سید احمد قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید احمد قادری
پیدائش سید احمد قادری
11ستمبر 1952ء
نیو کریم گنج گیا بہاربھارت
پیشہ ،افسانہ نگار
زبان اردو
قومیت بھارتی
نسل بھارتی
شہریت بھارتی
تعلیم ہیں انہوں نے ایم اے اردو
موضوع افسانہ نگار

سید احمد قادری کی ولادت 11؍ستمبر 1952ء بمقام نیو کریم گنج گیا میں ہوئی ان کے والد بدر اورنگ آبادی بھی ہندوستان کے ایک جانے پہچانے افسانہ نگار ہیں۔ نئی نسل کے افسانہ نگاروں میں سید احمد قادری نمایاں نظر آتے ہیں۔

ادبی سفر[ترمیم]

نئی نسل کے افسانہ نگاروں میں سید احمد قادری نمایاں نظر آتے ہیں ان کی ولادت 11؍ستمبر 1952ء بمقام نیو کریم گنج گیا میں ہوئی ان کے والد بدر اورنگ آبادی بھی ہندوستان کے ایک جانے پہچانے افسانہ نگار ہیں انہوں نے ایم اے اردو کرنے کے بعد درس وتدریس کو اپنا شیوہ بنالیا فی الحال آر ایل ایس وائی کا لج جہان آباد گیا میں ہیں، ان کا پہلا افسانہ بوجھ، ماہنامہ، زیور، پٹنہ دسمبر 1983 ء میں شائع ہو ا تھا اور اب تک ستر کہانیوں ملک کے مختلف مجموعہ 1985ء میں منظر عام پر آیا ہے اس میں بیس کہانیاں ہیں اس کے علاوہ دو اور تمہیدی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ کچھ کہانیوں کے ترجمے ہندی میں بھی ہوچکے ہیں۔ سید احمد قادری کے افسانوں میں عصری حیثیت اور انسانیت کا ایک شدید احساس ہے وہ اپنے موضوعات کا انتخاب بڑی چابکدستی سے کرتے ہیں ان کے افسانوں کا کردار واقعات اور حادثات جیتے جاگتے ہوتے ہیں شہر خموشاں آنگن کی بات، سرخ جوڑے، بند آنکھوں کا سپنا اور خواب ان کی بہترین کہانیاں ہیں شہر خموشاں میں سکوت کی لاپروائی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے راتوں رات سینکڑوں انسان موت کی نیند سوجاتے ہیں، آنگن کی بات، میں باپ اور بیٹے کے اندر پیدا ہو نے والی دوری کو دکھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے سرخ جوڑے میں جہیز کے رستے ہوئے ناسور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر ڈاکٹر محمد محسن صاحب کا افسانہ، انوکھی مسکراہٹ یاد آجاتا ہے یہ اسی طرح نفسیاتی انداز پر لکھا گیا ہے لیکن بڑی فنکاری سے مصنف نے اس کا رخ جہیز کی طرف موڑ دیا ہے دوہزار روپئے کی فراہمی اور وہ بھی صرف چھ ماہ کے اندر یہ فکرایسی تھی جس سے ثریا کا بوڑھا باپ پاگل ہوا جا رہا تھا اگر وہ چھ ماہ کے اندر دوہزار رقم فراہم نہیں کرلیتا تو وہ لوگ اپنے لڑکے کی شادی کسی دوسری جگہ طے کر لیں گے یہ دھمکی بھی رہ رہ کر یاد آتی اور اس خیال سے اس کا دل دھڑکتا رہتا اگر ایسا ہو گیا تو میری ثریازندگی بھر کنواری رہ جائے گی اور شاید کنواری ہی قبر کی زینت بنے، ’’سرخ جوڑے‘‘ اسی طرح بند آنکھوں کا سپنا، ہندوستانی ادیب کی مفلسی کی طرف اشارہ ہے ۔ تکنیک اور مواد کے لحاظ سے بھی سید احمد قادری کے افسانے اچھے ہیں اظہار بیان کی صفائی اور اسلوب کا منفر د انداز ان کے افسانوں میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ جدید تر اردو فکشن کی دنیا میں سید احمد قادری کی آمد علامتی اور تجریدی نظام اظہار کے نام پر زولیدہ بیانی او فنکارانہ خامکاری کی بوجھل فضا میں ہوا کے خوش گوار جھونکے سے کم نہیں اظہار بیان کی صفائی ماجرا سازی اور کردار نگاری کا درو لبست، تہ ورتہہ زندگی کا عرفان اور گہری وابستگی سید احمد قادری کی تخلیقی جب کی نمایاں پہچان ہے۔ اس طرح سید احمد قادری کے افسانے ایک طرف عرفان ذات کا وسیلہ بنتے ہیں تو دوسری طرف کائنات کی وسعتوں میں پھیلتے چلے جاتے ہیں داخلی اور خارجی کیفیات ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ ان کو الگ کرنا مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں ممتاز مقام حاصل کرتے جا رہے ہیں یقین ہے مستقبل میں وہ اور بھی اچھے افسانے لکھیں گے اور اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں ایک گراں قدر اضافہ کریں گے۔[1]

تعلیمی سفر[ترمیم]

ڈاکٹر سید احمد قادری ، اپنے افسانوں ، تنقید اور صحافت کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں عزّت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ آپ کی ولادت 11؍ستمبر 1954ء کو ریاست بہار کے ایک قصباتی شہر اورنگ آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں ہی اپنے دادا جان جناب حافظ سید غلام غوث (مرحوم) کے زیر نگرانی حاصل کرنے کے بعد رانچی کے ڈورنڈہ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا ، اس کے بعد مگدھ یونیورسیٹی ، بودھ گیا سے بوٹنی میں ایم۔ایس سی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ان کی تقرری گیا کے مرزا غالب کالج ، کے شعبئہ نباتات میں ہو گئی، جہان وہ درس و تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ اسی دوران میں ادبی اور صحافتی دنیا میں وہ کافی متحرک اور فعال ہو گئے، ویسے انھیں ادبی ذوق و شوق اپنے والد جناب بدرــؔ اورنگ آبادی سے ورثہ میں ملا ہے۔ [2]

تصانیف[ترمیم]

ڈاکٹر سید احمد قادری کے اب تک چار افسانوی مجموعے (1) ریزہ ریزہ خواب(1985 ء) ،(2) دھوپ کی چادر(1995 ء) ،(3)پانی پرنشان (2009 ء) اور ’ملبہ‘ (2015 ء) کے ساتھ ساتھ سات تنقیدی کتابیں (1) فن اور فنکار(1989 ء)، (2) افکار نو(1999 ء)،(3) اردو صحافت بہار میں (2003 ء)، (4) شاعر اور شاعری(2007 ء)، (5) افسانہ نگار اور افسانے(2008 ء) اقدار و امکان (2012 ء) اورــ’ اردو صحافی بہار کے‘ ( 2015 ء) پر منظر عام پرآکرکر ادبی حلقوں میں موضوع بحث رہی ہیں۔ ان تمام کتابوںپر بہار اردو اکادمی، اتّر پردیش اردو اکادمی اور مغربی بنگال اردواکادمی اور دیگر کئی اداروں نے قومی سطح پر شائع ہونے والی کتابوں میں انعامات سے نوازا ہے۔ ’’اردو صحافت بہار میں ‘‘ ایسی تنقیدی و تحقیقی کتاب ہے ،جسے ڈاکٹر سید احمد قادری نے کے۔کے۔برلا فاؤنڈیشن، نئی دہلی کے ذریعہ ملے فیلو شپ کے تحت لکھی ہے، جسے نہ صرف مغربی بنگال اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی نے اوّل انعام دیا بلکہ اسے ریاست بہار کی تمام یونیورسیٹیوں کے ایم اے (اردو)کے نصاب میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابھی حال ہی میں اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا ہے ۔ ان کتابوں کے علاوہ ایک کتاب ’’جائزے‘‘ (2010 ء) ہے، جو ڈاکٹر سید احمد قادری کے 129 کتابوں پر کیے گئے تبصروں مشتمل ہے۔ ابھی حال ہی میں یعنی 2013ء میں ’’مکالمہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے، اس میں پندرہ مشاہیر ادب سے ڈاکٹر سید احمد قادری کے لیے گئے یادگار انٹرویوز ہیں۔ ان تصانیف کے علاوہ ان کی کئی اہم تالیفات بھی شائع ہو ئی ہیں، جن کے نام اس طرح ہیں ، (1) ان سے ملئے(1988 ء)، (2) غیاث احمد گدّی: شخصیت اور فن( 1999ء ) ، (3) انجم مانپوری: فنکار2009 ء) اور (4) شین مظفرپوری:شخص اورعکس(2011 ء)۔ یہ تمام تالیفات ایسی ہیں جو اپنے موضوع اور مواد کے لحاظ سے ادبی دنیا میں کافی اہمیت اور افادیت کی حامل ہیں ۔[3]

پیشہ[ترمیم]

صحافت کے میدان میں بھی ڈاکٹر سید احمد قادری نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ مورچہ، آہنگ، سہیل، عظیم آباد اکسپریس اور بلٹز، وغیرہ میں اپنی صحافتی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ۔ 15 اگست 1983ء سے دسمبر 1998ء تک اپنے اردو ہفتہ وار ’’ بودھ دھرتی ‘‘ کی ادارت سنبھالی اور پورے ملک میں اپنے سیاسی، سماجی، لسانی اور ادبی تبصروں اور مضامین سے مقبول اور مشہور ہوئے، اس اخبار میں شائع ہونے والے کالموں میں کلام حیدی کا کالم ’’ ٹف نوٹس‘‘ اور علیم ا للہ حالی کا کالم ’’ شاخیں ‘ آج بھی کئی اعتبار سے یاد گار ہیں ۔ اسی دوران میں جنوری 1991ء سے ایک سہ ماہی رسالہ ’’ ادبی نقوش ‘‘ کا اجرا کیا ، جس کے کئی خصوصی نمبرشائع ہوئے۔ ڈاکٹر سید احمد قادری قومی ،بین الاقوامی سیمیناروں ریڈیو، ٹیلی ویژنوں کے مباحثوں میں شریک ہو کر اپنے منفرد اظہار و بیان سے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ انھیں مگدھ یونیورسیٹی کے سینیٹ کا ممبرنامزد کیا جا چکا ہے، ساتھ ہی ساتھ انھوں نے انجمن ترقی اردو، بہار کے سکریٹری کی حیثیت سے بہار میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں کافی نمایاں رول ادا کیا ہے۔ [2]

ایوارڈ[ترمیم]

ڈاکٹر سید احمد قادری کی ادبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت بہار نے انھیں بہار اردو اکاڈمی اور بہار اردو مشارتی کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے ۔ اس نامزدگی پر پورے ہندوستان میں لوگوں نے اپنی مسرت کا اظہارکرتے ہوئے حق بہ حقدار رسید کہا ۔ ڈاکٹر سید احمد قادری کے ایک زمانے میں ممبئی کے مشہور ہفتہ وار ’ بلٹز‘ میں شائع ہونے والے صحافتی مضامین کافی پسند کیے جاتے تھے ۔ ان دنوں ایک بار پھر وہ قومی سطح کے روزنامہ ’راشٹریہ سہارا ‘ کے تمام ایڈیشنوں کے اتوار کے خاص ایڈیشن کے لیے کالم لکھہ کر پورے ملک میں تہلکہ مچائے ہوئے ہیں ۔روزنامہ سہارا اور دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہونے والے ان کے تمام مضامین کی بازگشت بہت دور تک اور دیر تک سنی جا رہی ہے ۔ ان کے مضامین بیرون ممالک میں بھی ڈائجسٹ کیے جا رہے ہیں ۔ [2]

تبصرے[ترمیم]

ڈاکٹر سید احمد قادری کے فکر و فن پر مشاہیر ادب کے تحریر کردہ مضامین اور تاثرات پر مشتمل شیریں اختر (کولکتہ)نے 1998ء میں ایک کتاب ’’ سید احمد قادری : شخصیت اور فن ‘‘ شائع کیا تھا ، جس میں ، اصغر علی انجینئر ، شمس الرحمٰن فاروقی، عبد ا لمغنی، کلام حیدری، احمد یوسف، غیاث احمد گدّی، رام لعل، تارا چرن رستوگی، وارث علوی، عنوان چشتی، سرسوتی سرن کیف، محمد مثنٰی رضوی ، محمود ایوبی، نامی انصاری،علیم اللہ حالی، م ق خان، مناظر عاشق ہرگانوی، شوکت حیات وغیرہ نے سید احمد قادری کی گزشتہ چار دہایوںکی افسانہ نگاری، تنقید نگاری اور صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں لِجنڈ قرار دیا ہے۔ امریکا کے دورہ سے ابھی حال میں واپس ہوئے ہیں ، وہاں ان کی کافی پزیرائی کی گئی ، ان کے اعزاز میں کئی نشستیں ہوئیں اور وہاں کے کئی اخبارات میں ان کے انٹرویو بھی شائع ہوئے۔ 29 ؍جون2014ء کو وائس آف امریکا نے اپنے خصوصی پروگرام میں ڈاکٹر سید احمد قادری کا آدھے گھنٹے کا انٹرویو نشر کیا تھا ، جس کی پزیرائی پوری اردو دنیا میں کی گئی ۔ فی الحال ڈاکٹرسید احمد قادری اردو زبان وادب اور اردو صحافت کے حوالے سے کئی اہم پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور اپنی ادبی اور صحافتی خدمات سے ملک کے سامنے ایک مثال بنے ہوئے ہیں ، اس لیے کہ انھیںکبھی بھی صلہ کی پروا رہی نہ ہی ستائش کی تمنّا کی ۔ بڑی خاموشی سے اپنے خلوص ، جزبے اور جنون کے ساتھ پوری لگن ، محنت اور ایثار کے ساتھ ادب اور صحافت کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ مطبع دوم 1996ء
  2. ^ ا ب پ Syed Ahmad Qadri Writer Biography - Bihar Urdu Youth Forum, Patna
  3. https://www.rekhta.org/ebooks?lang=ur&author=syed-ahmad-qaadri