سہیل انجم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سہیل انجم
پیدائش 01 جولائی 1958ء
سنت کبیر نگر، اتر پردیش، بھارت
رہائش دہلی , بھارت
اسمائے دیگر سہیل انجم
پیشہ ادیب، صحافی
آجر صحافت اور رضاکارانہ ادبی خدمات
وجہِ شہرت صحافت
مذہب اسلام

سہیل انجم : (پیدائش - 01 جولائی 1958) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بستی موجودہ سنت کبیر نگر کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ڈاکٹر مولانا حامد الانصاری انجم اپنے عہد کے ایک موقر عالم دین، سحر البیان خطیب، شاعر اور صحافی تھے۔ ان کے بڑے بھائی حماد انجم ایڈووکیٹ ملک کے معتبر ادیب اور شاعر ہیں۔ جبکہ چھوٹے بھائی ڈاکٹر شمس کمال انجم بابا غلام بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر کے شعبہ عربی کے صدر ہیں۔

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

بچپن اور تعلیم : بچپن وطن میں گزرا۔ ابتدائی اردو فارسی تعلیم گھر پر ہوئی۔ اور ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں ہوئی۔ انھوں نے یو پی بورڈ سے 1973 میں ہائی اسکول، مارواڑ انٹر کالج گورکھپور سے 1976 میں انٹر میڈیٹ، رتن سین ڈگری کالج بانسی ضلع بستی سے 1979میں بی اے اور مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے 1981میں اردو سے ایم اے کیا۔ ان کی اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ انھوں نے گریجو یشن میں پہلی بار اردو کو بحیثیت سبجکٹ اختیار کیا۔

پیشہ ورانہ سفر[ترمیم]

1985میں اردو صحافت میں آئے۔ مختلف اخباروں میں کام کرنے کے بعد اب وائس آف امریکا اردو سروس واشنگٹن کے لیے دہلی سے وائس رپورٹنگ 2002سے مسلسل۔ آل انڈیا ریڈیو کی ایکسٹرنل سروس ڈویژن کے لیے 1995سے حالات حاضرہ پر تبصرہ لکھنا شروع کیا۔ سہیل انجم نے 1983اور 1984میں مکتبہ جامعہ لمٹیڈ دہلی میں ملازمت کی۔ سہیل انجم نے اپنی صحافت کا آغاز 1985میں ممبئی کے اردو ہفت روزہ ’’بلٹز‘‘ اور دہلی کے ہفت روزہ ’’اخبار نو‘‘ کے لیے بستی ضلع سے نمائندگی کے ذریعے کیا۔ اس کے بعد فروری 1987میں وہ مستقل طور پر دہلی آ گئے اور ’’اخبار نو‘‘ میں باضابطہ کام کرنے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے جون 1995تک ہمارا قدم، اپنا ہفت روزہ، جریدہ ٹائمز، نئی دنیا اور انٹرنیشنل ملی ٹائمز میں اسسٹنٹ ایڈیٹر، ایڈیٹر انچارج اور نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ 1995میں روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ دہلی سے بحیثیت سب ایڈیٹر منسلک ہوئے اور مارچ 2008 میں اس کے بند ہونے تک اس میں خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی دوران انھوں نے جدہ، سعودی عرب کے روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ کے لیے 1995سے 2000 تک جز وقتی رپورٹنگ کی۔ اس پوری مدت میں ان کا کالم ہر پندرہ روز پر پابندی کے ساتھ اس میں شائع ہوتا رہا۔ قومی آواز میں ملازمت کے دوران ہی 2002 کو ریڈیو وائس آف امریکا واشنگٹن کے لیے رپورٹنگ کرنے کا موقع ملا۔ قومی آواز بند ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے اوروہ اس کے لیے تاحال رپورٹنگ کر رہے ہیں۔

ادبی سفر[ترمیم]

اب تک سہیل انجم کی پندرہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سات کتابیں صحافت اور میڈیا کے موضوع پر ہیں۔ جن میں سے تین کتابیں مختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ صحافت میں معاون کتب کے طور پر شامل ہیں۔ ان کی تین کتابیں عنقریب شائع ہونے والی ہیں جن میں سے دو صحافت کے موضوع پر ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابوں کا انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ مختلف اداروں اور اکیڈمیوں کی جانب سے ان کی صحافتی خدمات کے پیش نظر ایوارڈز دیے جا چکے ہیں۔ سہیل انجم کی کئی کتابوں کو بھی مختلف اکیڈمیوں سے انعامات مل چکے ہیں۔ اس دوران ملک بھر کے بڑے اور معیاری اخباروں اور رسالوں میں ان کے کالم اور مضامین تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ وہ 1997سے آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کے لیے حالات حاضرہ پر پابندی کے ساتھ تبصرہ بھی لکھ رہے ہیں۔

صحافت[ترمیم]

روزنامہ قومی آواز میں انھیں تجربہ کار صحافیوں کے ساتھ کام کرنے اور بہت سیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں اور انہیں بھٹی میں تپ کر کندن بننے کا موقع مل گیا۔ ان کے بارے میں مرحوم صحافی جناب محفوظ الرحمن نے ایک مضمون میں لکھا ہے ’’سہیل انجم برسہا برس تک صحافت کے خارزار میں اپنے تلووں کو لہولہان کرتے رہے ہیں۔ وقت کی چلچلاتی دھوپ میں وہ ایک مدت تک کسی شجر سایہ دار یا سائبان کی تلاش میں سرگرداں رہے ہیں اور محسوس ہوتاہے کہ ان کی تحریروں میں تحمل، قوت برداشت، ہر تلخ بات کو نرم لہجے میں کہہ ڈالنے کی غیر معمولی صلاحیت اور تنقیص کی بجائے صحت مند تنقید کی ڈگر پر چلتے چلے جانے کا حوصلہ غالباً انہی دنوں کی دین ہے‘‘۔

آواز سے رشتہ استوار ہونے کے باوجود انہوں نے فلم سے اپنا رشتہ نہیں توڑا اور مختلف اخبارات ورسائل میں ان کا ہفتہ واری کالم آب وتاب سے شائع ہو رہا ہے۔ ان کی کتابوں میں میڈیا روپ اور بہروپ، میڈیا اردو اور جدید رجحانات، احوال صحافت، مغربی میڈیا اور اسلام، مولانا محمد عثمان فارقلیط کے منتخب اداریے، مولانا محمد عثمان فارقلیط حیات و خدمات اور پھر سوئے حرم لے چل (سفرنامہ حج) قابل ذکر ہیں۔ اول الذکر تین کتابیں مختلف یونیورسٹیوں میں شعبہ صحافت میں معاون کتب کے طور پر شامل ہیں۔ ان کتابوں کے علاوہ اخبارات و رسائل میں میڈیا اور صحافت کے موضوع پر ان کے محققانہ مضامین اکثر و بیشتر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آزادی کے بعد اردو صحافت کے میر کارواں مولانا عثمان فارقلیط، محفوظ الرحمن، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی، مولانا محمد مسلم اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی پران کے ترتیب دیے یادگار مجلے شائع ہوچکے ہیں اور دہلی کے صحافیوں پر ایک دستاویزی کتاب ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘ دہلی اردو اکیڈمی سے شائع ہوئی ہے۔ سہیل انجم ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادیب بھی ہیں۔ ’’بازیافت‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ جبکہ ان کے خاکوں کا مجموعہ ’’نقش بر آب‘‘ منظر عام پر آرچکا ہے۔

سہیل انجم صحافتی دنیا میں ایک دیانتدار صحافی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ مرحوم محفوظ الرحمن کی صحبت اور تربیت نے ان کے اندر بھی تقریباً وہی ساری خوبیاں پیدا کر دی ہیں جو مرحوم کے اندر تھیں۔ سہیل انجم کی تحریروں میں ادبی چاشنی بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ادبی حلقوں میں بھی معروف ہیں۔ بیشتر ادبی پروگرامو ں اور سمیناروں میں پیپر پڑھنے کے لیے بھی انھیں مدعو کیا جاتا ہے۔ ادبی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’مطالعات‘‘ بھی ان کے ادبی ذوق کا ثبوت ہے جس میں تقریباً سو کتابوں پر تبصرے کیے گئے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق صدر اور معروف ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق نے سہیل انجم کی تحریروں پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے ’’سہیل انجم ایک مدت سے اخباروں کے درون خانہ اسرار سے واقف ہیں۔ اردو صحافت کے ماضی و حال پر ان کی بصیرت افروز نظر ہے۔ وہ تحریر و قلم کا حتی المقدور پاس رکھتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی مجھے عزیز ہیں کہ ان کی تحریریں شگفتگی سے خالی نہیں ہوتیں۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی نگارشات میں موجود پرلطف جملے اکثر متاثر کرتے ہیں۔ ادب و انشا سے ہم آمیزی صحافت کے جوہر آشکار کرتی ہے اور دلنوازی بھی بخشتی ہے۔ یہ خوبیاں اخباروں کے کالموں سے مفقود ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ گنتی کے احباب ضرور ناموس صحافت کی پاسبانی اور ادب و انشا کی پرورش میں گامزن ہیں۔ اس حوالے سے سہیل انجم سے بہت توقعات ہیں‘‘۔ سہیل انجم کی تصنیف ’’احوال صحافت‘‘ کے آخر میں ان کے بارے میں ادب و صحافت کی مقتدر شخصیات کی آرا بھی اختصار کے ساتھ دی گئی ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ علمی، ادبی و صحافتی حلقوں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

تصانیف[ترمیم]

تصانیف : اب تک پندرہ کتابیں اشاعت پزیر ہو چکی ہیں۔

؛فہرست کتب

  • میڈیا روپ بہروپ
  • میڈیا اردو اور جدید رجحانات
  • مغربی میڈیا او راسلام
  • احوال صحافت
  • مولانا محمد عثمان فارقلیط کے منتخب اداری
  • مولانا محمد عثمان فارقلیط : حیات و خدمات
  • دہلی کے ممتاز صحافی
  • انجم تاباں
  • پھر سوئے حرم لے چل
  • لبراہن رپورٹ اور بابری مسجد
  • بازیافت
  • فرقہ وارانہ جنون
  • فاروق انصار کے افسانے
  • ڈاکٹر حنیف ترین: فن اور شخصیت
  • نقش بر آب (خاکوں کا مجموعہ)

==اعزازات==* دہلی اردو اکادمی ایوارڈ۔[1]

  • عالمی یوم اردو کمیٹی ایوارڈ
  • کئی کمیٹیوں اور تنظیموں کی جانب سے صحافت کا ایوارڈ۔
  • متعدد کتب پر مختلف اکیڈمیوں کی جانب سے ایوارڈ۔

نجی زندگی اور قیام[ترمیم]

اولاد : ایک بیٹا سلمان فیصل شادی شدہ، ایم اے پی ایچ ڈی، بی ایڈ اردو، فاضل دینیات، دہلی کے گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر، تین بیٹیاں زیر تعلیم، فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]