سویڈن کے عام انتخابات، 2018ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سویڈن کے عام انتخابات، 2018ء

→ 2014ء 9 ستمبر 2018

رکسداگ کی کُل 349 نشستیں
جیت کے لیے 175 نشستیں درکار ہیں
استصواب رائے

  پہلی بڑی جماعت دوسری بڑی جماعت تیسری بڑی جماعت
  (Stefan Löfven) Viaje del presidente del Gobierno a Suecia.jpg Ulf Kristersson in 2018 Swedish general election, 2018 (cropped).jpg Almedalen 7 July 2016 68 (27907007150) (cropped).jpg
قائد اسٹیفن لووین اولف کرسترسون یمی اوکیسون
جماعت سوشل ڈیموکریٹک ماڈریٹ سویڈن ڈیموکریٹس
اتحاد اسٹیفن لووین کابینہ الائنس
قائد از 2012ء 2017ء 2005ء
آخری انتخابات 113 نشستیں، 31.0% 84 نشستیں، 23.3% 49 نشستیں، 12.9%
پچھلی نشستیں 113 83 49
نشستیں جیتیں 100 70 62
نشستوں میں اضافہ/کمی کم 13 کم 14 Increase2.svg 13
عوامی ووٹ 1,830,386 1,284,698 1,135,627
فیصد 28.26 19.84% 17.53%

  چوتھی بڑی جماعت پانچویں بڑی جماعت چھٹی بڑی جماعت
  2018-07-03 Presskonferens Blå miljard (42831783655) (cropped).jpg Jonas Sjöstedt (34964205473) (cropped).jpg Ebba Busch Thor Almedalen 2018 (43242646171) (cropped).jpg
قائد آنی لووف یوناس سیوستدت ایبا بوش تھور
جماعت سینٹر لیفٹ کرسچین ڈیموکریٹس
اتحاد الائنس اسٹیفن لووین کی کابینہ کے ساتھ ہم کاری الائنس
قائد از 2011ء 2012ء 2015ء
آخری انتخابات 22 نشستیں، 6.1% 21 نشستیں، 5.7% 16 نشستیں، 4.6%
پچھلی نشستیں 22 21 16
نشستیں جیتیں 31 28 22
نشستوں میں اضافہ/کمی Increase2.svg 9 Increase2.svg 7 Increase2.svg 6
عوامی ووٹ 557,500 518,454 409,478
فیصد 8.61% 8.0% 6.32%

  ساتویں بڑی جماعت آٹھویں بڑی جماعت
  Jan Björklund Almedalen 2018 (42277380475) (cropped).jpg Isabella Lövin signing climate law referral (cropped).jpg
Almedalen 2017 (36197325382) (cropped).jpg
قائد یان بیورکلند ایسابیلا لوون
گستاف فریدولن
جماعت لبرلز گرین
اتحاد الائنس اسٹیفن لووین کابینہ
قائد از 2007ء 2016ء
2011ء
آخری انتخابات 19 نشستیں، 5.4% 25 نشستیں، 6.9%
پچھلی نشستیں 19 25
نشستیں جیتیں 20 16
نشستوں میں اضافہ/کمی Increase2.svg 1 کم 9
عوامی ووٹ 355,546 285,899
فیصد 5.49% 4.41%

Swedish General Election 2018.svg
ضلع (بائیں) اور بلدیہ (دائیں) کے حساب سے سب سے بڑی جماعت۔ سرخ – سوشل ڈیموکریٹک، نیلا – ماڈریٹ، پیلا – سویڈن ڈیموکریٹس

وزیر اعظم سویڈن قبل انتخاب

اسٹیفن لووین
سوشل ڈیموکریٹک

منتخب وزیر اعظم سویڈن

اعلان ہوگا

سویڈن میں 9 ستمبر 2018ء بروز اتوار عام انتخابات یا الیکشن کا انعقاد ہوا۔ ان انتخابات میں ملک کے قانون ساز اور اعلیٰ ترین ایوان رکسداگ کے نمائندوں کا انتخاب ہوا جو بعد ازاں ملک کے اگلے وزیر اعظم کا چناؤ کریں گےـ[1][2] علاقائی اور بلدیاتی انتخابات اسی دن منعقد ہوئے۔

ووٹوں کی ابتدائی گنتی کے مطابق، ریڈ گرینز اتحاد (سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز حکومت اور اس کی حمایتی لیفٹ پارٹی) نے 144 نشستیں حاصل کی ہیں، جس میں الائنس کے مقابلے میں 2 زائد نشستیں تھیں پچھلے عام انتخابات میں تخفیف اکثریت کی طرح۔

سوشل ڈیموکریٹس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی اور ان کے ووٹ 28 اعشاریہ 4 فیصد کم ہوئے جو 1911 کے بعد ان کی مقبولیت کی کم ترین سطح رہی جبکہ سویڈن ڈیموکریٹس نے کامیابیاں حاصل کیں جو توقعات سے بہر حال کم تھیں۔[3][4][5][6][7][8]

پس منظر[ترمیم]

2014 کا بجٹ بحران[ترمیم]

اقلیتی حکومت کے انتخاب کے صرف دو مارہ بعد 3 دسمبر 2014 کو وزیراعظم اسٹیفن لووین نے اعلان کیا کہ وہ 29 دسمبر 2014ء کو قبل از وقت انتخابات کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ انتخابات کی جلد از جلد تاریخ تھی جس کی قانون میں اجازت ہے۔

بجٹ کے معاملے پر اس وقت ایک بحران پیدا ہو گیا جب بجٹ کی منظور کے لیے رائے شماری کی گئی۔ لووین کی سوشل ڈیموکریٹ حکومت کو بجٹ کی منظوری کے لیے 153 ملے جبکہ اس کے اتحادیوں کے مجموعی ووٹ 182 تھے۔ انتخابات کروانا ضروری ہو چکا تھا۔[9] یہ انتخابات 1958ء کے عام انتخابات کے بعد سویڈن کی تاریخ میں سب سے جلد ہونے والے انتخابات تھے۔[10]

2018ء کا گروہی تشدد اور مہاجرین کا بحران[ترمیم]

2018 کے موسم گرما میں تشدد کی ایک لہر اٹھی۔ لوگوں نے باقاعدہ گروہ بنا کر وارداتیں کرنا شروع کر دیں۔ 15 اگست 2018 کو ایک ایسے ہی واقعے میں 100 سے زیادہ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ امن و امان کی صورت حال خراب ہوئی۔ مہاجرین کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا۔ گوٹن برگ، فالکن برگ اور تولہٹن میں ہونے والا تشدد اس قدر وسعت اور شدت اختیار کر گیا کہ وزیراعطم لووین کے مطابق یہ فوجی آپریشن جیسا تھا۔[11]

مد مقابل جماعتیں[ترمیم]

مندرجہ ذیل کے جدول میں جماعتوں کو پارلیمان کی نشستوں کے حساب سے رکھا گیا ہے۔

نام نظریات قائد 2014 نتیجہ
ووٹ (%) نشستیں
س سویڈش سوشل ڈیموکریٹک پارٹی
Socialdemokraterna
سماجی جمہوریت پسندی اسٹیفن لووین 31.0%
113 / 349
م ماڈریٹ پارٹی
Moderaterna
آزاد خیال قدامت پسندی اولف کرسترسون 23.3%
84 / 349
س ڈ سویڈن ڈیموکریٹس
Sverigedemokraterna
قومی قدامت پسندی
ترک وطن/ہجرت مخالفت
یمی اوکیسون 12.9%
49 / 349
م پ گرین پارٹی/ماحولیاتی پارٹی
Miljöpartiet
سبز سیاست گستاف فریدولن
ایسابیلا لوون
6.9%
25 / 349
س پ سینٹر پارٹی
Centerpartiet
آزاد خیالی
کسان پسندی
آنی لووف 6.1%
22 / 349
و لیفٹ پارٹی/وینستر پارٹی
Vänsterpartiet
اشتراکیت پسندی یوناس سیوستدت 5.7%
21 / 349
ل لبرلز
Liberalerna
آزاد خیالی یان بیورکلند 5.4%
19 / 349
ک ڈ کرسچین ڈیموکریٹس
Kristdemokraterna
مسیحی جمہوریت پسندی ایبا بوش تھور 4.6%
16 / 349

بڑی جماعتیں[ترمیم]

  • سویڈش سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سویڈن کے رکسداگ میں 349 میں سے 113 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس کی اتحادی لووین کابینہ ہے جس میں گرین پارٹی کے بھی وزرا شامل ہیں۔ اس جماعت کے موجودہ قائد اسٹیفن لووین ہیں جو 3 اکتوبر 2014ء سے وزیر اعظم سویڈن کے منصب پر فائز ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں مینڈیٹ ملا تو وہ ان کی لووین کابینہ برقرار رہے گی۔
  • ماڈریٹ پارٹی رکسداگ میں 84 نشستوں کے ساتھ دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ 2006ء سے 2014ء تک یہ جماعت بر سر اقتدار تھی اور وزیراعظم فریدرک رائنفلت تھے۔
  • سویڈن ڈیموکریٹس رکسداگ میں 49 نشستوں کے ساتھ تیسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں جماعت نے 29 نشستیں زیادہ حاصل کر کے یہ تیسری سب سے بڑی جماعت بنی۔ اس کے قائد یمی اوکیسون ہیں جو لمبے عرصے سے اس کے پارٹی لیڈر ہیں۔
  • گرین پارٹی رکسداگ میں 25 نشستوں کے ساتھ چوتھی سب سے بڑی جماعت ہے۔ گرین پارٹی لووین کابینہ میں سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحادی ہے۔ یہ واحد سویڈنی جماعت ہے جس کے دو ترجمان گستاف فریدولن (موجودہ وزیر تعلیم) اور ایسابیلا لوون (موجودہ وزیر بین الاقوامی ترقیِ تعاون) ہیں۔
  • سینٹر پارٹی رکسداگ میں 22 نشستوں کے ساتھ پانچویں سب سے بڑی جماعت ہے۔ یہ سابق وزیر اعظم فریدرک رائنفلت کی کابینہ کا 2006ء سے 2014ء تک حصہ تھی۔ 2011ء سے اس کی قائد آنی لووف ہیں۔
  • لیفٹ پارٹی رکسداگ میں 21 نشستوں کے ساتھ چھٹی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس کے موجودہ قائد یوناس سیوستدت ہیں۔
  • لبرلز رکسداگ میں 19 نشستوں کے ساتھ ساتویں سب سے بڑی جماعت ہے۔ یہ سابق وزیر اعظم فریدرک رائنفلت کی کابینہ کا 2006ء سے 2014ء تک حصہ تھی۔ لبرلز کے موجودہ قائد یان بیورکلند ہیں۔
  • کرسچین ڈیموکریٹس رکسداگ میں 19 نشستوں کے ساتھ آٹھویں سب سے بڑی جماعت ہے۔ سنہ 2015ء سے سے اس کی قیادت ایبا بوش تھور کر رہی ہیں۔

چھوٹی جماعتیں[ترمیم]

انتخابی نظام[ترمیم]

سویڈن میں عام انتخابات کو رکسڈاجن بھی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ ستمبر کے دوسرے اتوار کو منعقد ہوتے ہیں۔ 1994ء سے سویڈن کی عوام ہر چار سال بعد ووٹ ڈالتی ہیں۔ اس سے پہلے یہ مدت تین سال تھی۔ 2014ء کے عام انتخابات میں 86 فیصد عوام نے ووٹ ڈالے۔ سویڈن کی پارلیمان میں 1976ء سے 349 نمائندے ہوتے ہیں۔ سویڈن میں متناسب نمائندگی کا نظام ہے اس لیے پارلیمان میں نشستیں ووٹوں کی تعداد کے متناسب ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے پارلیمان کے ارکان کی تعداد بڑی حد تک لوگوں کی سیاسی مرضی کے تابع ہوتی ہے۔ اگر کسی جماعت کو 30 فیصد ووٹ ملیں تو پارلیمان میں اس کی نشستیں بھی 30 فیصد ہوں گی۔ 310 نمائندے براہ راست اپنے حلقوں سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ 39 نشستیں برابری کے مینڈیٹ کے مطابق تقسیم کی جاتی ہیں۔ ان 39 نشستوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملک کی ساری جماعتوں کو کل ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملیں۔ لیکن اس نظام میں ایک استثنا بھی شامل ہے اور وہ یہ کہ کسی جماعت کا کل ووٹوں کا کم از کم چار فیصد ووٹ حاصل کرنا اور کسی ایک حلقے سے بارہ فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ اصول اس لیے بنایا گیا کہ بہت ہی چھوٹی جماعتیں پارلیمان پر اثر انداز نہ ہوں۔ انتخابات کا یہ نظام ووٹ دینے کے حق کی برابری کے اصول پر بنایا گیا ہے اور یہ مفت، ذاتی اور رازداری کے مطابق ہے۔ اقلیتی حکومت بننا بھی ممکن ہے جیسا کہ 2014ء کے بعد آنے والی موجودہ حکومت۔ یعنی موجودہ حکومت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور گرین پارٹی پر مشتمل ہے اور دیگر جماعتوں کی مدد سے قانون سازی کرتی ہے۔[12]

استصواب رائے[ترمیم]

30 day moving average of poll results from September 2014 to the election in 2018, with each line corresponding to a political party.

نتائج[ترمیم]

Sveriges riksdag 2018 enwp.svg
پارٹی ووٹ % نشستیں +/–
سویڈش سوشل ڈیموکریٹک پارٹی س 1,775,651 28.4 101 −12
ماڈریٹ پارٹی م 1,236,496 19.8 70 −14
سویڈن ڈیموکریٹس س ڈ 1,100,802 17.6 63 +14
سینٹر پارٹی س پ 537,185 8.6 30 +8
لیفٹ پارٹی و 495,997 7.9 28 +7
کرسچین ڈیموکریٹس ک ڈ 397,785 6.4 23 +7
لبرلز ل 342,601 5.5 19 ±0
گرین پارٹی م پ 271,472 4.3 15 −10
فیمنسٹ انیشی ایٹو ف ا 27,741 0.4 0 ±0
پائریٹ پارٹی پ پ 0 ±0
سویڈن کے لیے متبادل ا ف س 0 نئی
نورڈک مزاحمتی تحریک ن ر م 0 نئی
اینینمل پارٹی د پ 0 ±0
شہری اتحاد مید 0 نئی
لیندسبگدس پارتی‌ایت اوبروایندے ل پ ا 0 نئی
ڈائریکٹ ڈیموکریٹس ڈ ڈ 0 ±0
کرسچین ویلیوز پارٹی ک و پ 0 ±0
اینہیت ا ی ہ 0 ±0
لبرل پارٹی ک ل پ 0 ±0
سویڈن کمیونسٹ پارٹی س ک پ 0 ±0
سیکورٹی پارٹی ت ر پ 0 نئی
یورپین ورکرز پارٹی ی و پ 0 ±0
انیشی ایٹو 0 نئی
غلط/خالی ووٹ 79,211
کُل 100 349 0
رجسٹرڈ ووٹر/ٹرن آؤٹ 87.1
ذریعہ: والنٹ

بلحاظ اتحاد[ترمیم]

Riksdag Alliances 2018.svg
اتحاد ووٹ % نشستیں +/−
ریڈ گرینز (س+م پ+و) 2,543,097 40.7 144 −15
الائنس (م+س پ+ل+ک ڈ) 2,514,229 40.2 143 +2
سویڈن ڈیموکریٹس (س ڈ) 1,100,662 17.6 63 +14
غلط/خالی ووٹ 79,211
کُل 349 0
رجسٹرڈ ووٹر/ٹرن آؤٹ 84.4
ذریعہ: ایس وی ٹی والنٹ
عوامی ووٹ (بلحاظ جماعت)
س
  
28.4%
م
  
19.8%
س ڈ
  
17.6%
س پ
  
8.6%
و
  
7.9%
ک ڈ
  
6.4%
ل
  
5.5%
م پ
  
4.3%
دیگر
  
1.5%
عوامی ووٹ (بلحاظ اتحاد)
ریڈ گرینز
  
40.7%
الائنس
  
40.2%
س ڈ
  
17.6%

بلحاظ بلدیہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "سویڈن کے وزیر اعظم نے تازہ انتخابات کرانے کا کہہ دیا"۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2014۔ 
  2. "Veckans Affärer"۔ ویکنز افاریر۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2014۔ 
  3. "Sweden faces hung parliament as far-right makes big gains"۔ آئرش ٹائمز۔ 
  4. کیٹ لیونز (موجودہ)؛ پیٹرک گرینفیلڈ (سابقہ)؛ پیٹرک گرینفیلڈ (9 ستمبر 2018)۔ "Swedish election: deadlock for main parties as far right makes gains – as it happened"۔ دی گارڈین۔ 
  5. "Opinion - Sweden’s election represents the new normal of European politics"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ 
  6. سائکٹ چیٹرجی (10 ستمبر 2018)۔ "FOREX-Scandinavian currencies lead rebound vs struggling dollar"۔ سی این بی سی۔ 
  7. "Sweden faces government deadlock as far-right gains - Times of India"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ 
  8. "Sweden’s Far Right Has Won the War of Ideas"۔ فارین پالیسی۔ 
  9. لووین نے انتخابات کروانے کا عندیہ دے دیا بی بی سی نیوز، 3 دسمبر 2014
  10. "Just nu: Regeringskrisen fortsätter"۔ SvD.se۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2014۔ 
  11. کرسٹینا اینڈرسن۔ "سویڈن میں 100 کے قریب کاروں کو جلا دیا گیا" (انگریزی زبان میں)۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 اگست 2018۔ 
  12. ایمیلی ہینڈن (23 اگست 2018)۔ "Sweden election 2018: How does Sweden election process work?"۔ ایکسپریس۔