سید اجمل شاہ بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بھڑائچی کئی سلسلوں سے وابستہ تھے۔ آپ سلسلہ چشتیہ جہانیہ و قادریہ و سہروردیہ میں سید جلال الدین بخاری المعروف بہ جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نے قاضی شیخ قوام الدین دہلوی سے بھی خرقہ خلافت پایا۔[1]

سید اجمل شاہ بہرائچی کی مزار مبارک
سید اجمل شاہ بہرائچی کی مزار کے احاطہ کی تصویر

سلاسل اربعہ[ترمیم]

آپ کو بے شمار سلاسل سے نسبت حاصل تھی۔ قاضی سید عبد المالک المعروف سید اجمل شاہ بہرائچی کو سسلسلہ چشتیہ نظامیہ [2]میں اجازت اپنے پیر و مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے اور انہیں خواجہ نصیرالدین روشن چراغ دہلوی سے انہیں سلطان المشائخ شیخ نظام الدین محمد بن احمد البداؤنی سے انہیں خواجہ فریدالدین گنج شکر سے حاصل تھی ۔[2]اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کی اجازت آپ کو سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے حاصل تھی انہیں حضرت شاہ رکن الدین عالم سے انہیں اپنے والد شیخ بہاؤالحق زکریا ملتانی سے انہیں شیخ شہاب الدین سہروردی سے ۔[2] اسی طرح سلسلہ کبوریہ میں سید اجمل شاہ کو اجازت حاصل تھی اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے انہیں اپنے دادا سید جلال الدین بخاری سے انہیں حمید الدین سمرقندی سے انہیں شمس الدین ابو محمد بن محمود بن ابراہیم الفرغانی سے انہیں عطایا ء الخالدی سے انہیں شیخ احمد سے انہیں بابا کمال جنیدی سے انہیں نجم الدین الکبری سے انہیں عمار یاسر سے انہیں شیخ الدین ابو نجیب سہروردی سے ۔سلسلہ قادریہ میں آپ کو اجازت اپنے مرشد سید جلال الدین مخدوم جہانیاں سے انہیں سید جلال الدین بخاری سے انہیں عبید غیبی سے انہیں ابوالقاسم فاضل سے انہیں شیخ ابوالمکارم فاضل سے انہیں قطب الدین ابوالغیث سے انہیں شیخ شمس الدین علی الافلح سے انہیں شیخ مشس الدین الحداد سے انہیں شیخ محی الدین ابو محمد سید عبد القادر جیلانی سے۔ سلسلہ مداریہ قلندریہ کی اجازت آپ کو شاہ بدرالدین بدیع الزماں شاہ مدار سے بغیر کسی واسطہ سے حاصل ہوئئی انہیں طیفور شامی سے انہیں عین الدین شامی سے ۔[2] اسی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں سید اجمل شاہ بہرائچی خلیفہ تھے شاہ عبد الحق کے وہ خلیفہ تھے خواجہ یعقوب چرخی کے اور وہ خلیفہ تھے خواجہ بہاؤالدین نقشبندی کے۔ تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ کے مصنف نے خواجہ عبد الحق امشتہر بہ محی الدین کے احوال میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سید اجمل شاہ بہرائچی سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ عبد الحق امشتہر بہ محی الدین کے خلیفہ تھے۔[3]

وفات[ترمیم]

قاضی سید عبد المالک المعروف بہ شاہ اجمل 25 رمضان 864ھ کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کا مزار بہرائچ بھارت میں شاہ نعیم اللہ بہرائچی کے مزار کے قریب واقع ہے۔

شاہ نعیم اللہ بہرائچی

اس شہربہرائچ کو علم وفن تزکیہ نفوس اور باطنی وروحانی تربیت کے اعتبار سے بھی مرکزیت حاصل رہی ہے، بڑے بڑے علما وصلحاء کے قدم مبارک یہاں پہنچے ہیں اور انھوں نے اپنے فیوض وبرکات سے اس سرزمین کو فیضیاب کیا ہے اور علم وادب کے چشمے بہائے ہیں، ان میں سید بڈھن بہرائچی، مولانا سید اجمل شاہ یہ وہ مشہور بزرگ ہیں جن سے ابراہیم شاہ شرقی کے دربار میں ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی کا مناظرہ ہوا تھا، مشہور بزرگ حضرت سید امیرماہ بھی یہیں آرام فرما ہیں[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://alhamdolillah.net/auliya/third/180Qazi/ShahAjma.htm
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 معمولات مظہریہ از شاہ نعیم اللہ بہرائچی
  3. تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ
  4. نورالعلوم کے درخشندہ ستارے صفحہ نمبر 19سن اشاعت 1432ھ بمطابق 2011ء ازامیر احمد قاسمیؔ فاضل دار العلوم دیوبند

* http://alhamdolillah.net/auliya/third/180Qazi/ShahAjma.htm* https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-qazi-syed-abdul-malik-shah-ajmal* معمولات مظہریہ از شاہ نعیم اللہ بہرائچی* آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ ازمرتب سید ظفر احسن بہرائچی مطبوعہ2015* نزهتہ الخواطر وبهجتہ المسامع والنواظر* تاریخ اولیاء،ابو الاسفارعلی محمد بلخی،صفحہ266،نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور

  • تاریخ نقشبندیہ ابوالعلائیہ
  • آئینہ اودھ از مولوی ابوالحسن مانکپوری