سید اجمل شاہ بہرائچی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قاضی سید عبدالمالک المعروف سید اجمل شاہ بھڑائچی کئی سلسلوں سے وابستہ تھے۔ آپ سلسلہ چشتیہ جہانیہ و قادریہ و سہروردیہ میں سید جلال الدین بخاری المعروف بہ جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نے قاضی شیخ قوام الدین دہلوی سے بھی خرقہ خلافت پایا۔

سید اجمل شاہ بہرائچی کی مزار مبارک
سید اجمل شاہ بہرائچی کی مزار کے احاطہ کی تصویر

آپ کو بے شمار سلاسل سے نسبت حاصل تھی۔سلسلہ نظامیہ میں آپ خلیفہ تھے مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے اور وہ خلیفہ تھے نصیرالدین چراغ دہلی کے۔ سلسلہ کبیریہ میں آپ خلیفہ تھے مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے وہ خلیفہ تھے شیخ شمس الدین ابومحمد کے وہ خلیفہ تھے شیخ قطب الخالدی کےوہ خلیفہ تھے شیخ احمد کےوہ خلیفہ تھے بابا بامجند کے وہ خلیفہ تھے شیخ نجم الدین کبیر کے۔ سلسلہ سہروردیہ میں آپ خلیفہ تھے مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے وہ خلیفہ تھے شیخ رکن الدین ملتانی کے وہ خلیفہ تھے شیخ صدرالدین ملتانی کےاور وہ خلیفہ تھےبہاؤالدین زکریا ملتانی کے۔سلسلہ مداریہ میں آپ خلیفہ تھےبدیع الدین شاہ مدار کے۔ سلسلہ قادریہ میں آپ خلیفہ تھے سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے وہ خلیفہ تھے شیخ محمد عیسیٰ کےوہ خلیفہ تھے شیخ ابوالمکارم فاضل کے وہ خلیفہ تھے قطب الدین وہ خلیفہ تھے شمس الدین ثانی کے وہ خلیفہ تھے شمس الدین علی حداد کے وہ خلیفہ تھے سید عبدالقادرجیلانی کے۔ اسی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں آپ خلیفہ تھے شاہ عبدالحق کے وہ خلیفہ تھے خواجہ یعقوب چرخی کے اور وہ خلیفہ تھے بہاؤالدین نقشبند کے۔

قاضی سید عبدالمالک المعروف بہ شاہ اجمل 25 رمضان 864ھ کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔ آپ کا مزار بہرائچ بھارت میں شاہ نعیم اللہ بہرائچی کے مزار کے قریب واقع ہے۔

شاہ نعیم اللہ بہرائچی

اس شہربہرائچ کو علم وفن تزکیہ نفوس اور باطنی وروحانی تربیت کے اعتبار سے بھی مرکزیت حاصل رہی ہے، بڑے بڑے علماء وصلحاء کے قدم مبارک یہاں پہنچے ہیں، اور انھوں نے اپنے فیوض وبرکات سے اس سرزمین کو فیضیاب کیا ہے اور علم وادب کے چشمے بہائے ہیں، ان میں سید بڈھن بہرائچی ، مولانا سید اجمل شاہ یہ وہ مشہور بزرگ ہیں جن سے ابراہیم شاہ شرقی کے دربار میں ملک العلماء قاضی شہاب الدین دولت آبادی کا مناظرہ ہوا تھا، مشہور بزرگ حضرت سید امیر ماہ بھی یہیں آرام فرما ہیں[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نورالعلوم کےدرخشندہ ستارے صفحہ نمبر 19سن اشاعت 1432ھ بمطابق 2011ء ازامیر احمد قاسمیؔ فاضل دار العلوم دیوبند