سید بدر الدجیٰ
| سید بدر الدجیٰ | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 4 جنوری 1900ء | ||||||
| تاریخ وفات | 18 نومبر 1974ء (74 سال) | ||||||
| شہریت | |||||||
| جماعت | آل انڈیا مسلم لیگ | ||||||
| مناصب | |||||||
| رکن 4ویں لوک سبھا | |||||||
| رکن مدت 1967 – 1971 |
|||||||
| پارلیمانی مدت | چوتھی لوک سبھا | ||||||
| |||||||
| عملی زندگی | |||||||
| مادر علمی | جامعہ کلکتہ پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا |
||||||
| پیشہ | وکیل ، سیاست دان | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | ہندی | ||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
سید بدر الدجیٰ (بنگالی: সৈয়দ বদরুদ্দোজা،(انگریزی: Syed Badrudduja))؛ (4 جنوری 1900 - 18 نومبر 1974) ایک ہندوستانی بنگالی سیاست دان، پارلیمانی رکن اور فعالیت پسند تھے۔ [1] وہضلع مرشدآباد، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ مغربی بنگال کی قانون ساز مجلس کے رکن، بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے رکن اور کلکتہ کے رئیس بلدیہ تھے۔ [1] وہ تحریک خلافت اور سول نافرمانی کی تحریک جیسی نوآبادیاتی مخالف تحریکوں میں شامل تھے اور حسین شہید سہروردی کی متحدہ بنگال کے مجوزہ منصوبہ کے حامی تھے۔ [1]وہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی تھے۔
کام
[ترمیم]بدر الدجیٰ نے ترقی پسند مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور معتمد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انھوں نے چٹا رنجن داس ، سبھاش چندر بوس اور حسین شہید سہروردی جیسے بنگالی رہنماؤں کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں کام کیا۔ [1] وہ کرشک پرجا پارٹی سے بھی وابستہ تھے۔ [2] بعد ازاں وہ آزاد جمہوری پارٹی کے صدر بن گئے۔ [2] انھوں نے پروگریسو اسمبلی پارٹی بنگال کے سیکرٹری اور پروگریسو کولیشن پارٹی بنگال کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ [2] وہ سال 1943 تا 1944 کلکتہ کے میئر رہے۔ انھوں نے تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ [1] [3] وہ بنگال لیجسلیٹو اسمبلی، 1940-46، بنگال لیجسلیٹو کونسل، 1946-47، مغربی بنگال لیجسلیٹو اسمبلی، 1948-52 اور 1957-62 کے ارکان رہے اور رکن، تیسری لوک سبھا، 1962-67 اور چوتھی لوک سبھا- 1967-70۔ [2]
ذاتی زندگی اور وفات
[ترمیم]بدر الدجیٰ کی شادی رقیہ خاتون سے ہوئی تھی۔ [4] ان کے 10 بچوں میں سیدہ سکینہ اسلام ، سید محمد علی (وفات: 2010)، سیدہ سلمیٰ رحمٰن، سیدہ رضیہ فیض (1936-2013)، سید حیدر علی، سیدہ آسیہ قادر، سید اشرف علی (1939-2016)، سیدہ فاطمہ اسلام ، سید رضا علی اور سیدہ ذکیہ احسن شامل ہیں۔ [5] ان کا انتقال 18 نومبر 1974 کو ہوا (عمر 74 سال) [6]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ Sirajul Islam (2012)۔ "Badrudduja, Syed"۔ در Sirajul Islam؛ Mohammed Syed (مدیران)۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (Second ایڈیشن)۔ Asiatic Society of Bangladesh
- ^ ا ب پ ت "Members : Lok Sabha"۔ Parliament of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-09-14
- ↑ Iftikhar H. Malik (1991). Us-South Asian Relations 1940-47: American Attitudes Toward The Pakistan Movement (بزبان انگریزی). Springer. p. 176. ISBN:9781349212163.
- ↑ [1] "Former Islamic Foundation DG, scholar Syed Ashraf Ali dies"
- ↑ [2] آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ archive.thedailystar.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) "Remembering Syed Mohammad Ali"
- ↑ [3] آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ observerbd.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) "Syed Badrudduja . . . the erudite politician"
- 1900ء کی پیدائشیں
- 4 جنوری کی پیدائشیں
- 1974ء کی وفیات
- 18 نومبر کی وفیات
- بیسویں صدی کے بھارتی قانون دان
- کلکتہ یونیورسٹی کے فضلا
- ضلع مرشد آباد کی شخصیات
- کولکاتا کے سیاست دان
- پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا کے فضلا
- بنگال سے آزادی ہند کے فعالیت پسند بلحاظ
- چوتھی لوک سبھا کے ارکان
- تیسری لوک سبھا کے ارکان
- مغربی بنگال سے لوک سبھا کے ارکان
- بیسویں صدی کی بنگالی شخصیات
- بنگالی مسلمان
