سکندر علی شکن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نام 

سکندر علی شکن sikandar ali shikan


دیگر نام

سکندر ستیارتھی


لقب شکن


پیدائش 15 جولائی 1999

گاوں بیرپور ، ضلع بہرائچ ، ریاست اترپردیش ، انڈیا


والدین واجد علی (والد ) نور جہاں والدہ)


اقسام تخلیقتات

افسانہ ، غزل ، ڈراما ، نظم


سکندر علی شکن 15 جولائی 1999ء میں اترپردیش کے ضلع بہرائچ کے بیرپور گاو میں پیدا ہوئے۔ سکندر علی شکن نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی کلاس 8 تک انہوں نے گرام بیر پور کے پرائمری اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2016 ء میں کسان انٹر کالج گلولہ شرا بستی سے ہائی اسکول کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کیا اس کے بعد سکندر علی شکن نے 2018 ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان، پرم ہنس رام منگل داس انٹر کالج، لینگڑی گولر شراوستی سے فرسٹ کلاس میں پاس کیا سکندر علی شکن نے جماعت 1 سے 5 تک اردو کی زبان کی تعلیم مدرسہ نعيمیہ اتحاد المسلمین موضع بیر پور سے حاصل کی ۔ سکندر علی شکن اردو زبان میں زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے مگر وہ اردو زبان سے منسلک رہے وقت کے چلتے چلتے سکندر علی شکن اردو میں کہانیاں افسانے ،غزلیات نظمے وغیرہ لکھتے، جب وہ کلاس 8 میں پڑھتے تھے، انہوں نے ایک افسانہ لکھا جس کا نام ہے "راز چھپتا نہیں"

سکندر علی شکن نے اب تک، مندرجہ ذیل افسانے لکھے --

ادبی تصنیفات----

1) ناچ کا عشق

2 )بچپن کی دوستی

3) کاش ایسا نہ کرتی!

4) ایک چاہت ایسی بھی
5)  آن لائن تحفہ 

6) وہ جو پاگل ہے

7) تڑپ

8) زمیں ساز

سکندر علی شکن نے ڈراما "کمیسٹری کا گھنٹہ"لکھا جو کافی مقبول ڈراما رہا ہے یہ ڈراما پہلے تو اودھ نامہ اخبار میں شائع ہوا اس کے بعد جموں کے اخبار لازوال میں شائع ہوا ۔ سکندرعلی شکن متعدد مضامین بھی لکھے۔ سکندرعلی سکن نے ایک نظم بھی لکھی" تخیل میں قدیمی تیری یاد آتی ہے "مگر یہ کسی اخبار میں شائع نہ ہو سکی۔

ان کے افسانے روزنامہ لازوال،کشمیر عظمی،اودھ نامہ،تعمیل ارشاد ماہنامہ نیا دور و دیگر اردو اخبارات  و میگزین میں شائع ہو چکے ہیں۔