سید حامد حسین موسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علامہ سید حامد حسین موسوی، ہندوستان کے ایک مایہ ناز شیعہ عالم دین اور متکلم تھے۔

شہرلکھنؤ کے رہنے والے تھے،  متعدد کتابوں کے مؤلف تھے۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 5 محرم سنہ 1246ھ  مطابق 26 جون سنہ 1830ء کو شہر میرٹھ میں ہوئی۔ اس وقت آپ کے والد علامہ محمد قلی کنتوری میرٹھ میں سکونت پزیر تھے۔

آپ کے اجداد کا تعلق اصل میں ایران کے شہر نیشاپور سے تھا۔

تعلیم[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ پندرہ سال کا سن تھا کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا۔

مولوی برکت علی حنفی سے آپ نے مقامات حریری اور دیوان متنبی پڑھا اور علامہ مفتی سید محمد عباس شوشتری سے آپ نے نہج البلاغہ پڑھی۔

علوم عقلیہ کو علامہ سید مرتضی خلاصۃ العلماء سے حاصل کیا اور علوم شرعیہ میں علامہ سید محمد سلطان العلماء اور ان کے بھائی علامہ سید حسین سید العلماء سے کسب فیض کیا۔

تالیفات[ترمیم]

آپ نے عربی، فارسی اور اردو تین زبانوں میں کتابیں لکھیں۔

آپ کی صرف مشہور تالیفات کا نام یہاں درج کیا جا رہا ہے :

  1. عبقات الانوارفی امامۃ الائمۃ الاطہار :  علامہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اہل تشیع کے عقائد کی رد میں فارسی میں کتاب تحفۂ اثنا عشریہ لکھی،  جس کے جواب میں (صرف باب امامت کے جواب کے طور پر) آپ نے فارسی میں ہی کتاب عبقات الانوار لکھی،ـ جو آپ کی سب سے مشہور تالیف شمار ہوتی ہے اور متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔ لفظ عبقات، عربی زبان میں عبقۃ کی جمع ہے جس کے معنی نکہت اور خوشبو کے ہیں اور انوار یہاں پر نور کی جمع ہے (نون کے زبر کے ساتھ)، جس کے معنی غنچہ اور کلی کے ہیں۔ عبقات الانوار یعنی غنچوں کی خوشبوئیں۔ لفظ انوار یہاں پر نون کے پیش کے ساتھ نور یعنی روشنی کی جمع نہیں ہے۔
  2. إستقصاء الافحام واستيفاء الانتقام في رد منتهى الكلام : حیدر علی حنفی فیض آبادی کی کتاب منتہی الکلام کا جواب ہے۔
  3. شوارق النصوص في تكذيب فضائل اللصوص
  4. أسفار الأنوار عن حقائق أفضل الأسفار
  5. إفحام أهل المين في رد إزالة الغين
  6. صفحة الألماس في حكم الارتماس
  7. الغضب البتار في مبحث آية الغار
  8. زين الوسائل إلى تحقيق المسائل
  9. النجم الثاقب في مسألة الحاجب
  10. الذرائع في شرح الشرائع
  11. درة التحقيق
  12. الطارف

وفات اور مدفن[ترمیم]

18 صفر سنہ 1306ھ مطابق 24 اکتوبر سنہ 1888ء کو لکھنؤ میں آپ کی وفات ہوئی اور حسینیہ آیت اللہ غفرانمآب (لکھنؤ) میں آپ کو دفن کیا گیا۔

آپ کی وفات کے موقع پر ہندوستان کے علاوہ ایران اور عراق میں بھی وسیع پیمانہ پر سوگ منایا گیا۔

تاثرات علما[ترمیم]

”فلمّا وقفت بتأييد اللہ تعالی وحسن توفيقہ علی تصانيف ذی الفضل الغزير، والقدر الخطير، والفاضل النحرير، والفائق التحرير، والرائق التعبير، العديم النظير، المولوی حامد حسين“

  • علامہ سید حسن صدر : ”كان من أكابر المتكلّمين، وأعلام علما الدين، وأساطين المناظرين المجاھدين، بذل عمرہ في نصرۃ الدين، وحمايۃ شريعۃ سيّد المرسلين، والأئمّۃ الھادين، بتحقيقات أنيقۃ، وتدقيقات رشيقۃ، واحتجاجات برھانيۃ، وإلزامات نبويۃ، واستدلالات علويۃ، ونقوض رضويۃ“[1]
  • محدث نوری : ”السّد السديد، والركن الشديد، سبّاح عيالم التحقيق، سيّاح عوالم التدقيق، خادم حديث أھل البيت، ومن لا يشقّ غبارہ الأعوجی الكميت، ولا يحكم عليہ لو ولا كيت، سائق الفضل وقائدہ وأميرالحديث ورائدہ، ناشر ألويۃ الكلام، وعامر أنديۃ الإسلام، منار الشيعۃ، مدار الشريعۃ، يافعۃ المتكلّمين، وخاتمۃ المحدّثين، وجہ العصابۃ وثبتھا، وسيّد الطائفۃ وثقتھا، المعروف بطنطنۃ الفضل بين ولايتی المشرقين، سيّدنا الأجل حامد حسين“[2]
  • محدث شیخ عباس قمی : ”السيّد الأجل العلامۃ، والفاضل الورع الفھامۃ، الفقيہ المتكلّم المحقّق، والمفسّر المحدّث المدقّق، حجّۃ الإسلام والمسلمين، آيۃ اللہ فی العالمين، وناشر مذہب آبائہ الطاھرين، السيف القاطع، والركن الدافع، والبحر الزاخر، والسحاب الماطر، الذي شھد بكثرۃ فضلہ العاكف والبادی، وارتوی من بحار علمہ الظمآن والصادی“ [3]
  • علامہ مرزا ابوالفضل تہرانی : ”السيّد الجليل، المحدّث العالم العامل، نادرۃ الفلك وحسنۃ الھند، ومفخرۃ لكھنو وغرّۃ العصر، خاتم المتكلّمين، المولوی الأمير حامد حسين المعاصر الھندي اللّكھنوي قدّس سرّہ وضوعف برّہ“ [4]
  • علامہ سید محسن امین عاملی : ” كان من أكابر المتكلمين الباحثين عن أسرار الديانۃ والذابين عن بيضۃ الشريعۃ وحوزۃ الدين الحنيف علامۃ نحريرا ماھرا بصناعۃ الكلام والجدل محيطا بالاخبار والآثار واسع الاطلاع كثير التتبع دائم المطالعۃ لم ير مثلہ في صناعۃ الكلام والإحاطۃ بالاخبار والآثار في عصرہ بل وقبل عصرہ بزمان طويل وبعد عصرہ حتی اليوم ولو قلنا إنہ لم ينبغ مثلہ فی ذلك بين الاماميۃ بعد عصر المفيد والمرتضی لم نكن مبالغين “ [5]
  • علامہ شیخ عبد الحسین امینی : ”السيد الطاھر العظيم كوالدہ المقدس سيف من سيوف اللہ المشھورۃ علی أعدائہ، ورايۃ ظفر الحق والدين، وآيۃ كبری من آيات اللہ سبحانہ، قد أتم بہ الحجۃ، واوضح المحجۃ، واما كتابہ العبقات فقد فاح أريجہ بين لابتي العالم، وطبق حديثہ المشرق والمغرب، وقد عرف من وقف عليہ أنہ ذلك الكتاب المعجز المبين الذی لا يأتيہ الباطل من بين يديہ ولا من خلفہ، وقد استفدنا كثيرا من علومہ المودعۃ في ھذا السفر القيم، فلہ ولوالدہ الطاھر منا الشكر المتواصل، ومن اللہ تعالی لھما أجزل الأجور“ [6]
  • علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی : ”کان کثیر التتبع واسع الاطلاع والاحاطۃ بالآثار و الاخبار والتراث الاسلامی، بلغ فی ذالک مبلغا لم یبلغہ احد من معاصریہ ولا المتاخرین عنہ بل ولا کثیر من اعلام القرون السابقۃ، افنی عمرہ الشریف فی البحث عن اسرار الدیانۃ والذب عن بیضۃ الاسلام و حوزۃ الدین الحنیف ولا اعہد فی القرون المتاخرۃ من جاھد جھادہ و بذل فی سبیل الحقائق الراھنۃ طارفہ و تلادہ، ولم تر عین الزمان فی جمیع الامصار و الاعصار مضاھیا لہ فی تتبعہ و کثرۃ اطلاعہ و دقتہ و ذکائہ و شدۃ حفظہ و ضبطہ “ [7]

مآخذ و مصادر[ترمیم]

  1. تكملۃ امل الآمل، ج: 2
  2. تقریظ بر عبقات الانوار
  3. الفوائد الرضويۃ، ج: 1، ص: 91
  4. شفاء الصدور في شرح زيارۃ العاشور
  5. اعيان الشيعۃ، ج: 4، صفحہ: 381
  6. الغدير في الكتاب والسنّۃ والادب، ج : 1، صفحہ : 157
  7. نقباء البشر في القرن الرابع عشر، ج: 1، صفحہ: 347