سکندر علی وجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سکندر علی وجد
پیدائش 1914
اورنگ آباد
وفات 1983
اورنگ آباد
قلمی نام وجد
پیشہ Poet
قومیت بھارتی
اصناف غزل

سکندر علی وجد مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد کے ایک باصلاحیت اردو شاعر تھے۔ انہیں غزل گوئی اور نظموں پر یکساں مہارت حاصل تھی۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

سکندر علی وجد کی پیدائش 22 جنوری 1914ء کو ہندوستان کے شہر اورنگ آباد میں ہوئی جو اب صوبہ مہاراشٹر کا حصہ ہے۔ سنہ 1935ء میں حیدرآباد سول سروسز کے لیے ان کا انتخاب ہوا۔ بعد ازاں وہ جوڈیشیل سروسز میں بحیثیت منصف مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیشن جج ہو گئے۔ سنہ 1972ء میں صوبہ مہاراشٹر سے راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے

ادبی سفر[ترمیم]

سکندر علی انجمن ترقی اردو کے صدر تھے۔ حکومت مہاراشٹر نے انہیں سنہ 1970ء میں ادبی خدمات کے لیے پدم شری اعزاز سے نوازا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے ان کے تیسرے مجموعے "اوراق مصور" کا اجرا کیا۔ اس سے قبل ان کے شعری مجموعے "لہو ترنگ"، "آفتاب تازہ" اور "بیاض مریاں" بالترتیب 1944ء، 1952ء اور 1974ء میں شائع ہوئے۔ انہیں اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں یکساں قدرت حاصل تھی۔ قدرت نے انہیں خوبصورت آواز سے بھی نوازا تھا۔ جب بھی وہ اپنی نظم یا غزل گنگناتے تو سامعین محو ہو جاتے۔ ان کی نظموں اجنتا، ایلورا، تاج محل اور کاروان زندگی بہت مشہور ہیں۔

16 جون 1983ء کو اورنگ آباد ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ اورنگ آباد کا سکندر علی وجد میموریل ٹرسٹ شہر میں ادبی و ثقاتفی خدمات اور ان کے فروغ کے لیے خاصا مشہور ہے۔ نیز ان کی یاد میں ٹاؤن ہال کے نزدیک ایک آڈیٹوریم بھی بنایا گیا۔ ان کی اہلیہ جبلی پارک، اورنگ آباد میں رہتی ہیں۔