سکرچکیہ مثل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
1780ء میں سکھوں کی بارہ مثلوں کا ایک نقشہ

سکرچکیہ مثل (گرمکھی: ਸ਼ੁੱਕਰਚੱਕੀਆ ਮਿਸਲ) اٹھارہویں صدی میں خطۂ پنجاب میں آباد سکھوں کی بارہ مثلوں میں سے ایک مثل تھی۔ اِس مثل کے لوگ موجودہ گوجرانوالہ اور حافظ آباد کے شہروں میں آباد تھے۔رنجیت سنگھ کا تعلق اِسی مثل سے تھا جس نے انیسویں صدی کے آغاز میں سکھوں کی بارہ مثلوں کو منظم انداز میں ضم کرکے سکھ سلطنت تشکیل دی۔ یہ مثل 1752ء سے 1801ء تک قائم رہی۔ اِس مثل کا مرکز گوجرانولہ تھا۔

تاریخ[ترمیم]

یہ مثل سردار نودھ سنگھ کے توسط سے 1752ء میں وجود میں آئی۔سردار نودھ سنگھ کا قبیلہ گوجرانوالہ کے قریب ایک موضع سکرچک میں آباد تھا، اِسی لیے یہ مثل سکرچکیہ کہلائی۔[1] سردار نودھ سنگھ کا بیٹا چڑھت سنگھ سکرچکیا تھا جو مہاں سنگھ کا باپ اور رنجیت سنگھ کا دادا تھا۔ سردار نودھ سنگھ کی وفات کے بعد چڑھت سنگھ سکرچکیا نے باقاعدہ طور پر منظم انداز میں اِس مثل کو تشکیل دیا۔[2][3] اِس مثل نے ابتدائی دور میں احمد شاہ ابدالی کے خلاف مہمات شروع کیں۔ اِن مخالف مہمات میں سنگھ پوریا مثل سے خود کو الگ کرکے اپنا مستقل قیام گوجرانوالہ میں رکھا۔ یہ مثل 1801ء میں منعقدہ دربارِ لاہور کے وقت سکھ سلطنت میں ضم کرلی گئی۔ اِس مثل کے لوگ سندھانوالیہ جاٹ قوم سے تعلق رکھتے تھے جن کی آبادی امرتسر اور پٹھان کوٹ میں آباد تھی۔ بعد ازاں اِس مثل کے لوگ گوجرانولہ، قلعہ سورا سنگھ، قلعہ میان سنگھ، قلعہ دیدار سنگھ، فیروزوالا، ایمن آباد، کلاسکے کے علاقوں میں آباد رہے۔

عسکری قوت[ترمیم]

1780ء میں اس مثل کے پاس 15,000 گھڑسواروں کی فوج تھی۔ بقول سیتا رام کوہلی، اِس مثل کی جنگی طاقت تقریباً 2,500 سوار تھی۔[1]

سربراہ[ترمیم]

1752ء سے 1774ء تک اِس مثل کا سربراہ چڑھت سنگھ سکرچکیا رہا اور 1774ء میں اُس کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا مہاں سنگھ سربراہ بنا۔ مہاں سنگھ 1774ء سے اپریل 1792ء تک سربراہ رہا اور مہاں سنگھ کی وفات کے بعد رنجیت سنگھ 12 سال کی عمر میں سربراہ بنا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب سیتا رام کوہلی: مہاراجہ رنجیت سنگھ، صفحہ 37۔
  2. Khushwant Singh۔ "Chapter 1: Ranjit Singh's Ancestors, Birth and the Years of Tutelage"۔ Ranjit Singh, Maharaja of the Punjab۔ Penguin Books, India۔ صفحات 1–3۔ آئی ایس بی این 9780143065432۔
  3. http://www.sikh-history.com/sikhhist/warriors/charat.html