سید جماعت علی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مزار پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری

سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری امیر ملت کے نام سے شہرت رکھتے ہیں

ولادت[ترمیم]

سید جماعت علی شاہ 1834ء میں علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔(ایک روایت 4/صفر 1320ھ بمطابق13 مئی 1902ءہے[1])

نسب[ترمیم]

امیر ملت کے والد نام حضرت پیر سید کریم شاہ تھا جو خود بھی عارف باللہ اور ولی کامل تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔ آپ کا سلسلہ نسب اڑتیس واسطوں سے حضرت علی المرتضیٰ تک پہنچتا ہے اور آپ کا شجرہ نسب ایک سو اٹھارہ واسطوں سے حضرت آدم تک پہنچتا ہے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

امیر ملت نے سات سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا۔ علوم دینیہ مولانا غلام قادر بھیروی ، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا قاری عبدالرحمن محدث پانی پتی اور مولانا احمد علی محدث سہارنپوری سے حاصل کیے۔ سند حدیث علما پاک و ہند کے علاوہ علما عرب سے بھی حاصل کی۔ ایک بار آپ نے بطورِ تحدیثِ نعمت فرمایا کہ مجھے 10 ہزار احادیث مع اسناد کے یاد ہیں۔

علم باطن[ترمیم]

علوم ظاہری کے بعد آپ فیوض باطنی کی طرف متوجہ ہوئے تو امام کاملین قطب زماں بابا جی فقیر محمد چوراہی کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہو کر اسی وقت خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔ اس پر مریدین نے اعتراض کیا تو باو ا جی نے فرمایا کہ جماعت علی تو چراغ بھی ساتھ لایا تھا، تیل بتی اور دیا سلائی بھی اس کے پاس موجود تھی، میں نے تو صرف اس کو روشن کیا ہے۔

دینی خدمات[ترمیم]

امیر ملت نے پچاس سے زیادہ حج کیے۔ سینکڑوں مسجدیں بنوائیں اور بے شمار دینی مدارس قائم کیے۔ سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ شہید گنج کی تحریک کے دنوں میں آپ نے ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور برہمنوں کے پراپیگنڈے کا سدباب کرنے کے لیے مبلغین کی ایک جماعت تیار کی جس نے قریہ قریہ اور شہر بہ شہر گھوم کر تبلیغ اسلام کی۔1935ء میں مسجد شہید گنج کے سلسلے میں راولپنڈی شہر میں عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا، جس میں پیر صاحب کو امیر ملت کا لقب دیا گیا۔ تحریک پاکستان کے لیے آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے سرپرست تھے۔1885 ءمیں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی اور 1901ء میں انجمن خدام الصوفیہ کی بنیاد رکھی ۔

علامہ اقبال اور امیر ملت[ترمیم]

علامہ اقبال کو امیر ملت سے گہری عقیدت تھی ۔ ایک بار امیر ملت کی صدارت میں انجمن حمایت اسلام کا جلسہ ہو رہا تھا۔ جلسہ گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ علامہ اقبال ذرا دیر میں آئے اور امیر ملت کے قدموں میں بیٹھ کر کہا: ”اولیا ءاللہ کے قدموں میں جگہ پانا بڑے فخر کی بات ہے۔“ یہ سن کر امیر ملت نے فرمایا: ”جس کے قدموں میں ”اقبال“ آ جائے اس کے فخر کا کیا کہنا۔“ علامہ اقبال کے آخری ایام کا ذکر ہے ۔ ایک محفل میں امیر ملت نے کہا: ”اقبال! آپ کا ایک شعر ہمیں بے حد پسند ہے۔“ پھر یہ شعر پڑھا: کوئی اندازا کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں علامہ اقبال کی خوشی دیدنی تھی چنانچہ آپ نے کہا: ”ولی اللہ کی زبان سے ادا ہونے والا میرا یہ شعر میری نجات کیلئے کافی ہے۔“

وفات[ترمیم]

26 ذیقد 1370ھ بمطابق 30 اگست 1951ء امیر ملت اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]