سیتو مادھو راؤ پگڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیتو مادھو راؤ پگڈی
معلومات شخصیت
پیدائش 27 اگست 1910  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نلنگا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 14 اکتوبر 1994 (84 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  مؤرخ،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

سیتو مادھو راؤ پگڈی[1] (27 اگست 1910ء – 14 اکتوبر 1994ء) اردو، فارسی، سنسکرت اور تاریخ کے عالم تھے۔ وہ عوام و خواص کو اردو شعر و ادب سے واقف کرانے والے ادیبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

سوانح[ترمیم]

سابق ریاست حیدرآباد کے باشندے تھے۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ الہ آباد میں کچھ عرصہ ریسرچ اسکالر کے طور پر کام کرنے کے بعد وطن لوٹ آئے اور سرکاری ملازمت اختیار کی۔ 1948ء میں آئی۔ ای۔ ایس کرنے پر ریاست حیدرآباد میں مالیات کے جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔ پولیس ایکشن اور ریاست حیدرآباد کے سقوط کے بعد پہلے صوبہ ممبئی اور پھر ریاستوں کی لسانی تشکیل کے بعد ریاست مہاراشٹر کی سول سروس میں آ گئے اور تعلیمات کے سکریٹری مقرر ہوئے۔ ساہتیہ سنسکرتی منڈل (بورڈ آف لٹریچر اینڈ کلچر) کے سکریٹری اور مہاراشٹر کے مدیر مسئول کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے انہیں اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کے استعمال کے بھرپور مواقع حاصل ہوئے۔ اس دوران میں انہوں نے صوفی مسلک پر ایک کتاب لکھی۔

انہوں نے اردو کی خودنوشت سوانح عمریوں پر مضامین لکھے اور فردوسی کے شاہنامہ سے ماخوذ حکایتوں کو بھی مراٹھی میں منتقل کیا۔

ان کی کتاب ”مرزا غالب اور اس کی اردو غزلیں“ میں حالی کی ”یادگار غالب“ کی مدد سے غالب کی حیات و شاعری اور آغا محمد باقر دہلوی کی شرح کی مدد سے غالب کی غزلوں کی تشریح کی گئی ہے جسے ترجمہ نہیں کہا جا سکتا۔ 1982ء میں انہوں نے مہاراشٹر اردو اکادمی کے لیے اقبال کی بانگ درا کو بھی اسی طرح مراٹھی میں منتقل کیا ہے۔ 1969ء میں انہوں نے اپنی سوانح عمری "جیون سیتو" کے نام سے لکھی ہے

پگڈی کو شیواجی مہاراج، مرہٹہ سلطنت اور مغل مرہٹہ تعلقات کے موضوعات سے خصؤصی دلچسپی تھی جس کے تحت انہوں نے مغلیہ دور کی فارسی تواریخ کو مراٹھی میں منتقل کیا اور مستقل کتابیں بھی لکھیں۔

خصوصا قابل ذکر ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں پر ان کی ایک کتاب ”بھارتیہ مسلمان: شودھ آنی بودھ“ بھی اہم ہے۔

مہاراشٹر اردو اکادمی نے ان کی مراٹھی اردو خدمات کے لیے انہیں خصوصی انعام بھی دیا تھا۔ عمر کے آخری برسوں میں وہ نابینا ہو گئے تھے مگر لکھنے پڑھنے کا شوق ایسا تھا کہ کتابیں پڑھوا کر سنتے اور املا کرا کے مضامین لکھواتے تھے۔ ان کا انتقال 14 اکتوبر 1994ء کو ممبئی میں ہوا۔

تصنیفات[ترمیم]

  • صوفی سمپرادئے (1953ء)
  • مرزا غالب اور اس کی اردو غزلیں (1958ء)
  • اردو شاعری کا تعارف (1961ء)
  • منی کانچن (1961ء)
  • رنگ بیڑے کا چڑھتا ہے ایسی (1963ء)
  • فردوسی کی کہانیاں (1964ء)
  • سندری سما گئی من میں (1966ء)
  • نین تیرے جادوگر (1971ء)
  • ہری پہن کے ساڑی (1984ء)
  • مغل اور مراٹھی (1963ء)
  • مراٹھے اور اورنگزیب (1963ء)
  • ہندوی سوراجیہ اور مغل (1966ء)
  • شیوچرتر، ایک ابھیاس (1971ء)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. K. Venkateshwarlu, A slice of Marathi history, The Hindu, 9 May 2011.