سید امجد حسین رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آیت اللہ العظمی سید امجد حسین رضوی ، ہندوستان کے ایک شیعہ عالم دین اور مجتہد اور مرجع اور صاحب رسالہ تھے، شہر الہ آباد کے رہنے والے تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت سنہ 1280ھ میں بمقام سونی ضلع کوشامبی میں ہوئی ـ آپ کے والد کا نام منور علی تھا ـ

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی ـ اس کے بعد لکھنؤ روانہ ہو گئے ـ لکھنؤ میں آپ نے مندرجہ ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا :

دس سال لکھنؤ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس آ گئے اور وطن میں ہی امام جمعہ و جماعت ہو گئے نیز تدریس اور تالیف میں مشغول ہو گئے ـ

سفر عراق[ترمیم]

ایک عرصہ کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے عراق کا رخ کیا، ـ چنانچہ دس سال اور چند ماہ نجف میں رہ کر علمی مدارج کو طے کیا ـ

نجف اشرف میں آپ کے مشہور اساتذہ یہ ہیں :

اس مدت میں آپ نے وہاں رہ کر اجتہاد کا ملکہ حاصل کر لیا ـ

سنہ 1319ھ میں آپ ہندوستان واپس آئے ـ اور شہر الہ آباد میں آکر اپنے دینی فرائض میں مشغول ہو گئے ـ

علمی حیثیت[ترمیم]

”عالم جلیل مروج للشرعیۃ فی بلدۃ اللہ آباد، مرجع لاھلھا، من تلامذۃ المفتی السید محمد عباس فی العربیۃ و الادب ،

و قرا الفقہ و الاصول فی مشاھد العراق ،

وھو معروف بالتقوی و الورع و کثرۃ الاحتیاط “. [2]

تالیفات[ترمیم]

آپ کی مشہور تالیفات مندرجہ ذیل ہیں :

1: وسیلة النجاۃ (اردو زبان میں نماز کے احکام پر مشتمل)

2: خلاصة الطاعات (اردو زبان میں نماز جمعہ اور نماز جماعت کے احکام پر مشتمل)

3: زبدۃ المعارف (اصول دین کے بارے میں)

4: شرح الوجیزة (علامہ شیخ بہائی کی علم درایت کے موضوع پر لکھی ہوئی کتاب الوجیزہ کی شرح)

5: الحاشیة الرضیة علی البھجة المرضیة ( علامہ جلال الدین سیوطی کی علم نحو پر مشتمل کتاب پر حاشیہ)[3]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات سنہ 1350ھ میں واقع ہوئی ـ [4]

مصادر و مآخذ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج: 1، ص: 177
  2. اعیان الشیعۃ، ج: 3، ص: 474
  3. الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ (آقا بزرگ تہرانی)
  4. موسوعۃ طبقات الفقھاء (جعفر سبحانی)، ج: 14، ص: 128