سید احمد بریلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید احمد بن سید محمد عرفان شہید بریلوی
سید احمد بریلوی

معلومات شخصیت
پیدائش 29 نومبر 1786ء 6 صفر بمطابق 1201ھ [1]
بریلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 مئی 1831ء بمطابق 24 ذیقعدہ 1246ھ [2]
بالاکوٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت برطانوی ہند
نسل سید
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سید احمد بریلوی (6 صفر 1201ھ/29 نومبر 1786ء - 24 ذیقعدہ 1246ھ/6 مئی 1831ء) کی پیدائش بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں ہوئی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پورے ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی مگر پنجاب اور پختون خواہ کے علاقوں میں سکھوں کا دور چل رہا تھا۔ آپ کا کردار اس خطے کی مذہبی تاریخ میں بہت اہم ہے۔ آپ کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش،اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ برصغیر کے مسلم عسکریت پسندوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور دیوبندی اور اہل حدیث مسالک سے تعلق رکھنے والی تمام جہادی تنظیموں کے مشترکہ بزرگ ہیں۔

ولادت[ترمیم]

بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں 6 صفر 1201ھ/29 نومبر 1786ء کو آپ کی ولادت ہوئی۔ [1] آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: سید احمد بن سید محمد عرفان بن سید محمد نور بن سید محمد ہدیٰ بن سید علم اللہ بن سید محمد فضیل۔ کئی واسطوں سے آپ کا نسب حسن مثنّیٰ بن امام حسن بن علی ابن ابی طالب تک پہنچتا ہے۔ حسن مثنّیٰ کی شادی اپنے چچا امام حسین کی صاحبزادی فاطمہ صغریٰ سے ہوئی تھی، اس لحاظ سے سید صاحب کا خاندان حسنی حسینی کہلاتا ہے۔[3]

تعلیم[ترمیم]

چار سال کی عمر میں آپ کی تعلیم شروع کی گئی، لیکن آٹزم (Autism)کا مریض ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئے۔ استاتذہ کی کوششوں کے باوجود قرآن مجید کی چند سورتیں ہی یاد اور مفرد و مرکب الفاظ لکھنا سیکھ سکے۔

ملازمت[ترمیم]

بارہ سال کی عمر میں والد ماجد مولانا محمد عرفان صاحب کا وصال ہو گیا۔ چنانچہ حالات کے پیش نظر سولہ سترہ برس کی عمر میں روزی کمانے کی خاطر اپنے سات عزیزوں کے ساتھ لکھنؤ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 1811ء میں امیر خان نامی لشکری کی فوج میں شامل ہوئے۔ امیر خان ابتدائی انیسویں صدی کا معروف افغان لشکری تھا جس نے کرایہ کے سپاہیوں کو بھرتی کر کے اچھا خاصہ لشکر بنا لیا تھا۔ان کا کام لوٹ مار تھا، جو انہیں رقم دیتا یہ اس کے لیے لڑتے تھے[4]۔ یہ ایک عرصہ مرہٹوں کے ساتھ رہے اور جنگوں میں ان کے مخالفین کے لشکر اور دیہات وغیرہ میں لوٹ مار کرتے[5]۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک ایک کر کے تمام مقامی راجاؤں کو شکست دے دی تو امیر خان نے انگریزوں سے معاہدہ کر کے جاگیر کے بدلے ہتھیار ڈال دیے[4]۔ سید احمد سات سال امیر خان کے ساتھ کام کرنے کے بعد دوبارہ بے روزگار ہو گئے۔ چار ماہ بعد سید صاحب نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی خدمت میں حاضری کا ارادہ کیا۔ اسی غرض سے اپنے ساتھیوں کو تیار کرتے رہے، پھر خود تن تنہا دہلی روانہ ہو گئے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے سید صاحب کے خاندان دیرینہ مراسم تھے۔ لہذا ملاقات پر بہت خوش ہوئے اور اپنے بھائی شاہ عبد القادر دہلوی کے پاس ٹھہرایا۔

ذہنی انقلاب[ترمیم]

بےروزگاری کی وجہ سے سید احمد کے لاشعور میں  بھی امیر خان کی طرح ریاست قائم کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ چونکہ آپ مذہبی عبادات کی سختی سے پابندی کرتے تھے لہذا اس ریاست کا مذہبی تصور ہی آپ کے ذہن میں ابھرا جو جہاد کے ذریعے قائم ہو سکتی تھی۔ انہی دنوں حجاز میں وہابی تحریک کی عسکری مہمات کی خبریں برصغیر آرہی تھیں۔ اس ددوران میں ان کی زندگی میں اہم ترین موڑ آیا جو شاہ اسماعیل دہلوی اور مولوی عبد الحئی بڈھانوی کا اپنے آپ کو ان کی مریدی میں دینا تھا۔ وہ آپ کے اچھوتے خیالات سے متاثر ہوئے تھے۔ لیکن یہ دونوں سید احمد سے ہرلحاظ سے بہتر تھے۔ چنانچہ سید احمد میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ خدا کی طرف سے چنے ہوئے اور ایک مشن پر مامور کیے گئے ہیں۔ مذہبی دنیا میں نیم خواندہ کی وجہ سے کوئی مقام نہ ہونے اور بے روزگاری نے اس خیال کو اور ہوا دی۔ نیم خواندہ حضرات میں مذہب یا آئیڈیالوجی کے نام پر اقتدار کے حصول کی نفسیات بہت پیچیدہ ہے۔ یہ لوگ خود راستی کے احساس کا شکار ہو کر غلطیاں کیے جاتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں اس کی ایک مثال کمبوڈیا کے پول پاٹ اور عراق و شام کے ابو بکر بغدادی کی ہے۔

وہ خود صرف عسکری تجربہ رکھتے تھے لہذا دین کی نئی تشریح اور ان کے موقف کو دینی اصطلاحات میں بیان کرنے کا کام شاہ اسماعیل دہلوی نے اپنے ذمے لیا۔ ان سالوں میں آپکی سوچ میں وہابی طرز کی تبدیلی کی ابتدا اس خیال سے ہوئی کہ برصغیر میں توحید کا تصور مسخ ہو گیا ہے۔ حجاز کی وہابی تحریک کی طرح ضرورت ہے کہ اسے دوبارہ مسلمانوں میں خالص  اور  اصل شکل میں راسخ کیا جائے اور جن عوامل نے اسلام کو کمزور کر دیا ہے انہیں دور کیا جائے۔ ان میں صوفی اور شیعہ عقائد خصوصیت سے آپکے نشانے پر تھے۔ نیز آپ یہ سمجھتے تھے کہ جہاد تصوف کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ہر مسلمان کے لیے ہر حال میں عسکری جہاد لازم ہے تاکہ آسمانی برکتوں (مال غنیمت) کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ اپنی تحریک کو مسلمان عوام میں روشناس کرانے کی غرض سے آپ   نے  1818ء  اور 1819ء میں دوآبہ کے علاقوں کا دورہ کیا اور غازی آباد، مراد نگر، میرٹھ، سدھانہ، کاندھیلہ، پھولت، مظفر نگر، دیوبند، گنگوہ، نانوتہ، تھانہ بھون، سہارنپور، روھیل کھنڈ، لکھنؤ اور بریلی گئے[6]۔

شیعہ و صوفی مخالف مہم[ترمیم]

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی عزاداری کو شرک سمجھتے تھے۔ عرب دنیا میں 1802ء میں وہابی لشکر نے کربلا اور نجف پر حملہ کیا اور وہاں ائمہؑ کے مزارات کی تخریب کے ساتھ پانچ ہزار شیعہ مسلمان قتل کیے تھے۔1804ء میں اس لشکر نے مدینہ پر بھی حملہ کیا اور روضۂ رسولؐ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے متاثر ہو کر 1820ء میں سید احمد بریلوی نے بھی اپنے مریدوں کو عزاداری پر حملے کے لیے اکسانا شروع کیا اور کہا کہ تعزیہ توڑنے کا ثواب بت شکنی جیسا ہے۔ شاہ عبد العزیز اپنی زندگی کے آخری سالوں میں تھے، ان کے ہاں نہ صرف محرم میں مجلس ہوتی تھی[7] بلکہ وہ بی بی فاطمہؑ کی نیاز بھی دیا کرتے اور انہوں نے اپنی کتاب "سر الشہادتین " میں کربلا کی یاد منائے جانے کو خدا کی طرف سے پیدا کردہ اسباب شہرت قرار دیا تھا۔ سید احمد نے ان کے گھر میں نیاز دلانے کے سلسلے کو بند کروا دیا۔ اس سے پہلے محرم میں تعزیہ، اہلبیت کا ذکر اور نیاز شیعہ و سنی کے لیے مشترک عمل تھا۔سید احمد بریلوی نے سہارن پور میں تعزیے کو آگ لگوا دی۔ اہل تشیع میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اس تیاری کی خبر ملنے پر انگریزوں نے سید احمد اور ان کے مریدوں کو سہارن پور سے علاقہ بدر کر دیا۔ سید احمد جب بریلی گئے تو وہاں بھی عزاداری کے خلاف جلسے اور تقریریں کیں جن کے رد عمل میں اہل تشیع نے تبرا کا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔ صفوی دور کی شروع کردہ بدعت ہندوستان میں بھی آنے والی تھی مگر اودھ کے نواب غازی الدین حیدر اور آیت اللہ سید دلدار علی نقویؒ نے اہل تشیع کو اس حرکت سے باز رکھا۔ 1817ء سے 1820ء تک مختلف شہروں میں پھر کر فساد پھیلانے کے بعد چار سو عقیدت مندوں کو لے کر سید احمد1821ء میں حج کرنے چلے گئے۔راستے میں بنارس کے مقام پر اہلسنت کے زیر انتظام امام بارگاہوں پر حملہ کیا اور تعزیے جلائے۔ پٹنہ میں بھی یہی کام کیا اور وہاں کے انگریز مجسٹریٹ نے اہل تشیع کے احتجاج کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی[8]۔ ان لوگوں نے اپنی دانست میں خدا کی شان بیان کرنے کے لیے رسول اللہ(ص) کے بارے میں ایسی تعبیرات استعمال کیں جن کو روایتی مسلمان توہین آمیز سمجھتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد سنی علما نے ان کے افکار کے خلاف رسالے لکھے، جن میں علامہ فضل حق خیر آبادی، مولانا عبدالمجید بدایونی، مولانا فضل رسول بدایونی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا محمد موسیٰ اورمولانا ابوالخیر سعید مجددی نمایاں تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی نےانکےرد میں ایک کتاب ''تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ''اورشیعہ عالم سید علی عسکری نے "ازالہ الغئی فی رد عبدالحئی" لکھی۔ان علما کے پیروکار بعد میں  امام احمد رضا خان بریلوی کی نسبت سے بریلوی کہلائے۔ یہ سلسلہ اہلسنت میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کی تقسیم کا سبب ہوا۔

سفر حج اور تحریک مجاہدین[ترمیم]

1821ء میں انہوں نے اپنے مریدوں کے ساتھ حج  کیا، اس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں اس اہم رکن کا احیاء کیا جائے۔ کیوں کہ سمندروں پر یورپی اقوام کے قبضے اور بحری سفر کی مشکلات کی وجہ سے بہت کم ہندوستانی مسلمان حج پر جایا کرتے تھے اور غربت اور بے روزگاری عام تھی۔ ان حالات کے پیش نظر کچھ علما نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ ان حالات میں استطاعت نہ رکھنے والوں پر حج فرض نہیں  ہے۔ اس لیے سید احمد نے باجماعت حج کیا اور وہاں شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک جس کو عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے، کے اثرات اپنے ساتھ لائے۔ انہی کی سوچ کو اپنی کتب میں ڈھال کر پھیلایا۔ 1823ء  میں حج سے واپسی کے بعد آپ نے ایک بار پھر ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور سات ہزار کے قریب بے روزگار لوگ بیعت کرکے آپ کی تحریک میں شامل ہوئے۔ اس جماعت کو تحریک مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تحریک مجاھدین اور سکھوں کے خلاف جہاد[ترمیم]

سیداحمد نے بے روزگار مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جمع تو کر لی تھی لیکن ان کو کھلانے کے لیے دولت ان کے پاس نہ تھی۔ان کی جماعت کوئی تجارتی کمپنی تو تھی نہیں، مال غنیمت ہی واحد حل رہ گیا تھا۔ اس مرحلے پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا ہندوستان انگریزی قبضے کے بعد دارالحرب ہے یا دارالسلام؟ سید احمد اور شاہ اسماعیل دہلوی کے لیے ہندوستان دارالحرب تھا اور اس لیے مسلمانوں کے لیے جہاد لازمی تھا:۔

موجودہ ہندوستان کا بڑا حصہ دارالحرب بن چکا ہے، اس کا مقابلہ دو سو تین سو برس پہلے کے ہندوستان سے کرو آسمانی برکتوں کا کیا حال تھا؟---آسمانی برکتوں کے سلسلے میں روم اور ترکی سے ہندوستان کا مقابلہ کرکے دیکھ لو"[9]

اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اسلامی ممالک کے بارے میں معلومات محدود تھیں۔ انیسویں صدی میں ترکی ایک زوال پزیر سلطنت تھی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ جہاد کس کے خلاف ہو؟انگریزی عمل داری میں وہ جہاد اس لیے نہیں کرسکتے تھے کہ انگریز سیاسی لحاظ سے بہت طاقت ور ہو چکے تھے اور ان کے خلاف کامیابی کے کوئی امکانات نہیں تھے اور نہ انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے انہیں کسی قسم کی مالی امداد مل سکتی تھی۔ البتہ انگریز ان کی بھرتیوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر رہے تھے اور اس مختصر جماعت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے جو ان کی "لڑاو اور حکومت کرو" کی پالیسی کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو رہی تھی۔ انگریز اس وقت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ اکبر کے زمانے سے ہندوستان کے معاشرے کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے اور کتب لکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ عرب ممالک میں وہابی تحریک اور ہندوستان میں شاہ ولی الله کے خاندان کی تحریک مسلمان معاشروں کو اسی طرح کھوکھلا کرے گی جیسے یورپ میں 1522 ء میں چھڑ کر 1618ء سے 1648 ء تک عروج پر پہنچنے والی فرقہ وارانہ جنگوں نےمغربی معاشروں کو کمزور کیا تھا۔ لہٰذا جس طرح انہوں نے حجاز میں وہابی تحریک کی حمایت کی اسی طرح ان حضرات کو بھی اپنی نظر میں رکھتے ہوئے کھلی چھٹی دی۔ بات واضح تھی، سید احمد جیسے انگریزوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے البتہ ان کو اپنے جاسوسوں کی مدد سے ورغلا کر اس زمانے میں انگریزوں کے دشمن سکھوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا، نیز ان کی مدد سے مسلمانوں میں تفرقہ تو ضرور پیدا ہو ہی رہا تھا۔ سید احمد کو لشکر سازی میں امیر خان کے ساتھ ساتھ رامپور اور گوالیار کے انگریز دوست راجاؤں نے بہت مدد فراہم کی۔ اس طرح ان کو سہولت کار کے طور پر استعمال کر کے انگریز اس ساری تحریک کو کنٹرول کر رہے تھے۔ سید احمد شمالی ہندوستان میں لشکر بنا کر جہاد کے لیے راجستھان، بلوچستان اور افغانستان کا تین ہزار میل لمبا سفر کر کے رنجیت سنگھ سے لڑنے پختون علاقوں میں پہنچ گئے۔ اس وقت سندھ میں شیعہ تالپور خاندان انگریزوں سے بر سر پیکار تھا مگر ان مجاہدین نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ شاہ اسماعیل دہلوی کے الفاظ میں:۔

"انگریزوں سے جہاد کرنا کسی طرح واجب نہیں۔ ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح کی آزادی ہے بلکہ ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں"[10]۔

ادھر افغان حکمران طبقہ بھی ان حضرات سے چوکنا ہو گیا تھا ، ان کی تشویش کو دور کرنے کے لیے سید احمد نے شہزادہ کامران کے نام خط میں لکھا: ۔

"اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اسے کفر و شرک سے پاک کیا جائے ، اس لیے کہ میرا اصلی  مقصد ہندوستان پر جہاد ہے نہ کہ خراسان (افغان سلطنت کا مرکز) میں سکونت اختیار کرنا"[11]۔

اس خط سے واضح ہے کہ سید احمد ایک تو یہ چاہتے  تھے کہ افغان حکمران ان کو اپنے ملک کے لیے خطرہ سمجھ کر سکھوں سے اتحاد نہ کر لیں، دوسرے ان کی توجہ  ہندوستان میں انگریزوں سے لڑنے کی بجائے  وہاں محمد ابن عبد الوہاب کی طرز پر شرک و کفر کے نام پر مسلمانوں کے اندر جھگڑا کرنے پر  تھی، جیسا کہ پختون علاقوں میں آنے سے قبل وہ یہی کام کرتے تھے۔ البتہ اس خط کو بنیاد بنا کر برصغیر کی آزادی کے بعد ان کو  تحریک آزادی کے رہنماؤں میں شامل کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔حالانکہ انہوں نے اگر انگریزوں کے خلاف کچھ کرنا ہوتا تو اسی زمانے میں بنگال میں انگریزوں کے ظالمانہ "بندوبست دوامی" کے قانون کی وجہ سے مسلمان ہاریوں اور کسانوں کا برا حال تھا اور وہ فرائضی تحریک کا حصہ بن کر انگریزوں اور ہندوؤں کےظلم  کے خلاف کھڑے ہوچکے تھے۔سید احمد نے الٹا ان غرباء کو بھرتی کر کے سکھوں کے خلاف استعمال کیا جس سے انگریزوں کا دوہرا فائدہ ہوا ۔

طالبانی ریاست[ترمیم]

سید احمد کی پہلی جنگ 21 دسمبر 1826ء کو بمقام اکوڑہ ہوئی اور اس میں نہ صرف انہیں کامیابی ہوئی بلکہ مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ اس کامیابی نے ان کے حوصلے بڑھا دئے اور سرحد کے قبائل میں اس فتح نے ان کے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا۔ اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ انتظامات اور دوسرے امور کے لیے باقاعدہ تنظیم ہو تاکہ شریعت کے مطابق باقاعدہ فیصلے کیے جائیں۔ اس کی روشنی میں11 جنوری 1827ء کو آپ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور آپ کو امیر المومنین منتخب کرکے خلیفہ کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔ یہ کوئی ایسی ریاست نہیں تھی جو انسانی سرمائے کو استحکام اور آزادی کی فضا مہیا کر کے عوام کی زندگی میں بہتری لاتی، غربت اور بیماریوں کا خاتمہ کرتی۔ اس زمانے میں مغرب میں صنعتی اور طبی انقلاب کا آغاز ہو چکا تھا جس نے آگے چل کر دنیا بھر کی منڈیوں پر قبضہ جمایا، تحریک مجاہدین کے نیم خواندہ امیر کو بدلتی دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔   پشتون علاقوں میں انہوں نے فقہ حنفی کو  وہابی عقائد کے ساتھ ملا کر نافذ کیا۔ پختون تہذیب پر حملے کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم دیا کہ کوئی بالغ لڑکی شادی کے بغیر نہیں ہونی چاہئیے۔سید احمد کے کارندے باجماعت نماز میں شریک نہ ہو سکنے والے شخص کو کوڑے لگاتے۔مارنے پیٹنے اور کوڑے مارنے کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ اگر کوئی مجاہد کسی دیہات میں چلا جاتا تو وہاں افراتفری اور بھگدڑ مچ جاتی تھی۔ سزا دینے کے معاملے میں انتہائی تشدد سے کام لیا گیااور یہاں تک ہوا کہ لوگوں کو درختوں کی شاخوں پرلٹکا  دیا جا تا تھا۔ عورتوں میں بھی جو نماز چھوڑ دیتی تھیں انہیں زنان خانے میں سزائیں دی جاتی تھیں۔ انہوں نے   بنگال و بہار سے لائے گئے کالے مجاہدین کی مقامی لڑکیوں سے زبردستی شادیاں کیں۔ یہاں تک ہوا کہ کوئی لڑکی جارہی ہے اور کسی مجاہد نے اسے پکڑ لیا اور مسجد لے جاکر زبردستی نکاح کر لیا۔ ایک ہندوستانی   نے جب اس طرح سے ایک خوشیکی سراد ر لڑکی سے شادی کی تو اس نے اپنے مخالف خٹک قبیلے کے سردار سے درخواست کی کہ اس کی مدد کرے، اس پر خٹک سردار نے قبیلے کے سامنے اپنی لڑکی کا دوپٹہ اتار کر یہ عہد کیا کہ وہ جب تک پٹھان کی عزت کا بدلہ نہیں لے گا چین سے نہیں بیٹھے گا[6]۔

بغاوت اور قتل[ترمیم]

پختون علاقوں میں عوام آہستہ آہستہ ان کے خلاف ہو گئے  تو شاہ اسماعیل دہلوی نے کہا: ۔

"آن جناب (سید احمد بریلوی) کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہو گئی ہے۔ جس کسی نے آں جناب کی امامت قبول کرنے سے انکار کیا تو وہ باغی ہے، اس کا خون حلال ہے اور اس کا قتل کفار کے قتل کی طرح عین جہاد ہے اور اس کی ہلاکت تمام اہل فساد کی ہلاکت کہ یہی اللہ کی مرضی ہے۔ چوں کہ ایسے اشخاص کی مثال حدیثِ متواترہ  کی رو سے  جہنم کے کتوں اور ملعون شریروں جیسی ہے۔ یہ اس ضعیف کا مذہب ہے، پس اس ضعیف کے نزدیک اعتراض کرنے والوں کے اعتراض کا جواب تلوار کی ضرب ہے"[12]۔

آج طالبان اور داعش سمیت تمام عسکریت پسند ان افکار سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔ سید احمد کے سیاسی اور مذہبی اقتدار نے سرحد میں ان کی زبردست مخالفت پیدا کردی۔ بہت جلد وہ سکھوں سے زیادہ پختون سرداروں سے مصروف جنگ ہو گئے۔ اور جب ان میں سے کچھ نے ان کی اطاعت نہیں کی تو انہیں منافق،  ضعیف الاعتقاد  اور  ملعون کہنا  شروع کر دیا۔ سرحد کے سرداروں کا اپنا یہ نقطہ نظر تھا کہ وہ سید احمد کی مدد سے سکھوں کو نکال کر اپنی خود مختار ی بحال کر لیں گے۔ مگر جب انہوں نے  خود کو امام اور خلیفہ منتخب کر لیا تو ان کے لیے ان میں اور سکھوں میں کوئی فرق نہ رہا۔ اگرچہ سید احمد شہید خود کو ایک برتر مذہبی مقام پر فائز سمجھتے تھے۔ وہ فتح کی  خوش خبری، مال غنیمت کے حصول اور رحمت الہیٰ کی برکتوں کا ذکر کرتے تھے۔ مگر سرداروں کے لیے ان سے زیادہ اقتدار عزیز تھا جو وہ اس طرح سے ان کے حوالے کرنے پر تیار نہ تھے۔ سردار علما کو کسی بھی صورت برتر سماجی حیثیت دینے پر تیار نہ تھے۔ خادی خان، ایک پختون سردار کے مطابق ریا ست کی دیکھ بھال کرنا سرداروں کا کام ہے، ملا  زکوٰۃ اور خیرات کے کھانے والے ہیں اور انہیں ریاست کے معاملات کا شعور نہیں[13]۔

پشاور  کے روایتی  سنی علما نے ان  کے خوارج ہونے کے فتوے جاری کیے۔ جب سرحد کے سرداروں کے خلاف معرکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سید احمد نے مسلمانوں کے علاقوں پر حملے کو اس لیے جائز کہا کہ وہاں فسق و فجور اورفحاشی تھی۔ لوگ شرع سے ہٹے ہوئے تھے اور ان میں جاہلیت کی رسومات تھیں[14]۔ آخر کار 1831ء میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کو فرار اختیار کرتے ہوئے بالاکوٹ  کے مقام پر سکھوں نے مقامی  پختونوں  کی مدد سے  قتل کیا اور آپ وہیں دفن ہوئے۔  

اثرات[ترمیم]

سید احمد بریلوی اگرچہ  قتل ہو چکے تھے لیکن ان کی فرقہ واریت کی میراث اگلی نسلوں کو منتقل ہو گئی اور دو سو سال سے فرقہ وارانہ تشدد ایک تسلسل سے جاری ہے۔  ایسے تنازعات پر 22 مارچ 1840ء، کی ایک خبر ملاحظہ کریں: ۔

’’سنا گیاکہ عشرۂ محرم میں باوجود اس کے کہ ہولی کے دن بھی تھے اس پر بھی بسبب حسن انتظام صاحب جنٹ مجسٹریٹ اور ضلع مجسٹریٹ کے بہت امن رہا۔ کچھ دنگا فساد نہیں ہوا ۔ صرف ایک جگہ مسمات امیر بہو بیگم بیوہ شمس الدین خان کے گھر میں، جو شیعہ مذہب ہے اور وہاں تعزیہ داری ہوتی ہے ،کچھ ایک سنی مذہبوں نے ارادہ ءفساد کیاتھا لیکن کچھ زبانی تنازع ہوئی تھی کہ صاحب جنٹ مجسٹریٹ کے کان تک یہ خبر پہونچی ۔ کہتے ہیں کہ صاحب ممدوح جو رات کو گشت کو اٹھےتو خود وہاں کے تھانہ میں جاکے داروغہ کو بہت تاکید کی اور کچھ اہالیان پولس تعین کیے کہ کوئی خلاف اس کے گھرمیں نہ جانے پاوے۔ سو خوب انتظام ہو گیا اور پھر کہیں کچھ لفظ بھی نزاع کا نہ سنا گیا ‘‘[15]۔

رنجیت سنگھ کی وفات اور پنجاب کے انگریزوں کے ہاتھوں فتح ہونے کے بعد انگریزوں نے سید احمد کی تحریک مجاہدین کی باقیات کا صفایا کر دیا: ان کی پشت پناہی کا مقصد ختم ہو چکا تھا۔ ان کے مریدوں  نے ان کے بارے میں عجیب و غریب مگر غیر قابل تصدیق کرامات وضع کیں جن کو  سو سال بعد مرزا حیرت دہلوی جیسوں نے اپنی کتابوں  میں درج کیا۔ حنفیت، تصوف، وہابیت اور عسکریت پسندی کا یہ امتزاج بعد ازاں 1867ءمیں دار العلوم دیوبند کے قیام  کی شکل میں سامنے آیا۔ دیوبندی مکتب فکر میں سید احمد بریلوی کی سوچ کو اپنانے کا رجحان اس مکتب فکر کی تشکیل کے ابتدائی دنوں سے موجود تھا۔  یہ رجحان پیر امداد الله مہاجر مکی،  مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا قاسم نانوتوی کی تحریروں میں دیکھاجا سکتا ہے۔ پیر امداد الله مہاجر مکی بھی نیم خواندہ تھے اور ان کے بقول وہ  سید احمد بریلوی کو خوابوں میں دیکھتے رہے[8]، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے ذہن  پر  سید احمد بریلوی  کا اثر کتنا گہرا تھا؟

انگریزوں نے اس گروہ کا بڑی دقت سے مطالعہ کیا اور کئی مفصل رپورٹس مرتب کی تھیں۔ جب انگلستان عالمی طاقت نہ رہا اور اس کی جگہ امریکا نے لے لی تو اسے ایک بار پھر سید احمد بریلوی کی تحریک مجاھدین کی ضرورت پڑی جب روس کے خلاف جنگ کے لیے افغانستان کا انتخاب کیا گیا۔ سکھوں کے خلاف جنگ کی ہو بہو نقالی کے لیے افغان جہاد کے سلسلے میں جن افراد کو اتارا گیا انکا مرکز اکوڑا خٹک کا مدرسہ تھا۔ یہی وہ قصبہ تھا جہاں سید احمد بریلوی نے پہلی فتح حاصل کی تھی۔ موجودہ دور میں برصغیر کی جہادی تنظیموں کی سید احمد بریلوی سے وابستگی غیر معمولی ہے۔ 1990ء میں جب پاکستان نے جہاد کشمیر کا آغاز کیا تو مجاھدین کے لیے ٹریننگ کیمپ بالا کوٹ میں قائم کرنے کا مقصد بھی ان میں سید احمد بریلوی کی سوچ پیدا کرنا تھا۔ اگرچہ سید احمد بریلوی مزارات اور مکانی مناسبتوں کو شرک قرار دیتے تھے لیکن جو مقامات ان سے منسوب تھے انکا نفسیاتی اثر جہاد افغانستان و کشمیر کے منصوبہ سازوں کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

سید صاحب کی مندرجہ ذیل تصانیف کا علم ہو چکا ہے:

  1. حقیقت الصلاۃ :یہ دراصل سید صاحب کی نماز کے اسرار اور سورہ فاتحہ کی تفسیر پر مشتمل دو تقریروں کا مجموعہ ہے۔ یہ رسالہ حقیقت الصلاۃ کے نام سے 1237ھ میں شائع ہوا، پھر مطبع اسرار کریمی، الہ آباد سے 1949ء میں بعنوان: "انوار الصلاۃ" شائع ہوا۔[16] یہ دراصل سنہ 1235ھ میں لکھنؤ کے چند جید علما کے سامنے کی گئی تقریر ہے۔
  2. رسالۂ اشغال: یہ رسالہ سید صاحب نے شہادت سے چار سال پیشتر ہفتم ذی الحجہ 1242ھ کو بمقام تختہ بند (علاقہ سرحد) میں طالبین سلوک کے لیے اذکار و مراقبات اور شجراتِ سلاسل کا یہ مجموعہ مرتب کیا تھا۔ سید صاحب کے مجموعۂ ملفوظات صراط مستقیم میں جو اذکار و مراقبات مذکور ہیں، وہی اذکار ومراقبات اس رسالہ میں مختصر مگر جامع انداز میں دیے گئے ہیں۔ البتہ ایک جزوی خصوصیت اس رسالہ کی یہ ہے کہ اس میں سید صاحب نے سلاسل طریقت کے شجرات بھی شامل فرما دیے ہیں۔ اس رسالہ کا اردو ترجمہ سید نفیس الحسینی نے کیا اور پہلی بار سید احمد شہید اکیڈمی- لاہور سے ذیقعدہ 1398ھ مطابق اکتوبر 1978ء میں شائع ہوا۔
  3. مکاتیب سید احمد شہید: یہ سید صاحب کے مکتوبات کے ایک خطی نسخے کا عکسی ایڈیشن ہے جو پہلی بار ذیقعدہ 1395ھ مطابق نومبر 1975ء میں مکتبہ رشیدیہ لمیٹیڈ -لاہور سے شائع ہوا۔ سید صاحب کی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس مجموعہ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔
  4. تنبیہ الغافلین: یہ رسالہ فارسی میں تھا، پہلے کلکتہ پھر لاہور میں شائع ہوا، اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔[17] محمد عبد الحلیم چشتی کی تحقیق کے مطابق اس رسالہ کی نسبت سید صاحب کی طرف محتاج تحقیق ہے۔[18]
  5. رسالہ در نکاح بیوگاں: یہ رسالہ فارسی میں ہے اور ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔[19] محمد عبد الحلیم چشتی کی تحقیق کے مطابق اس رسالہ کی نسبت سید صاحب کی طرف صحیح نہیں۔[18]
  6. رسالہ در نماز و عبادات: اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ ٹونک کے ایک مجموعہ میں ہے، ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔[20]
  7. صراط مستقیم: یہ دراصل سید صاحب کے ملفوظات کا مجموعہ ہے جو شاہ محمد اسماعیل دہلوی نے مرتب کیا ہے، ابتدائی دو باب عبد الحی بڈھانوی کے مرتب کردہ ہیں۔ سید صاحب پیش نظر مدعا بیان فرماتے، اسے سن کر شاہ اسماعیل دہلوی یا عبد الحی بڈھانوی لکھ کر لے آتے، اگر ان کی عبارت اظہار مدعا کے لیے کفایت نہ کرتی تو فرماتے کہ پھر لکھیے، بعض مطالب کو پانچ پانچ مرتبہ لکھوایا۔[21] یہ 1233ھ کی تالیف ہے۔[22] سب سے پہلے 1238ھ مطابق 1822ء میں شیخ ہدایت اللہ کے مطبع سے کلکتہ میں شائع ہوئی۔[18]

سلسلہ شیوخ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سید احمد بریلوی کے رسائل و مکتوبات

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب مخزنِ احمدی از غلام رسول مہر ﴿ص ١2﴾
  2. سیرت سید احمد شہید از ابو الحسن علی ندوی ﴿ج 2﴾
  3. سیرت سید احمد شہید از ابو الحسن علی ندوی ﴿ج 1ص 110﴾
  4. ^ ا ب ڈاکٹر مبارک علی،"در در ٹھوکر کھائے"، فکشن ہاؤس لاہور (2005)
  5. ڈاکٹر مبارک علی،"آخری عہد مغلیہ کا ہندوستان"، تاریخ پبلیکیشنز، لاہور (2016)۔
  6. ^ ا ب ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ"، حصہ اول، باب 11، ادارہ مطالعہء تاریخ ، لاہور
  7. فتاویٰ عزیزی میں 1238 ہجری یعنی سن 1818ء میں ایک سوال کے جواب میں ایسی مجالس کے اہتمام کا ذکر موجود ہے
  8. ^ ا ب Barbara Metcalf, "Islamic revival in British India: Deoband, 1860-1900"، pp. 52 – 58, Princeton university Press, (1982)۔
  9. صراط مستقیم، صفحہ 49
  10. i) مرزا حیرت دہلوی،" حیات طیبہ"، مکتبۃ الاسلام ، ص 260 ii) مولانا جعفر تھانیسری، "حیات سید احمد شہید" ‘،ص 171 ، 293 iii) سر سید احمد خان،"مقالات سرسید"، حصہ نہم، ص  141-148
  11. مولانا ابو الحسن علی ندوی ،"سیرت سید احمد شہید"، جلد اول، ص 412
  12. مکاتیبِ سید احمد شہید، مخطوطہ عکسی ایڈیشن، صفحہ 75
  13. ابوالحسن ندوی، سیر سید احمد شہید، کراچی 1975ء، ص 114-115
  14. مرزا حیرت دہلوی، حیات طیبہ، ص 383-384
  15. مرتبہ خواجہ احمد فاروقی، ’’دہلی اردو اخبار ‘‘، 22 مارچ 1840ء، شائع کردہ شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، جمال پرنٹنگ پریس دہلی، 1972.
  16. دیکھیے: سید احمد بریلوی: انوار الصلاۃ، مطبع اسرار کریمی، الہ آباد، 1949ء
  17. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 626 ۔
  18. ^ ا ب پ دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 40۔
  19. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 627۔
  20. دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 41۔
  21. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 626۔
  22. سیرت سید احمد شہید، جلد دوم، مؤلفہ سید ابو الحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 2011ء، صفحہ 589۔