مندرجات کا رخ کریں

سویڈن میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
زید بن سلطان النہیان مسجد، سٹاک ہوم مسجد

2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق سویڈن میں تقریباً 150,000 سے 200,000 مسلمان ایسے ہیں جو باقاعدگی سے اپنے دین پر عمل کرتے ہیں۔ سویڈن میں اسلام کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ 1960 کی دہائی کے آخر سے شروع ہونے والی ہجرت ہے۔ [1] .[2] دیگر ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی کل تعداد تقریباً 6٪ ہے، یعنی لگ بھگ 600,000 افراد۔ جبکہ 2017 کی پیو ریسرچ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شرح 8.1٪ ہے، جو سویڈن کی تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) آبادی میں قریب 810,000 افراد بنتی ہے۔ [3] [4]

سویڈن میں اسلام کی آمد

[ترمیم]

سویڈن پہنچنے والے پہلے مسلمان روسی تاتار تھے۔ بعد میں کچھ سویڈش باشندوں نے بھی اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ اُس وقت ہوا جب مسلمان مزدور صنعت اور ہنر کے شعبوں میں کام کے لیے سویڈن آئے۔

سویڈن میں مسلمان مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں شامل ہیں: سویڈش، ترک، تاتار ، یوگوسلاوی، ایرانی اور عرب خاص طور پر عراقی (1991 کی جنگ کے بعد)، جبکہ لبنانی، شامی اور مغربی (مراکش وغیرہ) مسلمانوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

سویڈن میں اسلامی تنظیمیں

[ترمیم]

دار الحکومت اسٹاک ہوم میں اسلامی مرکز، انجمن اور اسکول موجود ہیں، اسی طرح "اسلامک ایسوسی ایشن آف سویڈن" بھی وہیں قائم ہے۔ اس کے علاوہ فالنجے اور مالمو میں بھی اسلامی مراکز اور تنظیمیں موجود ہیں۔

سویڈن کے بڑے شہروں میں تقریباً 17 اسلامی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ قرآن مجید کے معانی کا ایک ترجمہ 1874ء (1291ھ) میں شائع ہوا، جبکہ جدید ترجمہ 1998ء میں مترجم محمد کنوت برنسٹروم نے پیش کیا۔ .[5]

مذہبی تبدیلی

[ترمیم]

سویڈن میں اسلام قبول کرنے والوں کی درست سرکاری تعداد موجود نہیں ہے۔ تاہم مالمو یونیورسٹی کی مؤرخہ آن صوفی روالد کے مطابق 1960 سے اب تک تقریباً 3,500 افراد نے سویڈن کے لوتھرن چرچ سے اسلام قبول کیا ہے۔

ان کے مطابق مذہبی تبدیلی صرف اسلام کی طرف نہیں بلکہ اسلام سے عیسائیت (لوتھرن چرچ) کی طرف بھی ہوتی ہے اور یہ تبدیلیاں خاص طور پر ایرانیوں میں زیادہ دیکھی گئی ہیں، جبکہ عرب اور پاکستانی افراد میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ [6].[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Religion, Religious Freedom And Religious Communities In Sweden" (PDF)۔ Myndigheten för stöd till trossamfund۔ Sveriges interreligiösa råd (The National Interfaith Council of Sweden)۔ 06 أبريل 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 April 2018 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  2. Göran Larsson (2014)۔ Islam och muslimer i Sverige – en kunskapsöversikt (PDF)۔ Stockholm: Swedish Agency for Support to Faith Communities (SST)۔ ص 41۔ 3 يوليو 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  3. International Religious Freedom Report 2014 : Sweden, U.S. Department Of State. آرکائیو شدہ 2017-10-17 بذریعہ وے بیک مشین
  4. Conrad Hackett۔ "5 facts about the Muslim population in Europe"۔ Pew Research/Fact Tank۔ Pew Research Center۔ 17 أغسطس 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 December 2017 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  5. Svenska Dagbladet (SvD), Fler kristna väljer att bli muslimer, November 19, 2007 (Accessed November 19, 2007) آرکائیو شدہ 2009-03-21 بذریعہ وے بیک مشین
  6. "التلفزيون السويدي: الاعتداءات على المحجبات في السويد تتزايد وتصبح أكثر عدوانية - صوت السويد"۔ 21 نوفمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  7. تزايد نسبة الاعتداءات على النساء المحجبات - رادیو السوید Radio Sweden Arabic | Sveriges Radio آرکائیو شدہ 2018-04-30 بذریعہ وے بیک مشین
  • الأقليات المسلمة في أوروبا – سيد عبد المجيد بكر.
  • المسلمون في أوروبا وأمريكا – على المنتصر الكناني.
  • الإسلام والمسلمون في ألمانيا (ص53) طه الولى.
  • أخبار العالم الإسلامي (1410 هـ).

بیرونی روابط

[ترمیم]