جلال الدین سرخ بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سید جلال الدین بخاری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
جلال الدین سرخ پوش بخاری
Jalaluddin Bukhari's Tomb.jpg
میر سرخ، میر بزرگ، مخدوم العظم، سرخ پوش، جلال گنج
پیدائش 595 ہجری (1199 عیسوی)
بخارا
وفات 690 ہجری (1291 عیسوی)
اچ
محترم در اسلام (سہروردیہ)
مؤثر شخصیات بہاؤالدین زکریا ملتانی
متاثر شخصیات جنوبی ایشیائی صوفی

سید جلال الدین بخاری (1192ء تا 1291ء) اچ شریف (پاکستان) میں مدفون سلسلہ سہروردیہ کے ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ پاکستان ( میں سندھ کے ضلع بدین میں یونین کونسل عبد اللہ شاہ کا سید خاندان ان کی ہی اولاد میں سے ہیں ان کے علاوہ کراچی میں علامہ سید محمد راشد علی قادری بھی انہی کی اولاد میں سے ہیں ان کے والدین نے1950میں ہندوستان کے علاقے گورکھپور سے پہلے مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش ہجرت کی سقوط ڈھاکہ کے بعد کراچی کے علاقے ملیر کھوکھراپار میں سکونت اختیار کی) اور اس کے علاو ہ کراچی کے علاقے کیماڑی میں سید عابد حسین شاہ  اور ان کے بیٹے سید عدنان بخاری، سید نعمان بخاری، سید فرحان بخاری اور سید ذیشان بخاری  بھی انہی کی اولاد ہیں۔

ہندوستان کے اکثر ساداتِ بخاری کے جد ہیں۔ آپ امیر سرخ اور سید جلال الدین سرخ پوش کے نام سے بھی مشہور ہیں۔جلال الدین جہانیاں جہاں گشت انہی کے پوتے ہیں۔ ہندوستان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات سب سے پہلے آپ ہی لے کر آئے تھے۔ ہندوپاک میں سادات کا مستند ترین شجرہ سادات بخارا کا ہی ہے-

شجرۂ نسب[ترمیم]

جلال الدین سرخ بخاری کا شجرہ نسب علی المرتضی سے جا ملتا ہے آپ آل علی میں سے ہیں۔ اپ کا شجرۂ کچھ یوں ہے:

”جلال الدین بن سید الموئد بن جعفر بن محمد بن محمود بن احمد بن علی اصغر بن جعفر ثانی بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن جعفر الصادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن حسین بن علی ابن ابی طالب“۔[1]

ابتدائی حالات[ترمیم]

آپ کا نام حسن جلال الدین تھا اور آپ 5 ذی الحجۃ 595ھ کو بخارا (موجودہ ازبکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بخارا ہی سے حاصل کی اور بچپن ہی سے روحانی وجوہات سے مشہور ہو گئے۔ جوانی سے پہلے ہی ان کے 1500 سے زائد عالم مرید ہو چکے تھے۔ آپ نے بخارا میں سید قاسم کی بیٹی سیدہ فاطمہ سے شادی کی جن سے دو بچے سید علی اور سید جعفر پیدا ہوئے۔ بیوی کی وفات کے بعد آپ اپنے دونوں بچوں کو لے کر بخارا سے پنجاب کے علاقے بھکر ہجرت کر گئے۔

فاطمہ (پہلی بیوی)

بخاری کی پہلی بیوی سیدہ فاطمہ، سید قاسم کی بیٹی تھی۔ بخاری اور فاطمہ کے دو بچے، علی اور جعفر تھا۔ 635ھ میں، فاطمہ کی موت کے بعد، بخاری بخارا سے بھکر ان کے دو بیٹوں کے ساتھ منتقل کر دیا گیا۔ علی اور جعفر بخارا میں دفن ہیں۔

زہرہ (دوسری بیوی)

بھکر میں، بخاری نے سید محمد امام مکی کے بیٹے سید بدرالدین کی بیٹی بی بی طاہرہ ( زہرہ ) سے شادی کی . زہرہ اور بخاری کے دو بیٹے تھے صدرالدین محمد غوث (جو پنجاب میں منتقل ہے ) اور بہاؤ الدین محمد معصوم . ان کی اولاد ٹھٹھہ، اوچ ( دیوگڑھ ) اور لاہور کے ارد گرد رہتے ہیں۔ صدرالدین محمد غوث کی بیٹی نے جہانیاں جہان گشت سے شادی کی۔

بی بی فاطمہ حبیبہ سعیدہ (تیسری بیوی)

زہرہ کی موت کے بعد، بخاری بدرالدین بھکری کی دوسری بیٹی، بی بی فاطمہ حبیبہ سعیدہ سے شادی کر لی . ان سے ایک بیٹا، سید احمد کبیر ( احمد کبیر ) تھے، جو مخدوم صدرالدین اورجہانیاں جہان گشت کا باپ تھا۔یہ تاریخ کی کتابوں کے اندر ذکر کیا جاتا ہے کہ سید صدرالدین، سید محی الدین اور سید شمس جو سید بدرالدین کے بھائی تھے اسے بخاری کو اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے پر اعتراض کیا اور اسے بھکر سے بخاری جلاوطن کیا۔

تبلیغ[ترمیم]

آپ نے سندھ اور پنجاب میں تبلیغ کی خاطر بہت سفر کیے۔ آپ نے سومرو، چدڑ، مزاری، وارن اور دیگر قبائل نے آپ کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ روایات کے مطابق آپ کی ملاقات چنگیز خان سے بھی ہوئی جو پہلے آپ کا مخالف تھا مگر بعد میں اس کے اپنی ایک بیٹی کی شادی سید جلال الدین سے کر دی جو مسلمان ہو گئی۔ اس کے علاوہ آپ نے دیگر شادیاں بھی کیں جن کی وجہ سے کئی مشہور اولیاء پیدا ہوئے۔ مثلاً سید محمد غوث، جلال الدین جہانیاں جہاں گشت وغیرہ۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں آپ کی کوششوں سے اسلام کو بہت تقویت ملی۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کی مشہور تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:

  • اخبار الاخیار
  • مظہرِ جلالی
  • ریاضۃ الاحباب
  • سیار الاقطار
  • سیار العارفین

ان کتابوں کے قلمی نسخے ان کی آل اولاد کے پاس ملتے ہیں جو اچ اور ملتان کے علاوہ ہندوستان و پاکستان کے دیگر شہروں میں رہتے ہیں۔

وفات[ترمیم]

آپ کا انتقال 95 سال کی عمر میں 19 جمادی الاول 690ھ (20 مئی 1294ء) کو ہوا۔ آپ کا مزار موجودہ بہاولپور کی تحصیل اچ شریف میں ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سید ارتضیٰ علی کرمانی، سیرت پاك حضرت عثمان مروندی۔ عنوان: حضرت سید جلال سرخ بخاری رحمۃ الله علیہ، صفحہ 73، مطبوعہ لاہور