدا ہوئیں۔ اس کا باپ بیلاروسی اور یوکرینی ماں کی تھی۔ سویتلانا بیلاروس میں پلی بڑھی اور یہیں پر اسکول کی تعلیم مکمل کی۔[13]

تحریری کام[ترمیم]

ان کی کتابوں میں سویت یونین اور اس کے بعد کی تاریخ میں فرد کی نفسیات اور جذبات کو ادبی وقائع نگاری کے انداز سے بیان کیا گيا ہے۔[14] ان کا پہلا ناول جنگ کا غیر نسوانی چہرہ 1985ء میں شائع ہوا، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے خواتین پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ پیش کیا گیا تھا۔ الیکسیاوچ نے اپنی زندگی کا آغاز بطور صحافی کیا اور اس سلسلے میں کئی اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں زنکی بوائز (Zinky Boys: Soviet Voices from the Afghanistan War) شامل ہے جس میں افغانستان میں روسی فوجیوں کی زندگیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے چرنوبل کے ایٹمی حادثے کے بارے میں بھی ایک کتاب (Voices from Chernobyl) لکھی ہے۔ ایک اور کتاب میں انھوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

سویتلانا ایلیکسیاوچ اب تک کئی قوی اور بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عنوان : Кто есть кто в Республике Беларусь — صفحہ: 14 — ISBN 978-83-913780-0-7
  2. ^ ا ب فصل: Алексіевіч Святлана Аляксандраўна — عنوان : Беларуская энцыклапедыя: У 18 т. Т. 1: А — Аршын — صفحہ: 243 — ISBN 978-985-11-0036-7
  3. ^ ا ب فصل: Алексіевіч Святлана Аляксандраўна — عنوان : Энцыклапедыя гісторыі Беларусі ў 6 тамах. Том 1 — صفحہ: 100 — ISBN 978-5-85700-074-8
  4. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Svetlana-Alexievich — بنام: Svetlana Alexievich — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  5. عنوان : Беларусь: ні Эўропа, ні Расея. Меркаваньні беларускіх эліт — صفحہ: 42 — ISBN 978-83-89406-77-4
  6. فصل: Цені рэжыму — عنوان : Цяжкі час — Працяг. Канцэпцыя новага Беларускага Адраджэньня, кн. 3, артыкулы і матэр’ялы (2003−2010) — صفحہ: 767 — شمارہ: 1 — ISBN 978-9955-578-12-3
  7. فصل: Рускамоўная літаратура Беларусі — عنوان : Энцыклапедыя гісторыі Беларусі ў 6 тамах. Том 6 Кніга І — صفحہ: 139
  8. فصل: Чаму нельга спадзявацца на так званую „дэмапазыцыю” і яе кандыдатаў у прэзыдэнты — عنوان : Цяжкі час — Працяг. Канцэпцыя новага Беларускага Адраджэньня, кн. 3, артыкулы і матэр’ялы (2003−2010) — صفحہ: 611 — شمارہ: 1 — ISBN 978-9955-578-12-3
  9. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121882342 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  10. فصل: Аб аўтарах — عنوان : Беларусь: ні Эўропа, ні Расея. Меркаваньні беларускіх эліт — صفحہ: 249 — ISBN 978-83-89406-77-4
  11. Lenseye News Portal
  12. ادب کا نوبیل انعام بیلاروس کی ادیبہ کو مل گیا
  13. "Svetlana Alexievich: The Empire Will Not Pass Away Without Bloodshed"۔ www.belarusians.co.uk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2015۔
  14. Alexandra Alter۔ "Svetlana Alexievich Wins Nobel Prize in Literature"۔ نیو یارک ٹائمز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اکتوبر 8, 2015۔
  15. Claire Armitstead؛ Alison Flood؛ Marta Bausells۔ "Nobel prize in literature: Svetlana Alexievich wins 'for her polyphonic writings' – live"۔ www.theguardian.com۔ The Guardian۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2015۔