مندرجات کا رخ کریں

سہل بن بشر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سہل بن بشر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 786ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آمل   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 845ء (58–59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہر فلکیات ،  ریاضی دان ،  منجم ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلکیات ،  ریاضی   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سہل بن بشر ایک مسیحی سریانی نژاد فلکیات دان اور ریاضی دان تھے جو طبرستان سے تعلق رکھتے تھے اور عباسی دور میں زندہ رہے۔ وہ اُن علما میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے علمِ نجوم، فلکیات اور حساب میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

تعارف اور خدمات

[ترمیم]

سہل بن بشر کا پورا نام ابو عثمان سہل بن بشر بن ہانی (یا ہایا) تھا۔ بعض روایات میں انھیں یہودی النسل بھی کہا گیا ہے، تاہم وہ عباسی عہد میں علمی و دفتری خدمات سے وابستہ رہے۔ انھوں نے طاہر بن حسین الاعور کی خدمت انجام دی، جو عباسی خلافت کے ایک معروف سپہ سالار تھے اور بعد ازاں حسن بن سہل کے زیرِ سرپرستی بھی کام کیا۔

وہ ایک صاحبِ علم اور فاضل شخصیت تھے اور فلکیات، نجوم اور حساب میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کا شمار اُن ابتدائی علما میں ہوتا ہے جنھوں نے یونانی اور مشرقی علوم کو عربی علمی روایت میں منتقل کرنے اور فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔[1][2]

تصانیف

[ترمیم]

ابن الندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں سہل بن بشر کی متعدد تصانیف کا ذکر کیا ہے۔ ان کی اہم کتابیں درج ذیل ہیں:

  • کتاب مفاتیح القضاء (المسائل الصغیر)
  • کتاب السہمین
  • کتاب الموالید الکبیر
  • کتاب تحویل سنی العالم
  • کتاب المدخل الصغیر
  • کتاب المدخل الکبیر
  • کتاب الہیئہ و علم الحساب
  • کتاب تحاویل سنی الموالید
  • کتاب الموالید الصغیر
  • کتاب المسائل الکبیر
  • کتاب الاختیارات
  • کتاب الاوقات
  • کتاب المفتاح
  • کتاب الامطار والریاح
  • کتاب المعانی
  • کتاب الہیلاج والکدخداه
  • کتاب الاعتبارات
  • کتاب الکسوفات
  • کتاب الترکیب

ان کی ایک بڑی تصنیف بھی تھی جو تیرہ کتابوں پر مشتمل تھی۔ اس میں انھوں نے اپنی اہم تصانیف کا نچوڑ جمع کیا اور اسے کتاب العاشر کا نام دیا۔ یہ کتاب انھوں نے خراسان میں تصنیف کی۔ اس بات کا ثبوت ہیں کہ عباسی دور میں سائنسی علوم کو کس قدر وسعت اور سرپرستی حاصل تھی۔

علمی مقام

[ترمیم]

سہل بن بشر نے فلکیات اور نجوم کے مختلف موضوعات جیسے پیدائش کے احکام (موالید)، اوقات، موسمی اثرات، بارش اور ہواؤں، گرہن (کسوفات) اور ریاضیاتی حساب پر کام کیا۔ ان کی تصانیف اس بات کا ثبوت ہیں کہ عباسی دور میں سائنسی علوم کو کس قدر وسعت اور سرپرستی حاصل تھی۔ انھوں نے قدیم یونانی، ایرانی اور ہندی علوم کو عربی زبان میں ڈھالنے اور انھیں منظم انداز میں پیش کرنے میں کردار ادا کیا، جس سے بعد کے مسلم اور یورپی علما کو بھی فائدہ پہنچا۔ [3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Plinio Prioreschi (1 جنوری 2001)۔ A History of Medicine: Byzantine and Islamic medicine۔ Horatius Press۔ ص 223۔ ISBN:9781888456042۔ 2020-01-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-29۔ Ali ibn Sahl Rabban al-Tabari, the son of a Syriac Christian scholar living in Persia on the Caspian Sea...
  2. Max Meyerhof (جولائی 1931)۔ "Alî at-Tabarî's "Paradise of Wisdom", one of the oldest Arabic Compendiums of Medicine"۔ Isis۔ ج 16 شمارہ 1: 7–8۔ IBN AL-QIFTÎ (4) renders the title Rabban correctly but with a false explanation, taking it for the Jewish title of Rabbi. So 'ALÎ B. RABBAN passed into all historical works, until quite recently, as a Muslim of Jewish origin, although 'ALÎ himself, in the preface to his work, explains this title Rabban as being the Syriac word for «our Master» or «our Teacher». The late Professor HOROVITZ told me and wrote to me several years ago, that this was a Christian title; A. MINGANA gave the proof of this in print for the first time in I922. 'ALÎ says in his apologetic tract «The Book of Religion and Empire» which he wrote about 855 A.D. that he himself was a Christian before he was converted to Islam, and that his uncle ZAKKÂR was a prominent Christian scholar. {{حوالہ رسالہ}}: "Ibn al-Qiftî" کی عبارت نظر انداز کردی گئی (معاونت) (4) renders the title Rabban correctly but with a false explanation, taking it for the Jewish title of Rabbi. So اقتباسIBN AL-QIFTÎ (4) RENDERS THE TITLE RABBAN CORRECTLY BUT WITH A FALSE EXPLANATION, TAKING IT FOR THE JEWISH TITLE OF RABBI. SO 'ALÎ B. RABBAN PASSED INTO ALL HISTORICAL WORKS, UNTIL QUITE RECENTLY, AS A MUSLIM OF JEWISH ORIGIN, ALTHOUGH 'ALÎ HIMSELF, IN THE PREFACE TO HIS WORK, EXPLAINS THIS TITLE RABBAN AS BEING THE SYRIAC WORD FOR «OUR MASTER» OR «OUR TEACHER». THE LATE PROFESSOR HOROVITZ TOLD ME AND WROTE TO ME SEVERAL YEARS AGO, THAT THIS WAS A CHRISTIAN TITLE; A. MINGANA GAVE THE PROOF OF THIS IN PRINT FOR THE FIRST TIME IN I922. 'ALÎ SAYS IN HIS APOLOGETIC TRACT «THE BOOK OF RELIGION AND EMPIRE» WHICH HE WROTE ABOUT 855 A.D. THAT HE HIMSELF WAS A CHRISTIAN BEFORE HE WAS CONVERTED TO ISLAM, AND THAT HIS UNCLE ZAKKÂR WAS A PROMINENT CHRISTIAN SCHOLAR.اقتباسIBN AL-QIFTÎ (4) RENDERS THE TITLE RABBAN CORRECTLY BUT WITH A FALSE EXPLANATION, TAKING IT FOR THE JEWISH TITLE OF RABBI. SO 'ALÎ B. RABBAN PASSED INTO ALL HISTORICAL WORKS, UNTIL QUITE RECENTLY, AS A MUSLIM OF JEWISH ORIGIN, ALTHOUGH 'ALÎ HIMSELF, IN THE PREFACE TO HIS WORK, EXPLAINS THIS TITLE RABBAN AS BEING THE SYRIAC WORD FOR «OUR MASTER» OR «OUR TEACHER». THE LATE PROFESSOR HOROVITZ TOLD ME AND WROTE TO ME SEVERAL YEARS AGO, THAT THIS WAS A CHRISTIAN TITLE; A. MINGANA GAVE THE PROOF OF THIS IN PRINT FOR THE FIRST TIME IN I922. 'ALÎ SAYS IN HIS APOLOGETIC TRACT «THE BOOK OF RELIGION AND EMPIRE» WHICH HE WROTE ABOUT 855 A.D. THAT HE HIMSELF WAS A CHRISTIAN BEFORE HE WAS CONVERTED TO ISLAM, AND THAT HIS UNCLE ZAKKÂR WAS A PROMINENT CHRISTIAN SCHOLAR.
  3. ابن النديم، الفهرست. الفن الثاني من المقالة السابعة: أخبار أصحاب التعاليم المهندسين والأرثماطيقيين والموسيقيين والحساب والمنجمين وصناع الآلات وأصحاب الحيل والحركات." [1] تاريخ الولوج 2 تموز 2010. آرکائیو شدہ 2013-08-14 بذریعہ وے بیک مشین