سیبویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیبویہ
(فارسی میں: سيبويه)،(عربی میں: سیبویه ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Sibuye1.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: عمرو بن عثمان بن قنبر الحارثي ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 760  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اردکان (فارس)  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 797 (36–37 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیراز  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ خلیل بن احمد الفراہیدی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل قواعدِ زبان،  عربی  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امام سیبویہ امام البصریین اور علم نحو کے امام ہیں۔

نام[ترمیم]

ابوبشر عمرو بن عثمان جو سیبویہ کے لقب سے معروف ہیں سیبویہ کا معنی سیب کی خوشبو۔

ولادت[ترمیم]

ایران میں 148ھ میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔

علمی مقام[ترمیم]

شروع شروع میں یہ حدیث اور فقہ پڑھتا تھا ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی املا کرائی ہوئی حدیث رسول کو لکھ رہا تھا جس میں عبارت کی غلطی کرنے پر اسے کہا گیا کہ سیبویہ تم غلطی کر رہے ہو یہاں پہ استثناء ہے توسیبویہ نے کہا ہاں اب پہلے میں وہ علم سیکھو گا جس کے بعد میری زبان میں کوئی خامی نہ نکال سکے گا اس نے نحو سیکھی وہ خلیل کی صحبت میں رہا اور یونس اور عیسی بن عمر سے علم نحو حاصل کیا حتیٰ کہ اس فن میں ماہر ہو گیا

الکتاب کی تصنیف[ترمیم]

سیبویہ نے جب علم نحو کے اصول و فروع کو بھی احاطہ کر لیا اور اس کے شاذ اور کی قیاسی مسائل سے بھی واقفیت حاصل کرلی پھر اس نے اپنی مشہور کتاب لکھی جس میں اس نے وہ سب کچھ جمع کر دیا جو خلیل سے سیکھا تھا علاوہ ازیں بصرہ کوفہ کے علما سے جو کچھ منقول تھا ان میں سے ہر ایک کا نام لے کر اسے بھی نقل کر دیا چنانچہ اس کی یہ کتاب اپنے فن میں یکتا بن گئی اور اپنے انداز میں منفرد ہو گئی اس فن کے طالب کا اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں اور نہ ہی اس سے استفادہ کیے بغیر کسی کی مجال ہے اس تالیف نے لوگوں میں اس قدر مقام حاصل کر لیا کہ اس کا نام ہی الکتاب رکھ دیا اور جب بھی کوئی صاحب فن مطلق طور پہ الکتاب کا لفظ بولے گا تو اس سے اس کی مراد سیبویہ کی یہ کتاب ہی ہوگی مبرد سے جب کوئی یہ کتاب پڑھنے کی فرمائش کرتا تو اسے جواب دیتے تو کبھی سمندر پر سوار ہوا ہے یعنی یہ کتاب اتنی عظیم القدر اور اس کا سمجھنا اتنا مشکل ہے
۔ابوعثمان مازنی کہتے ہیں کہ جو کوئی علم نحو سیبویہ کے بعد کوئی اس سے بڑی کتاب لکھنا چاہتا ہے اسے شرم کرنی چاہیے اگر یہ کتاب نہ ہوتی تو شاید کوئی سیبویہ کا نام بھی نہ نہ جانتا ہوتا۔

وفات[ترمیم]

شیراز کی بیضاء نامی بستی میں میں چالیس سال رہا اور وہیں پر 180ھ میں وفات پائی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/13385 — بنام: ʿAmr ibn ʿUṯmān Sībawayh
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb130768193 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. تاریخ ادب عربی احمد حسن زیات صفحہ 469شیخ محمد بشیر اینڈ سنز اردو بازار لاہور