سٹیویا (پودا)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سٹیویا ( Stevia plant) اپنی مٹھاس کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور و معروف ہے۔یہ تلسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے

چینی کا نعم البدل[ترمیم]

اس کے پتے چینی سے 15 گنا زیادہ میٹھے ہوتے ہیں ، جبکہ اس کا عرق چینی سے 200 سے 300 گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے ۔ اس کی سب سے بات یہ کہ اس میں نشاستہ اور حرارے نہ ہونے کےبرابر ہیں جس کی وجہ سے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ۔ قدرتی طور پر یہ پیراگوئے اور برازیل میں پایا جاتا تھا لیکن اب اس کی کاشت ساری دنیا میں بھی شروع ہو گئی ہے

طبی فوائد[ترمیم]

اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ خون میں شوگر کی مقدار اور بلڈپریشر کو بھی کم کرتا ہے ، اس پودے سے چائے اورمشروبات کو میٹھا کر کے چینی کی طلب میں کمی لائی جا سکتی ہے ، اس سے بنی چائے اور مشروبات شوگر کے مریض بے خطر استعمال کر سکتے ہیں ۔ سٹیویا چینی کا بہترین نعم البدل ہے ، اس کے ایک کلو گرام پتوں کے سفوف سے حاصل کی جانے والی مٹھاس 300 کلوگرام چینی کےبرابر ہوتی ہے ۔ اگر سٹیویا پلانٹ کے پتوں کو چائے کی پتی کے ساتھ ملا کر پکایا جائے تو مٹھاس چینی کی طرح محسوس ہو گی ایسے ہی مشروبات میں مٹھاس ہوتی ہے ، سٹیویا جراثیم کش ہونے کی وجہ سے ٹوتھ پیسٹ میں استعمال ہو رہا ہے ۔ دانتوں کو بیماریوں سےبچانے کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں کوبھی مضبوط کرتا ہے ۔ جلدی امراض کے علاوہ کیل مہاسوں میں بہت ہی مفیدہے ، اس میں کیلشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس سے عورتوں اور بچوں کی ہڈوں کی نشو و نما کےلیئے بہت مفید ہے ، یہ معدے کی تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے ساتھ نظام انہضام کے لیے مفید ہے ۔ معدے کے السر کوکم کرتا ہے ۔ خون کی نالیوں کو مضبوط کرتا ہے ۔ اسے وزن کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیاجاتا ہے ، یہ ڈیپریشن کو بھی کم کرتا ہے ، یہ وزن کم کرنے کے لیے بھی جادو اثر سمجھا جاتا ہے ۔ دماغی طاقت میں اضافہ کرتا ہے ۔

کیمیائی ساخت[ترمیم]

یہ ایک جنگلی جھاڑی، جس کی زیادہ شاخیں ہوتی ہیں۔ اونچائی تقریبا 70 سینٹی میٹر ہے پھول چھوٹےاور سفید ہوتے ہیں۔کرومیم، زنک، پوٹاشیم، میگنیشیم، کیلشیم، سیلینیم، تانبے اور فاسفورسس: سٹییو میکرو اور مائیکرویلیٹس کی بڑی تعداد ہے۔ یہ میٹھے ذائقہ کے ساتھ بہت سے مادہ پر مشتمل ہے: سٹییلوسائڈ (غیر متوازن قدرتی میٹھیر، جو مصنوعی مادہ کے ساتھ مناسب ہے، کیونکہ یہ جسم کے لیے محفوظ ہے)؛ گلیکوسائڈ ڈولکوسائڈ، روبوزوسائڈ، ریباڈیوسائڈ. شہد کی گھاس کی تازہ پتیوں میں وٹامنز: A، B، C اور R پر مشتمل ہے،

طریقہ کاشت[ترمیم]

نرسری بیج قلم اورٹشوکلچر سے تیار کی جاتی ہے‘ بیج سے تیارکردہ پودے 2ماہ بعد جبکہ قلم اور ٹشوکلچر سے کاشت کردہ پودے 1ماہ بعد کھیت میں منتقل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں کیونکہ سٹیویا کے بیج کے شرح اُگاؤبہت کم ہوتی ہے اس لیے قلم کے ذریعے اس کی افزائش کی جاتی ہے اس کے لیے عام طور پرپودے کا اوپروالا4انچ حصہ کاٹ کر پلاسٹک کے کپ میں موجود مٹی میں لگا کر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔[1] [2]

  1. http://urdugardening.blogspot.com/2014/03/blog-post_28.html
  2. https://www.nawaiwaqt.com.pk/27-May-2018/834655