سید ثاقب اکبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کام جاری

سید ثاقب اکبر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام نقی علی ثاقب نقوی
تاریخ پیدائش ۱۹۵۶
والد سید اکبر علی شاہ
پیشہ محقق ، دانشور ، شاعر ، سماجی راہنما
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.albasirah.com

ثاقب اکبر، چیئرمین البصیرہ ٹرسٹ علمی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ علم و تحقیق کا میدان ہو ،محافل شعر و سخن ہوں یا اہم عالمی معاملات پر مذاکرے،ملکی مسائل پر رائے کا اظہار ہو یا سماجی خدمات،مذہبی علوم پر ریسرچ ہو یا اسکالرز اور طالبان علم کی راہنمائی کسی بھی شعبہ زندگی میں آپ کی خدمات اور کوششیں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔آپ نے تحصیل علم کے دوران ہی اپنے آپ کو ایک سماجی کارکن اور رہنما کے طور پر منوایا۔بیرون ملک حصول تعلیم کے دوران میں ہی علمی دنیا میں آپ کے عمق نظر اور وسعت مطالعہ کا اعتراف کیا جانے لگا۔اسی دوران میں آپ نے محسوس کیا کہ عصر حاضر کے مفکرین اسلام کے افکار کو اہل وطن تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس احساس نے آپ کو ترجمے کی طرف راغب کیا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مختلف علمی امور پر تحقیق اور علمی مصادرو منابع کا ترجمہ اور اشاعت تھی۔ اس مقصد کے لیے آپ نے محققین اور مترجمین کی تربیت اور تیاری کے سلسلے کا بھی آغاز کیا۔ آپ کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ادبی بھی ہے۔گاہے گاہے ادبی محافل میں آپ اپنی تمام تر تحقیقی اور سماجی مصروفیات کے باوجود شرکت کرتے ہیں۔ آپ خود بھی ایسی محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ قومی اخبارات میں آپ کے کالم ''جہان دگرگوں'' اور ''در خیال'' کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں۔ دینی، سماجی، ملکی اور بین الاقوامی موضوعات پر آپ کے مضامین اور کالم متواتر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ثاقب اکبر کی علمی خدمات علم دوست خواتین و حضرات کے لیے سرچشمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیوں کے ریسرچ سکالرز آپ سے راہنمائی کے لیے رجوع کرتے رہتے ہیں۔ آپ تقریبا 50 جلدوں پر مشتمل تالیفات اور تراجم کا سرمایہ دانش دوست حلقے کے سپرد کر چکے ہیں۔ آپ نے بیک وقت تفسیر، سیرت، سوانح، علم کلام، عالم اسلام کے مسائل اور پاکستان کے مسائل جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا۔ دنیائے شعر و ادب میں آپ کی خدمات اس پر مستزاد ہیں۔[1]

خاندانی پس منظر و ابتدائی تعلیم[ترمیم]

جناب سید ثاقب اکبر لاہور کے نواحی علاقے جھگیاں جودھا کے ایک نقوی البخاری خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے آباو اجداد اہل علم و عرفان ہیں۔ جناب سید ثاقب اکبر کے دادا پیر سید امام علی شاہ قادری نوشاہی سلسلے میں بیعت ہوئے۔[2] سید امام علی شاہ کا مزار جگھیاں جودھا میں مرجع خلائق ہے آپ ایک صاحب کرامت بزرگ تھے۔ سید ثاقب اکبر پیر سید امام علی شاہ کے فرزند سید اکبر علی شاہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ جناب سید ثاقب نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول بیرون بھاٹی دروازہ لاہور سے حاصل کی، گریجویشن ایم اے او کالج لاہور سے کی۔ اس کے بعد یو ای ٹی لاہور سے سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ کے شعبے میں انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ جناب سید ثاقب اکبر 1989میں چند دیگر رفقا کے ہمراہ دینی تعلیم کے حصول کے لیے قم المقدسہ ایران چلے گئے۔ جہاں سے فراغت کے بعد ان رفقا کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے اور یہاں ایک علمی و تحقیقی ادارے اخوت اکادمی کی بنیاد رکھی۔

اخوت ریسرچ اکادمی[ترمیم]

اخوت اکادمی کی بنیاد 1995 میں رکھی گئی۔پاکستان میں موجود کئی اسکالرز اس علمی ادارے سے وابستہ رہے۔اس اکادمی میں تفسیر قرآن،علوم حدیث، کلام جدید، فقہ، اصول فقہ اور فلسفہ جیسے بنیادی اسلامی علوم کے حوالے سے مختلف کام کیے گئے۔اسی طرح قومی و بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے سیمینارز کے لیے علمی، اخلاقی اور معلوماتی موضوعات پرتحقیقی مقالے لکھے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز استقامت سے جاری ہے۔ اس اکیڈمی کے تحت کئی ایک تحقیقی مجلات کا اجرا کیا گیا جن میں ماہنامہ پیام اور سہ ماہی المیزان قابل ذکر ہیں۔ سہ ماہی المیزان کئی برس تک جاری رہا البتہ پیام کی اشاعت کا سلسلہ قائم ہے۔اس کا مقصد تشنگان علم کی تحقیقی پیاس کو بجھانا،اور معاشرے میں حقیقی اسلامی اقدار کا فروغ ہے۔پاکستان میں موجود گوناگوں مسائل کے حل کے لیے ایک مخلصانہ اور ذمہ دارانہ موقف کا اظہار بھی اس مجلے کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔اسی طرح پاکستان میں محقیقن اور مترجمین کی تربیت کے لیے باقاعدہ اداروں کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے اخوت ریسرچ اکیڈمی میں باقاعدہ ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن سیکشن قائم کیا جہاں مترجمین اور محققین کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ذمہ دارانہ صحافت کے شعبے میں بھی جناب ثاقب اکبر کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔وہ نہ فقط خود مختلف ملکی،بین الاقوامی،سیاسی اور سماجی موضوعات پرلکھتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں انہوں نے تربیت کا ایک نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔ان کے تربیت یافتہ دسیوں صحافی اس وقت عملی صحافتی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ [3]

البصیرہ ٹرسٹ[ترمیم]

اخوت اکادمی کے قیام کے ایک طویل عرصے کے بعد جناب سید ثاقب اکبر نے اخوت ریسرچ اکادمی کوالبصیرہ ٹرسٹ کے تحت رجسٹر کروایااس ٹرسٹ کی غرض و غایت کو بیان کرتے ہوئے جناب سید ثاقب اکبر لکھتے ہیں۔

ہماری رائے میں آج کے انسان کی بنیادی مشکل۔۔۔اللہ تعالیٰ اور جہان ماورائے مادہ سے اس کا عدم تعلق یا تعلق کی کمزوری ہے۔ ضرورت ہے کہ اس تعلق کو قائم کیا جائے اور اس کی تقویت کی جائے۔ وہ عناصر جو اس تعلق میں حائل ہیں وہ اسے کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں ان کے خلاف جہاد آج کا کارپیغمبری ہے۔ مذہبی۔۔۔فرقہ وارانہ۔۔۔ لسانی، نسلی اور علاقائی تعصب ہماری رائے میں ارتباط باخدا میں حائل عناصر میں سے ہیں۔ انبیا کے نام لیواؤں نے ان کی تعلیمات کی بنیادوں اور مقاصد کو نظر انداز کر دیا ہے اور ان توحید کے عظیم علمبرداروں کو بت بنا لیا ہے۔ مذہب زیادہ تر ذاتی، شخصی اور انفرادی مسئلہ بن گیا ہے اور اجتماعی زندگی سے نکل گیا ہے۔ اس امر کا حقیقی شعور مذہب کے علمبرداروں کو بھی کم ہے۔ دین کی آفاقی قدروں کو اجتماع پر شعوری طریقے سے حاکم کرنے کی اجتماعی جدوجہد کی شدت سے ضرورت ہے۔ قومی ریاستوں کا موجودہ عالمی نظام مغربی استعماری طاقتوں نے اپنے شیطانی مفادات کے لیے قائم کیا ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اللہ کے بندوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کی سرزمینوںکو چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ انھوں نے ان پر اپنے مفادات کے محافظ حکمران مسلط کیے ہیں اورخود پھر اجتماعی تشکل اختیار کرنے کی طرف گامزن ہیں تاکہ اپنی اجتماعی قوت سے چھوٹی اور کمزور قومی ریاستوں کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان کی تقسیم انگریزوں نے اس طرح سے کی ہے کہ اس خطے کے انسان مسلسل اس کے منفی اثرات کا شکارہیں۔ ہماری رائے میں آج کے انسان کی بنیادی مشکل۔۔۔اللہ تعالیٰ اور جہان ماورائے مادہ سے اس کا عدم تعلق یا تعلق کی کمزوری ہے۔ ضرورت ہے کہ اس تعلق کو قائم کیا جائے اور اس کی تقویت کی جائے۔ وہ عناصر جو اس تعلق میں حائل ہیں وہ اسے کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں ان کے خلاف جہاد آج کا کارپیغمبری ہے۔ مذہبی۔۔۔فرقہ وارانہ۔۔۔ لسانی، نسلی اور علاقائی تعصب ہماری رائے میں ارتباط باخدا میں حائل عناصر میں سے ہیں۔ انبیا کے نام لیوائوں نے ان کی تعلیمات کی بنیادوں اور مقاصد کو نظر انداز کر دیا ہے اور ان توحید کے عظیم علمبرداروں کو بت بنا لیا ہے۔ مذہب زیادہ تر ذاتی، شخصی اور انفرادی مسئلہ بن گیا ہے اور اجتماعی زندگی سے نکل گیا ہے۔ اس امر کا حقیقی شعور مذہب کے علمبرداروں کو بھی کم ہے۔ دین کی آفاقی قدروں کو اجتماع پر شعوری طریقے سے حاکم کرنے کی اجتماعی جدوجہد کی شدت سے ضرورت ہے۔ قومی ریاستوں کا موجودہ عالمی نظام مغربی استعماری طاقتوں نے اپنے شیطانی مفادات کے لیے قائم کیا ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اللہ کے بندوں کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کی سرزمینوںکو چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ انھوں نے ان پر اپنے مفادات کے محافظ حکمران مسلط کیے ہیں اورخود پھر اجتماعی تشکل اختیار کرنے کی طرف گامزن ہیں تاکہ اپنی اجتماعی قوت سے چھوٹی اور کمزور قومی ریاستوں کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان کی تقسیم انگریزوں نے اس طرح سے کی ہے کہ اس خطے کے انسان مسلسل اس کے منفی اثرات کا شکارہیں۔ ہمارے مطالعے کے مطابق تمام ادیان کی بنیادی کتب میں بہت سے حقائق اور انبیا کی تعلیمات کابہت سا حصہ موجود ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے پاس موجود سرمایہ ان سب میں سے محفوظ تر ہے۔ خصوصاً قرآن حکیم کا کسی انسانی دست برد سے محفوظ رہ کر ہم تک پہنچ جانا انسانی تاریخ کا عظیم معجزہ ہے اور پروردگار کا اس زمین کے باسیوں پر خصوصی فضل و احسان ہے۔ مسلمانوں میں بہت سے فرق کے باوجود ایسے عقیدتی اور عملی مشترکات موجود ہیں جو انھیں ایک امت تشکیل دینے کے لیے کافی ہیں۔ شاید طاغوتی طاقتوں کو اسی امر کا ادراک ہے جس کے باعث آج اللہ کی اس زمین پر ان کی بیشتر ابلیسی سازشوں کا شکار یہی گئے گذرے مسلمان ہیں اور سب سے زیادہ ظلم کا شکار آج کے مسلمان ہی ہیں۔برصغیر کی تقسیم کے بارے میں درستی و نادرستی کی بحث سے قطع نظر معروضی عالمی حالات کے تناظر میں ہم پاکستان کے وجود اور استحکام کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔نظریات اور عقائد تو آفاقی ہی ہونے چاہئیں لیکن اس امر سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ہر انسان اس دنیا میں زمان و مکان کی قید میں ہے۔ تاریخ کے ایک خاص دور اور اس زمین کے ایک خاص علاقے۔۔۔ اسی طرح خاص رنگ، نسل اور زبان سے۔۔۔ نیز خاص حالات سے اس کا تعلق جبری ہوتا ہے لیکن انسان کے ارادے کی قوت اسے فطری طور پر دعوت دیتی ہے کہ تاریخ کا رخ اپنی مرضی کی سمت میں موڑنے کی جدوجہد کرے۔ معروضی حالات جہاں قوموں میں فرق رکھتے ہیں وہاں ایک ہی دور کے افراد کے لیے بسا بلکہ شاید ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے باعث حکمت عملی کے تقاضے بھی مختلف ہوجاتے ہیں۔[4]

البصیرہ کے اغراض و مقاصد[ترمیم]

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مرکز اسلام آباد میں اسلام کی عالمگیر انسانی اخوت کی تعلیمات اور دینی ،تعلیمی و فلاحی پروگرام کی بنیاد پر قائم البصیرہ ٹرسٹ ایک ایسامنفرد ادارہ ہے جس کی ضرورت آج اس سرزمین کا ہر اہل فکر و نظر شدت سے محسوس کررہا ہے۔آج اسلام کی آفاقی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔پیارے وطن پاکستان کی بقا استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔جس سر زمین کو الٰہی ہدایت کی روشنی میں قوت اخوت عوام کا مظہر اور نمونہ ہونا چاہیے تھا اس پر تعصب ،فرقہ واریت،کم نظری،شخصیت پرستی، جمود اور اغیارسے مرعوبیت کے سیاہ بادل ہر طرف چھائے ہوئے ہیں۔ایسے میں اس امر کی شدید اور فوری ضروری ہے کہ اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ،پاکستان اور عالم اسلام کی حقیقی مشکلات کے مطالعہ، تحقیق اور ان کے حل کے لیے عالمانہ اور محققانہ تبادلہ خیال اور ہم آہنگی کے لیے جدوجہد کا بصیرانہ آغاز کیا جائے۔

اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے قدیم و جدید علوم سے وابستہ چند افراد نے جو ان مقاصد و نظریات پر ایمان رکھتے ہیں،ان کے عملی تشکل کے لیے اللہ کی نصرت و توفیق سے البصیرہ کی بنیاد رکھی ہے۔

البصیرہ کے قیام کے مقاصد:[ترمیم]

1۔1سلام کی آفاقی تعلیمات کا فروغ اور اشاعت۔

2۔ہر قسم کے تعصب، فرقہ واریت، کم نظری، شخصیت پرستی، جمود اور منفی مرعوبیت کا مقابلہ۔

3۔انسانوں کے لیے سعادت بخش دین کے انسانی پیغام کا احیا۔

4۔دور حاضر میں نوع انسانی کو درپیش بنیادی مسائل اور چیلنجوں کا ادراک اور ان کے حل کے مطالعاتی اور فکری روش کا فروغ۔

5۔پاکستان کی مشکلات و مسائل کا مطالعہ اور ان کے علمی و تحقیقی حل کی جدوجہد۔

6۔ہر قسم کے فلاحی کاموں کی انجام دہی اور جو افراد یا ادارے یہ کام انجم دے رہے ہوں ان کے ساتھ دست تعاون بڑھانا۔

اس ادارے کے پروگرام میں شامل ہے کہ:

اسلامی وطن پاکستان کی بقا و استحکام کے لیے درکار لٹریچر فراہم کیا جائے۔

اسلام کے آسمانی و الٰہی پیغام و نظام کے ماننے والوں کے مابین ٹھوس، آگاہانہ اور باغور ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کیا جائے۔

اہل تحقیق و جستجو کی علمی و تحقیقی امداد کی جائے۔

جدید و قدیم علوم اور ان کے ماہرین کے مابین ہم آہنگی اور مطالعات و تحقیقات کا تبادلہ کیا جائے۔

اہل علم و دانش کے درمیان ایک علمی ارتباط پیدا کیا جائے۔[5]

سید ثاقب اکبر کے نظریات کا خلاصہ[ترمیم]

آپ کے نظریات کے حوالے سے چند باتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں:

1۔ آپ کائنات کی مادی تعبیر کو اس کا ناقص تصور قرار دیتے ہیں اور اس کی روحانی تعبیر کے قائل ہیں۔

2۔ آپ انسانی مساوات اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں۔آپ دین کی آفاقی اور انسانی تعلیمات پر زور دیتے ہیں اور اس کی محدود شناخت کو جمود اور تعصب کا سرچشمہ گردانتے ہیں۔

3۔ آپ نظریہ اجتہاد کے علمبردار ہیں اور زمان و مکان کی تبدیلی سے حکم کی تبدیلی کے امکان پر مسلسل نظر رکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

4۔ آپ انسانی وحدت،انسانی احترام اور قانونی مساوات کو توحید پرستی کے معاشرتی مظاہر میں سے قرار دیتے ہیں۔توحید پرستی ہی کو آپ شخصیت پرستی اور ہر نوع کی غلامی سے نجات کے لیے ناگزیر عقیدہ قرار دیتے ہیں۔

5۔ آپ آزادی فکر اور حریت عقیدہ کے پرچم بردار ہیں، اس طرح سے کہ ہر کوئی دوسرے کے لیے اس آزادی و حریت کا عملی طور پر قائل ہو۔

6۔ آپ استعمار اور استثمار کی ہر شکل کے مخالف ہیں اور استعماری قوتوں اور عناصر کے خلاف قوموں اور ملتوں کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

سید ثاقب اکبر کی علمی خدمات[ترمیم]

جناب سید ثاقب اکبر ایک عالم ، محقق، دانشور، شاعر، مترجم، ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی شخصیت بھی ہیں آپ کی گوناں گوں سیاسی اور سماجی مصروفیات کے باوجود آپ کی علمی خدمات بھی کم نہیں آپ نے قرآنیات، عرفان، فلسفہ، جدید عصری مسائل ، سماجیات ، اخلاقیات ، اتحاد امت، بین الادیان ہم آہنگی ، حالات حاضرہ ، عالمی و علاقائی سیاسی مسائل،  نعت، غزل ، مرثیہ ، سلام وغیرہ پر قلم جنبانی فرمائی ہے۔ آپ کی متعدد کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں جبکہ بہت سا کام تشنع اشاعت ہے۔ آپ کی تالیفات اور تراجم کی فہرست ذیل میں درج کی جارہی ہے۔

تالیفات[ترمیم]

پاکستان کے دینی مسالکآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

امت اسلامیہ کی شیرازہ بندیآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

حروف مقطعات مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تکآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

جماعت اسلامی ایک حاصل مطالعہآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

نبی مہربان کی مناجات رمضانآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

معاصر مذہبیات چند فکری اور سماجی پہلوآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

اسلام ایک زاویہ نگاہآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

رفیق محبوب ڈاکٹر محمد علی نقوی شہیدآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

امام حسین علیہ السلام و کربلا چند اہل سنت اکابر کی نظر میںآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

تراجم[ترمیم]

تاریخ یعقوبیآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

خطبات مطہریآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

فطرتآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

آئین تربیتآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

دعائے کمیلآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

شعری مجموعے[ترمیم]

نغمہ یقین (نعت ، منقبت ، سلام )آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

شب کی شناسائی ( غزلیات)آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ albasirah.com [Error: unknown archive URL]

مقالات[ترمیم]

جناب سید ثاقب اکبر کے متنوع علمی موضوعات پر لا تعداد علمی مقالات بھی موجود ہیں جو مختلف علمی جرائد اور ویب سائٹس پر شائع ہو چکے ہیں۔ ان مقالات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

سماجی و سیاسی خدمات[ترمیم]

سید ثاقب اکبر زمانہ طالب علمی سے ہی سماجی اور سیاسی میدان میں خاصے فعال تھے آپ ملک کی ایک طلبہ تنظیم کے دو بار مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد تحریک جعفریہ میں بھی علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے ہمراہ کام کیا۔ ملک مین بین المسالک ہم آہنگی کے لیے قائم ہونے والے اتحاد ملی یکجہتی کونسل کے لیے آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق امیر اور کونسل کے احیاء گر قاضی حسین احمد مرحوم نے لکھا :

برادرم ثاقب اکبر صاحب حوزہ علمیہ قم کے فارغ التحصیل مستند عالم دین ہیں لیکن اپنے آپ کو کسی مذہبی فرقے سے منسلک کرنے کی بجائے امت کے اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔[6]

قاضی حسین احمد اپنی تقریظ میں مزید لکھتے ہیں:

ملی یکجہتی کونسل کا پلیٹ فارم اسی لیے وجود مین لایا گیا ہے ۔ اس کونسل کا احیاء کرنے میں برادرم ثاقب اکبر صاحب کا اہم رول ہے۔ اس وقت وہ ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں اور امت کے اتحاد کے لیے ہمہ تن کوشاں ہیں۔[6]

اتحاد امت کے لیے عملی کاوشیں[ترمیم]

جیسا کہ قاضی حسین احمد مرحوم نے لکھا سید ثاقب اکبر نے ملی یکجہتی کونسل کے احیاء میں اہم کردار ادا کیا اور تادم تحریر آپ کونسل کے ڈپٹی سیکریریٹری جنرل کی خدمات انجام دے رہے ہیں اسی طرح آپ کونسل کے مرکزی دفتر کے بھی مسئول ہیں۔ کونسل کے علاوہ کئی ایک دینی و مذہبی جماعتوں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

  1. "البصیرہ". البصیرہ. 21 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. 
  2. عباس، اسد (2012). جلوہ جلی پیر سید امام علی. اسلام آباد: البصیرہ پبلیکیشنز. صفحات 27–28. 
  3. "صدر نشین". البصیرہ. 21 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. 
  4. "تعارف البصیرہ ٹرسٹ". 20 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. 
  5. "اغراض و مقاصد". 21 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. 
  6. ^ ا ب اکبر، ثاقب (2014). امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی. اسلام آباد: البصیرہ پبلیکیشنز. صفحہ 4.