سکھوں کا بڑا قتل عام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سکھوں کا بڑا قتل عام جسے پنجابی میں وڈا گھلوگھارا اور انگریزی میں "the great massacre یا holocaust" کہتے ہیں۔ وہ عظیم قتل عام ہے جو افغانی درانی فوجوں نے سکھوں کا کیا۔ اور یہ 1746ء کے چھوٹے قتل عام کے علاوہ ہے۔[1] جو دہایوں تک جاری رہا۔ سکھوں کو ختم کرنے کے لیے افغان حملہ آوروں کا ایک خونی منصوبہ تھا۔[2] گرودوارہ وڈا گھلوگھارا صاحب ، کتبا-باہمنیاں گاؤں میں واقع ہے۔

وڈا گھلوگھارا فروری 1762ء کو کپّ-رہیڑے گاؤں کی دھرتی سے شروع ہو کے دھلیر-جھن سے ہوتا ہوا آگے گاؤں کتبا-باہمنیاں کے پاس جا کر ختم ہوا۔ گھلوگھارے کا مطلب سب کچھ برباد ہو جانا ہے۔ لفظ ‘گھلوگھارے’ کا تعلق افغانی بولی سےہے۔

احمد شاہ ابدالی کا چھٹا حملہ[ترمیم]

احمد شاہ ابدالی 20 سال کی عمر میں بادشاہ بن گیا تھا۔ چڑھتی عمر، اقتدار کا نشہ، اپنا راج بڑھانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس کے جاسوس کاروبار کے بہانے یہاں کے سارے راز لے جاتے تھے۔ ہم لوگوں کو تمباکو کے برے عیب کی دین بھی انہی لوگوں کی ہے۔آخر ابدالی کی تیز نگاہ ہندوستان پر مرکوز ہوئی۔ ابدالی نے جارح اور لٹیرا بن کر ہندوستان پر 10 حملے کیے۔ اور یہ اس کا چھٹا حملہ تھا۔اس بار ابدالی اور اس کے کاسہ لیس جرنیلوں اور کمانداروں کے حوصلے بہت بلند تھے ، کیونکہ ایک سال پہلے ؁ 1761 میں ان لوگوں نے بہادر کہلوانے والے مرہٹوں کو پانی پت کے میدان میں شکست دی تھی۔کچھ بھی ہو لیکن جن لوگوں نے سکھوں کی بہادری دیکھی ہوئی تھی وہ اندر سے خوفزدہ ضرور تھے۔ سکھوں نے تُرکوں کو کئی بار ستلج، چناب اور راوی کا کنارہ دکھایا تھا۔ جب ابدالی دلی، کرنال، پانی پت، متھرا اور آگرہ سے سونا، چاندی، مال و اسباب لوٹ کر بہنوں، بیٹیوں کو ریوڑ کی طرح اپنے سپاہیوں کے آگے ہانک دیتا تھا تو اس وقت ہندو مورتیو آں کے اوگی ہاتھ جوڑے آرتیاں کرتے ہی رہ جاتے اور بہنوں ، بیٹیوں کے سودے ہو جاتے تھے۔ ابدالی کے سپاہی ہندوؤں کے گھروں میں سے جہاں بھی دانے اور گہنے ملتے لے جاتے تھے۔ہندوؤں کے حوصلے اس حد تک پست ہو چکے تھے کہ یہ کہاوت بن گئی تھی “کھادھا پیتا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا”، یعنی جو کچھ کھا پی لیا وہی غنیمت ہے باقی تو احمد شاہ لے جائے گا۔ اور اگر ان تُرکوں کو کوئی للکارتے تھے تو وہ تھے سکھ سردار، جب کبھی سکھوں کی ٹکر مغلوں دے ہوجاتی تھی تو وہ ان سے لڑکیوں کو آزاد کرا کے اُن کے گھروں گاؤں چھوڑ آتے تھے۔لوٹ کا مال اور گھوڑے خود رکھ لیتے تھے۔ سپاہی صوبے داروں سے شکایات کرتے تھے۔ تُرک سکھوں سے بھاگتے تھے۔ کئی بار مغل افسر، صوبیدار، کمانڈر، جرنیل، خواجہ مرزا عبید خان، زین خان، نوردین اور اسلم جیسوں کو بھگا کر راج کیا۔جسا سنگھ آہلووالیا سکھ قوم کا زبردست بادشاہ بنا۔ سوربیر اور بہادر سکھ قوم نے کابل کی دیواروں تک تہلکہ مچا دیا۔ جو کام بڑی فوج نہ کر سکی، وہ مٹھی بھر سکھوں نے کرکے دکھا دیا۔ سکھوں نے ہمارے دیس کو لوٹنے والوں کو ان کے گھر جا کر بھی مارا۔ تُرک ہمارے یہاں کے مسلمانوں کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔کچھ امیر اور راجواڑے ان کے حمایتی تھے۔ سکھوں نے کافی علاقے پر قبضہ کر لیا اور سکھوں کا سکہ چلنا شروع ہو گیا، عام لوگ سُکھی ہو گئے لیکن یہ سب زیادہ فیر نہ چل سکا۔ احمد شاہ ابدالی کو اس چڑھتی کلا کی خبر ہو گئی اور اس نے نور الدین کی قیادت میں پنجاب کی طرف ایک پھرتیلی فوج روانہ کی۔یہاں پہنچتے ہی اس کا ٹاکرا چناب کے کنارے چڑھت سنگھ سکرچکیا سے ہوا، سکھوں نے ابدالی کا زبردست دستہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ مغلوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ کچھ بھاگ کر واپس ہو گئے اور جو باقی بچے ان کے لیے وقت گزارنا مشکل ہو گیا۔ سرہند کا کمانڈر جین خاں جو اپنے آپ کو کافی چست اور بہادر کہلواتا تھا، اسے اپنی کرسی کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔اس کی سکھوں سے نہیں بنتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ ابدالی جلد از جلد سکھوں پر حملہ کر دے۔ لیکن سکھ قوم کو سچے لیڈر مل گئے اور یہ روز افزوں ترقی کرنے لگے۔

یہاں جو اوپر ذکرکیا گیا حقائق سے پردہ پوشی کی گئی اور علمی خیانت کا ارتکاب کیا جس میں مذہبی تعصب اور جانبداری کی واضح جھلک نظرآتی ہے۔ بہادر شاہ کے دور کے آغآزمیں مغلوں اور سکھوں کے تعلقات خوشگوار تھے۔ گورو گوبند سنگھ مغل فوج میں شامل تھے اور سکھوں کی روایت کے مطابق جاجو کی لڑائی انہی کی طاقت سے جیتی گئی بدقسمتی سے 1708 میں ایک افغان نے انکو قتل کر دیا جس کا سبب پرانی دشمنی تھی۔گورو جی کی وفات کے بعد انکےایک ہم شکل ، بندہ نے دعوی کیا کہ وہ ہی گوبند سنگھ ہے جو معجرانہ طور پر دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آگیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں سکھ قوم کی قیادت کرے وہ اپنے آپ کو سچا بادشا کہتا تھا بہت سے سکھ اس کےگرد جمع ہونے لگے اس نے چالیس ہزار کی نفری کیساتھ  انبار کیےقریب سدھوار پر قبصہ کر لیا اور مسمانون پر ناگفتہ بہ مظالم ڈھائےاسکے بعد سرہند پر قبضہ کیا چار روزتک مسلسل وہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا مسلمان بچے مرد عورتیں اس تشد د کا نشانہ بنے، بقول خافی خان حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کو کھینچ لیا گیا اور زمیں پر پٹخ دیا۔اس کے بعد سہانپور کی باری آئی۔ اس کے بعد فرخ سیر کے دور میں بندہ بیراگی جو بہادر شاہ کے دور میں پہاڑیوں میں جھپ گیا تھا، اکتوبر 1713 میں پھر نمودار ہوا اس نے شمالی پنجاب کے بعض اضلاع میں لوٹ مار شروع کردی۔ لاہور کے گورنرعبدالصمد خان نے اس کا تعاقب جاری رکھا اس کو ہر طرف سے گھیر کر گورداسپور کے قریب سات سو چالیس ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے اکبر آباد بھیج دیا۔ بادشاہ فرخ سیر کے حکم سے انکی تذلیل کے لیے ان کو آگرہ کے گلی کوچوں میں پھرایا گیا اورآخر کار بندہ بیراگی اوراسکے نابالغ بیٹے سیمت سارے لوگ تہ تیغ کر دئے گئے۔ اس طرح کئی سال تک پنجاب کا سکھ چین برباد کرنے والا فتنہ ختم ہوا۔ پنجاب میں بندہ بیراگی کے بعد بھی سکھوں نے اپنی تخریبی کارروائیاں بند نہ کی تھیں اس وجہ سے مغل گورنر ذکریہ خان نےانکے خلاف اس قدر سختیکی کہ وہ بظاہر دب گئے لیکن اپنے دفاع کے لیے انہوں نے منظم ہونا شروع کر دیا تھا۔ دل خالصہ کی تنظیم اس دور میں ہوئی جس میں پانچ جتھے شامل تھے۔ جن کے سربراہ جتھے دار امر تسر پنجاب میں جمع ہوکر فییصلے کرتے تھے اور باقی سب سکھ ان فیصلوں کی پاپندی کرتے تھے معین الملک میر منو نے بھی سکھوں کے خلاف سخت گیری کی پالسی جاری رکھی اور انہیں ہر جگہ شکست دیکران کا قتل عام کیا ۔ تاہم اس کے دیوان کورامل سکھ نے سکھون کواس سختی سے بچانےکے لیے انیہں امن آشتی سے رہنے پر آمادہ کر لیا چند سال یہ معاہدہ امن پرقرار رہا لیکن احمدشاہ ابدالی کے خلاف معرکہ محمود بوٹی 1752 میں کورامل مارا گیا اب سکھوں نے حسب سابق قتل وغارت گری کا بازار گرم کر دیا اس لے ان کے ساتھ تصادم از سر نو شروع ہو گیا ۔ میر منو کی وفات 1753 میں ہوئی اور اس کے بعد طوائف الملوکی پھیل گئی اور اس پرفتن دور میں عوام کی زبوں حالی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سکھ سردار مستقل لوٹتے رہے تھے اس دور میں راکھی سسٹم رائج کیا گیا اور جو خاندان راکھی سسٹم کے ذریعے بھای چارہ قائم کرلیات جتھا اسے تحفظ فراہم کرتا۔ 1757 میں احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کے الحاق کافیصلہ کر لیا اوراپنے بیٹے تیمورشاہ کو لاہو،سرہند دوایہ بست جالندھر، کشمیر ٹھٹہ اورملتان کا گورنرمقرر کرکے تمام شہروں میں اس کے نائب مقرر کردئے اوریہ زمانہ نظم ونسق کا تھا اس لیے سکھوں کی غارت گری کا نوٹس لیا گیا۔ امرتسر پرحملہ کرن انکی قوت کومنتشرکردیا گیا اور ان کی مقدس عمارتوں کو ڈھا دیا گیا۔ سکھ جموں کی طرف بھاگ گئے۔احمدشاہ ابدالی جب واپس لوٹا تو ایک سردار دیپ سنگھ نے ہزاروں سکھوں کی معیت میں امرتسر واپس لینے کی کوشش کی لیکن جہاں خان کے ہاتھوں پانچوں جتھہ داروں سیمت قتل ہو گیا۔ پورے صوبے میں ان کے خلاف سخت کارروائی کےباوجود ان کی قوت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ پانی پت کی تیسری لڑائی سے پہلے ادنیہ بیگ نے سکھوں کو منظم ہونے کا ایک موقع فراہم کیا جو تیمور شاہ کو مرہٹوں اورسکھوںکےتعاون سے ہٹا کر خود پنجاب کا حکمران بننا چاہتا تھا۔ اس مہم میں اسے سکھ سرداروں چڑھت سنگھ، سکر چکیہ ، جسا سنگھ اہلو والیہ، جسا سنگھ رام گٹرھیا م ہرئ سنگھ، منا سنگھ ، گوجر سنگھ اورجھنڈا سنگھ کی حمایت حاصل تھی۔ مرہٹے پنجاب میں جم نہ سکے اور ان کے جانے کو بعد ادنیہ بیگ پنجاب پرقابض ہو گیا لیکن نظم ونسق کے قائم کرنے میں اس کو بھی سکھوں کےخلاف  کارروائی کرنی پڑی 1758 کی اس کیفت کو با با بلھے شاہ نے اس طرح تبصرہ کیا۔ در کھلیا حشر عذاب دا۔ برا حال ہویا پنجاب دا۔1759 میں احمد شاہ ابدالی نے پوری قوت کیساتھ پنجاب پر حملہ کیا اور پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کچومر نکال دیا۔سکھ اس کامقابلہ کرنکی بجائے پہاڑو ں میں چھپ گئے اور مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے۔ افغان بادشاہ کی واپسی کے بعد انہوں نے اپنے پہاڑی مورچوں سے نکل کر پھر دارداتیں شروع کر دیں اس دور میں احمدشاہ ابدالی نے انکواس حد تک بے دست و پا کر دیا تھا کہ وہ یہ کہا کرتے تھے ۔ کھادا پیتا لاے دا ۔ باقی احمد شاہے دا۔ الغرض 1764 میں احمد شاہ ابدالی نے سکھوں کی بڑھتی ہوئ طاقت کو کچلنے کے لیے ایک دفعہ پھر پنجاب پر حملہ کر دیا اور گوجر وال اور برنالہ کے درمیان لودھیانہ سے پچیس میل کے فاضلے پر ایک جنگ میں ہزاروں سکھ قتل کیے گئے سکھ اس جگہ کو گہلو گھاڑہ (قتل عام کی جگہ ) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی کی گرفت کمزور ہونے پر ، سکھوں نے جگہ جگہ سراٹھانا شروع کر دیا اس زمانے میں انہوں نے اپنی تنظیم نو کی اور بارہ مشلیں قائم کیں اور لوٹ مار کا خوب بازار گرم کیا سکھ مذہب کا اس دور میں فروغ ہوا۔ جو کوئی چاہتا سکھ بن کر اس لوٹ مار کے اس بازار میں مقام حاصل کرنے کے لیے جتھوں میں شامل ہوجاتا۔ بابا بلھے شاہ اس دور کا نقشہ یوں کیھنچا۔ مغلاں زہرپیالےپیتے۔ بھوریا والے راج کیتے۔ سب اشراف پھرن چپ چپیتے۔ اس دور میں لاہو میں خوب لوٹ مار کا بازار گرم ہوا بعد ازاں رنجیت سنگھ کی حکومت پورے پنجاب میں قائم ہو  

1761 کی دیوالی[ترمیم]

1761 کی دیوالی ساری سکھ قوم نے دھوم دھام سے منائی۔ سری امرتسر میں سردار جسا سنگھ آہلووالیا کی صدارت میں میٹنگ ہوئی۔ گرمتے پاس ہوئے، سکھ قوم کی چڑھتی کلا کے لیے سوچ و بچار ہوئی۔ ہر مذہب کو پھلنے پھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی ، مخبروں کے لیے سزائیں تجویز کی گئیں۔سب سے بڑا مخبر جنڈیالہ کا آکل داس تھا، جس نے کئی نوجوان شہید کروائے تھے۔ سکھ کارروائیوں کی ساری رپورٹ ابدالی تک جاتی تھی۔سکھوں نے جنڈیالہ جا کر آکل داس کو گھر سے باہر نکال لیا، جب اس سے پوچھا گیا تو منت سماجت کرنے لگا کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور اس بات کی قسم کھائی۔ سکھوں نے ترس کھا کر چھوڑ دیا۔ اسی سنپولیے نے خالصہ پنتھ کو ڈنک مارا۔جین خاں نے آکل داس کے ساتھ مل کے ابدالی کو پیغام بھیجا۔ ابدالی رات کے اندھیرے میں پٹی آیا۔ خاناں اور آکل داس جیسے دوغلوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ افغانی اپنے دکھ رونے لگے، “شاہ جی، سکھوں نے تو ہمارا جینا دو بھر کر دیا ہے، ہمیں یہاں سے کے چلیں، ہم تنگ ہیں ، ہمیں سکھوں سے ڈر لگتا ہے۔” احمد شاہ ابدالی اپنے معتبر آدمیوں کو ساودھان کر کے چلا گیا، بھیکھم شاہ ملیرکوٹلا، جین خاں سرہند، شاہ حسین رائیکوٹ اور دیگر خانوں نے سگھوں پر نظر رکھنی شروع کر دی۔ آکل داس مخبر نے پہلے ہی جال بچھایا ہوا تھا۔سکھوں کو پتہ چل گیا کہ ابدالی بہت بڑی فوج کے کر آرہا ہے۔ اور یہ جنگ صرف سکھوں سے ہی ہوگی۔سکھ سرداروں نے میٹنگ کی جس میں طے پایا کہ قافلے کے ساتھ جو بچے، بوڑھے اور عورتیں ہیں انہیں بیکانےر کے جنگل میں چھوڑ آؤ اور ہتھیار آگے کسی مقام پر ٹھکانے لگائے جائیں۔ جتھے دار جسا سنگھ آہلووالیا کہنے لگا، “ سکھو! اس ابدالی کو ایسا سبق سکھانا کہ پھ ہمارے پنجاب کی طرف آنکھ نہ اٹھا سکے۔ اس کی زیادہ فوج کچھ بھئ نہیں کرسکتی۔ “ پیغام ملنے پر تمام خالصہ جگہ جگہ سے ایک مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ خالصہ لشکر دریائے ستلج پار کر کے جگراؤں شہر پار کر کے سدھار، آنڈلو اور جڑاہاں وغیرہ دیہاتوں سے ہوتا ہوا احمدگڑھ منڈی کے قریب شام تک پہنچ گیا۔ آگے رات بتانی تھی۔

مقام کپ رہیڑا گاؤں سے گاؤں کتبا باہمنیاں تک[ترمیم]

جتھے داروں نے کہا ، “ سکھو! کوئی محفوظ جگہ دیکھو تو کچھ سکھوں نے جندالی گاؤں سے آگے رہیڑہ گاؤں کے نزدیک ایک جگہ دیکھی، جہاں سرکڑا کے درخت اور کیسو کے پودے بہت تھے۔ سارا خالصہ دل اسی جگہ اکٹھا ہو گیا۔ مخبر ستلج سے ہی پیچھے لگے ہوئے تھے۔ پہلی رات کو آکل داس کی مخبری کی خبر سن کے جین خاں 2000 گھوڑ سوار اور 3000 پیدل نوجوان اور توپ خانہ لے کر کپّ نیڑے آ گیا، نواب ملیرکوٹلا بھی اپنی فوج لے کے آ گیا۔ کچھ وقت بعد ہی لدھیانہ کی طرف سے ابدالی بھی جنڈالی کے قریب آ گیا۔ ابدالی کی فوج لاکھ کے قریب تھی جو کئی دیہاتوں کے علاقے میں ہڑبونگ مچائے ہوئے تھی۔ ابدالی کی میٹنگ جین خاں، بھیکھم شاہ، شاہ حسین اور اپنی فوج کے کمانڈراں اور جرنیلوں کے ساتھ ہوئی۔ پہلا مشورہ پاس ہوا کہ فوج ، اس علاقے کی معلومات اور سکھوں کی کی تعداد کے بارے میں جانکاری حاصل کرے۔ مشورہ یہ ہوا کہ سویرے 2 گھنٹوں سکھوں کو ختم کر کے، تاکہ پھر کوئی سر نہ اٹھائے ، سختی کر کے ابدالی واپس مڑ جائیگا۔ سکھ لشکر کو تین اطراف سے گھیر لیا گیا۔ چھاپامار ڈھنگ سے فوج ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئی۔ سکھوں کو اس کارروائی کا بالکل پتہ نہ لگا۔سکھ سمجھ رہے تھے کہ ابدالی 4-5 دنوں تک ان کے قریب آئے گا۔ ابدالی کے سپاہیوں نے لال رنگ کی وردی پہنی ہوئی تھی۔اُدھر کیسو کے پودوں میں لال رنگ کے پھول تھے، اس وجہ سے بھی سکھ مات کھا گئے کہ سمجھ نہ سکے تھے۔ سکھ بے فکر ہو کر سو گئے۔ کچھ ادھر ادھر پہرہ دینے لگے۔ سکھ 4 بجے اٹھے اور جانوروں کو گھاس چارہ وغیرہ دینے لگے تو جین خاں کے کمانڈر لسی رام سرہند نے ملیرکوٹلے والی طرف سے اچانک حملہ کر دیا۔پہلے تو سکھوں نے کافی نقصان اٹھایا لیکن جلد ہی سنبھل گئے اور اپنے جتھے داروں کی قیادت میں ایک طوفان کی طرح اٹھے اور جو بھی اسلحہ ہاتھ لگا اسی سے مقابلہ شروع کر دیا۔ابدالی 18000 بلوچوں کے ساتھ نماز پڑھ کے، دعا کر کے چلا تھا کہ میں کافروں کو ختم کر دونگا پر وہ اﷲتعالیٰ جھوٹی دعاؤں کو قبول نہیں کرتا۔ہمارے گاؤں، ہمارے شہر، ہمارے کھیت، ہمارا دیش، ہمارے نوجوان، اس ابدالی کا کیا حق ہے؟ ہمارا بڑا دشمن ہے جو ہمیں غلام رکھ کے لوٹنا چاہتا ہے۔

بڑے قتل عام کی تاریخ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. According to the Punjabi-English Dictionary، eds. S.S. Joshi، Mukhtiar Singh Gill، (Patiala، India: Punjabi University Publication Bureau، 1994) the definitions of "Ghalughara" are as follows: "holcaust، massacre، great destruction، deluge، genocide، slaughter، (historically) the great loss of life suffered by Sikhs at the hands of their rulers، particularly on 1 May 1746 and 5 Feb 1762" (p. 293).
  2. Khushwant Singh, A History of the Sikhs، Volume I: 1469-1839، Delhi، Oxford University Press، 1978، pp. 127-129

بیرونی روابط[ترمیم]

  • "Barbarity of Meer Mannu"۔ www.sikh-history.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • "Vadda Ghallughara"۔ 10 مئی 2006۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔