سیاسی قتل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سیاسی قتل سے مراد کسی بھی سیاسی میدان میں فعال شخص کا اس کی سرگرمیوں اور نمایاں مقام کی وجہ سے قتل کیا جانا۔ اس طرح کے قتل قدیم زمانے سے چلے آرہے ہیں۔

قدیم یونان کے سیاسی قتل[ترمیم]

قدیم روم کے سیاسی قتل[ترمیم]

قدیم ہندوستان کے سیاسی قتل[ترمیم]

قرون وسطٰی کے سیاسی قتل[ترمیم]

سرد جنگ کے سیاسی قتل[ترمیم]

جدید بھارت کے سیاسی قتل[ترمیم]

  • موہن داس کرم چند گاندھی، جو عام طور پر مہاتما گاندھی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو 30 جنوری 1948ء کو برلا ہاؤس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں قتل کیا گیا۔ گاندھی کسی مذہبی میل ملاپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے۔ ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والے ایک انتہا پسند ہندو قوم پرست شخص نتھو رام گوڈسے پہنچا اور اس نے موہن داس گاندھی پر گولی چلاکر قتل کردیا ۔
  • 1984ء کو اندرا گاندھی ان کے ہی دو سکھ محافظوں نے گولی مار ان کو قتل کردیا۔
  • بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ 1984ء کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس ہی نے سکھوں کا قتل عام کیا تھا ۔ [1]
  • 21 مئی 1991ء کو راجیو گاندھی سری پیرومبدور( تامل ناڈو) میں کانگریس پارٹی کے انتخابی مہم کے دوران بم دھماکے میں قتل ہوئے۔
  • 2013ء کو بھارت کی اہم ریاست اتر پردیش کے ایک ضلع مظفر نگر میں ہندو مسلم فسادات میں 50 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی اور پولیس نے تفتیش کے بعد بھارتیہ جتنا پارٹی کے کئی مقامی کارکنوں اور سیاستدانوں پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانے کی ذمہ داری عائد کی تھی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ منافرت آمیز تقاریر سے معاشرتی تقسیم کو گہرا کر رہے ہیں۔ کانگریس کی قیادت میں مخلوط حکومت کے اقلیتی امور کے وزیر رحمان خان کا بھی کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے ہندو مسلم کشیدگی کو ہوا دینے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ [2]
  • بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2015ء اکتوبرتک بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے تشدد کے 630 واقعات پیش آئے جن میں 86 افراد کو قتل کیا گیا۔ جبکہ 1899 افراد زخمی بھی ہوئے۔ [3]

پاکستان کے سیاسی قتل[ترمیم]

  • 16 اکتوبر 1951ء میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
  • منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فرضی مقدمہ میں پھنسا کر پھانسی دے کر عدالتی قتل کیا گیا۔
  • اگست 1988ء پاکستان کے اہل تشیع کے سیاسی مذہبی قائد سید عارف حسین حسینی کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
  • 1988ء میں پاکستان کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاء الحق کو ایک ہوائی حادثہ بنا کر قتل کیا گیا۔
  • 2005ء کو پرویز مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی کو فوجی حملہ کر کے قتل کیا گیا۔
  • 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی سے آٹھ سال بعد واپسی پر ایک خودکش حملے اور ایک چھوٹے بم دھماکے میں 139 افراد سیاسی قتل کا شکار ہوئے۔
  • 27 دسمبر 2007ء کو اسلام آباد کے نزدیک راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد وہاں سے رخصتی کے وقت ایک خودکش حملے اور پھر فائرنگ کے ایک واقعے میں پاکستان کی سابقہ وزیر اور اعظم پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو اور ان کے تقریباﹰ دو درجن حامیوں کا قتل۔
  • 2009ء میں بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے تعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا
  • 2009ء میں مذہبی عالم سرفراز احمد نعیمی، کو قتل کیا گیا۔
  • 2009ء ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین حسین علی یوسفی کو قتل کردیا گیا۔
  • 2010ء میں بلوچ قوم پرست رہنما حبیب جالب کو بھی صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں قتل کردیا گیا تھا۔
  • 2010ء کو پشاور میں ایف سی کے کمانڈنٹ صفوت علی خودکش حملے میں مارے گئے،
  • 2 اگست 2010ء کو سندھ میں حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم کے صوبائی رکن پارلیمان رضا حیدر کوکراچی میں گولی مار دی گئی ۔ ان کے قتل کے بعد کراچی میں شروع ہونے والے خونریز واقعات میں 40 سے زائد افراد مارے گئے۔
  • 16 ستمبر 2010ء کو متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رکن اور لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے عمران فاروق کو برطانوی دار الحکومت میں قتل کر دیا گیا ۔
  • 4 جنوری 2011ء وفاقی مخلوط حکومت میں شامل بڑی پارٹی پی پی پی سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا اسلام آباد میں اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل ۔ خود کو موقع پر ہی پولیس کے حوالے کر دینے والے ان کے ذاتی محافظ نے اقرار کیا کہ اس نے سلمان تاثیر کو ان کے ملک میں توہین رسالت سے متعلقہ قانون کے بارے میں بیان کی وجہ سے قتل کیا۔[1]
  • 2011ء پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو راولپنڈی میں نا معلوم نے افراد قتل کردیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]