سکردو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سکردو گلگت بلتستان کا ایک اہم شہر اور ضلع ہے۔ سکردو شہر سلسلہ قراقرم کے پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت شہر ہے۔ سکردو گلگت بلتستان کا دار الحکومت بھی ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات میں شنگریلا، سدپارہ جھیل اور کت پناہ جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ ہر سال لاکھوں ملکی وغیر ملکی سیاح سکردو کا رخ کرتے ہیں۔ سکردو میں بسنے والے لوگ بلتی زبان بولتے ہیں جو تبتی زبان کی ایک شاخ ہے۔ جبکہ سکردو کے لوگ انتہائی ملنسار، خوش مزاج، پر امن اور مہمان نواز ہیں۔

سکردو بلتستان کا سب سے بڑا شہر اور دار الخلافہ ہے جس کی آبادی تقریباً اڑھائی لاکھ قریب ہے سکردو شہر بلتستان کاتجارتی مرکزہونے کے ساتھ ساتھ صحت تعلیم اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے سکردو ہی بلتستان کو گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر شہروں کی جانب رفت و آمد کا ذریعہ بھی ہے جہاں بلتستان کا واحد کمرشل ائیرپورٹ اور بسوں کا اڈا بھی موجود ہے سکردو شہر سے ہو کر ہی دنیا کے بلند قدرتی پارک دیوسائی اور استور جایا جاسکتا ہے،

آب و ہوا[ترمیم]

سکردو گلگت بلتستان کا ایک انتہائی خوبصورت شہر ہے جہاں شدید سردی پڑتی ہے مگر اس سال یعنی 24 جنوری 2019 کو اس شہر میں شدید ترین موسم ریکارڈ ہُوا اور درجہ حرارت منفی 22 ڈگری تک چلا گیا۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

سکردو شہر

شجرہ نسب[ترمیم]

"سکارڈو" کا نام بلتی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں "دو اونچی جگہوں کے درمیان ایک کم زمین۔"

اسکردو کا پہلا تذکرہ سولہویں صدی کے پہلے نصف تک ہے۔ مرزا حیدر (1499–1551) نے 16 ویں صدی کے متن ، تاریخ راشدی بلتستان میں اسکاردو کو علاقے کے ایک اضلاع کے طور پر بیان کیا۔ یوروپی ادب میں اسکردو کا پہلا تذکرہ فرانسیسی فرانسیئس برنیئر (1625-1688) نے کیا تھا ، جس نے اس شہر کا ذکر ایسکرڈو کے نام سے کیا تھا۔ اس کے ذکر کے بعد ، اسکردو کو تیزی سے یورپ میں تیار کردہ ایشین نقشوں میں کھینچ لیا گیا ، اور اس نے پہلی مرتبہ ایسکرڈو نقشہ "انڈیانی اورینٹلس اینک نان انسولروم اڈیسیانٹیم نووا ڈسکرپٹیو" کے نام سے ڈچ نقش نگار نیکولیس ویسچر II کے ذریعہ ذکر کیا ، جو 1680–1700 کے درمیان شائع ہوا۔

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں سکوزن گیمپو کے تحت تبتی سلطنت کی تشکیل کے بعد سے اسکردو کا علاقہ بدھت تبت کے ثقافتی شعبے کا ایک حصہ تھا۔ تقریبا 9th نویں صدی تک تبتوں کے تانترک صحیفے پورے بلتستان میں پائے گئے تھے۔ وسطی ایشیا ، اسکردو کاشغر کے قریب قبائل سے رابطے میں رہا ، جو اب چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں ہے۔

نویں دسویں صدی عیسوی کے لگ بھگ بلتستان پر تبتی سلطنت کی تحلیل کے بعد ، بلتستان مقامی مقپن راج کے قبضے میں آگیا ، ترک ترک کی ایک نسل ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کشمیر کے ایک تارکین وطن کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ ابراہیم شاہ نے ایک مقامی شہزادی سے شادی کی۔

حوالہ جات[ترمیم]